ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مولانا مجیب الرحمن انقلابی

ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مولانا مجیب الرحمن ...

  

برائے اشاعت 10 رمضان المبارک یوم وفات

ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنھاکے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ! جب لوگوں نے مجھ پر ایمان لانے سے انکار کیا تو وہ مجھ پر ایمان لائیں، جب لوگوں نے مجھے معاش سے محروم کر دیا تو انھوں نے مال سے میری مدد کی، جب خدا نے دوسری بیویوں سے مجھے اولاد سے محروم رکھا تو ان سے مجھے اولاد عطا فرمائی۔حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو عورتوں میں سے سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی ہونے کی سعادت بھی حاصل ہے، عمر میں بڑی ہونے کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ ؓ سے نکاح فرمایا اور آپؓ کے ہوتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں فرمایا، آپؓ نے پچیس برس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت و خدمت میں بیوی ہونے کی حیثیت سے گزارے اور اپنی تمام دولت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر نچھاور کر دی…… حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ ؓ کے بارے میں ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جنت کے ایک ایسے گھر کی خوشخبری سنائی جو تازہ آبدار مراویدیاز برجد (موتی) کا ہو گا جس میں شور ہو گا اور نہ ہی رنج و ملال۔

ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ حسنِ سیرت، اعلیٰ اخلاق، بلند کردار، عزت و عصمت اور شرافت و مرتبہ کی وجہ سے مکہ مکرمہ اور اردگرد کے علاقوں میں ”طاہرہ“ کے خوبصورت اور پاکیزہ لقب سے مشہور تھیں، آپؓ کا سلسلہ نسب ”قصی“ پر پہنچ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے مل جاتا ہے۔ ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ کے والد خویلد کا شمار مکہ کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا تھا جو کہ بہت بڑے اور کامیاب تاجر تھے، عام روایت کے مطابق حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ ”عام الفیل“ سے پندرہ برس قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں تھیں، آپؓ کی تربیت و پرورش انتہائی نازو نعم میں ہوئی…… آپؓ کے اعلیٰ اخلاق، بلند کردار، دولت و شرافت اور عزت کی وجہ سے قریش کے بڑے بڑے سرداروں نے آپؓ کو کئی بار نکاح کا پیغام بھیجا لیکن آپؓ نے بڑی حکمت اور خاموشی سے رد کر دیا۔ آپؓ کے پاس مال و دولت اور سامان تجارت کی کثرت تھی، آپؓ خود لکھنا پڑھنا جانتی تھیں جس کی وجہ سے آپؓ اپنے کاروبار اور سامان تجارت کی خود نگرانی کیا کرتی تھیں جس کی وجس کی وجہ سے آپؓ کا تجارتی کاروبار شام اور یمن تک پہنچ گیا تھا، آپؓ کا تجارتی قافلہ سب سے بڑا ہوتا تھا اور آپؓ اپنا سامان تجارت مختلف لوگوں کے ذریعہ شام اور یمن تجارت کی غرض سے بھیجا کرتی تھیں اور ان کو بھی منافع میں شریک کر لیتیں، آپؓ کے تجارتی قافلوں کی نگرانی آپؓ کے قابل اعتماد اور معاملہ فہم غلام مسیرہ کیا کرتا تھا…… ابن ہشام اور دیگر روایات کے مطابق ایک روز آپؓ کے غلام مسیرہ نے آپؓ سے حضرت محمد بن عبد اللہ (ﷺ) کی امانت و دیانت، شرافت اور عالی نسب کا ذکر کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ اس مرتبہ تجارتی قافلہ کا نگران اور شریک حضرت محمد بن عبد اللہ (ﷺ) کو بنا کر بھیجا جائے…… اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیانت دار تاجر کی حیثیت سے مشہور تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیانت دار تاجر کی حیثیت سے مشہور تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صادق اور امین کے لقب سے پکارے جاتے تھے…… ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ نے غلام مسیرہ کے مشورہ کو مانتے ہوئے اس سلسلہ میں مسیرہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کرنے کیلئے کہا…… حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا اور سرپرست ابو طالب کے مشورہ سیام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ کی اس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے غلام مسیرہ کے ہمراہ تجارتی قافلہ کو لے کر شام کے سفر پر روانہ ہو گئے…… دو ماہ بعد جب تجارتی قافلہ واپس آیا تو حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے غلام مسیرہ نے حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ کو ان الفاظ میں شام کے تجارتی قافلہ اور سفر کے حالات و واقعات بیان کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں کافی عرصہ سے آپؓ کی خدمت میں ہوں اس دوران ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ میرا واسطہ پڑا لیکن محمد بن عبد اللہ (ﷺ) کی رفاقت میں جو کچھ میں نے دیکھا وہ عجیب تر ہے، میں نے محمد بن عبد اللہ (ﷺ) کو مشکلات میں بلند حوصلہ، مصائب میں پرسکون، ہجوم میں باوقار اور خرید و فروخت میں انتہائی ذہین و فہیم اور دور اندیش دیکھا ہے، وہ بردبار اور متحمل مزاج نوجوان ہیں ان کی خاموشی میں وقار اور گفتگو میں دلکشی ہے، ان کے منہ سے کوئی فضول بات نہیں نکلتی، لوگ اگر ان کو صادق و امین کہتے ہیں تو حقیقت کا برملا اعتراف کرتے ہیں ان کے موتی جیسے دانتوں سے نور کی شعاعیں نکلتی ہیں، پسینہ انتہائی خوشبودار ہے وہ دن کی روشنی میں حسین اور رات کی روشنی میں حسین تر نظر آتے ہیں ان کی سوچ بہت وسیع اور کردار میں تنہا و یکتا وہ لاکھوں میں ایک اوراپنی مثال آپ ہیں آپؓ تجارت ان کے سپرد کر دیں بس کاروبار چمک اٹھے گا…… غلام مسیرہ نے مزید کہا کہ جب دوران سفر ”بصرٰی“ کے مقام پر پہنچے اور ایک درخت کے سائے میں ٹھہرے تو اس خانقاہ کے راہب ”نسطورا“ نے مجھے بلایا اور پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ میں نے جواب میں کہا کہ یہ بنو ہاشم کے گھرانے کا ایک پاکباز نوجوان ہے، تو نسطورا نے کہا کہ اس درخت کے نیچے نبی کے سوا کوئی نہیں ٹھہرتا پھر اس نے مجھ سے محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں سرخی کے بارے میں دریافت کیا اور جب میں نے بتایا کہ ان کی آنکھوں میں سرخ ڈورے ہر وقت موجود رہتے ہیں تو نسطورا بولا کہ وہ یقینا نبی آخرالزماں ہیں …… دوسرے روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کے تجارتی سفر کا حساب کتاب پیش کیا، اس دفعہ حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ کو توقع سے بڑھ کر نفع ہوا تھا (بحوالہ کتاب خدیجۃ الکبرٰیؓ ص ۹۱)

کاروبار تجارت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت و امانت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی نے حضرت سیدہ خدیجۃ الکبرٰیؓ کی طبیعت پر گہرا اثر ڈالا…… حضرت سیدہ خدیجۃ الکبرٰیؓ نے اپنی عزیز ترین سہیلی نفیسہ کے ذریعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نکاح کا پیغام بھیجا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا اور سرپرست ابو طالب کی اجازت و رضا مندی کے بعد نکاح کے اس پیغام کو قبول کیا……

مقررہ تاریخ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب نے ملت ابراہیمی کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح پڑھایا نکاح کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 25 پچیس برس اور حضرت سیدہ خدیجۃ الکبرٰیؓ کی عمر 40 چالیس برس، ابن سعد نے مہر کی رقم پانچ سو درہم بتائی ہے جبکہ ابن ہشام نے بیس اونٹنیوں کا ذکر کیا ہے۔ دعوت ولیمہ میں گوشت اور روٹی کا انتظام تھا، شادی کے دو اڑھائی سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اولاد جیسی نعمت سے نوازتے ہوئے فرزند سعید عطا کیا، جس کا نام قاسمؓ رکھا گیا جس کی نسبت کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابو القاسم کہلانے لگے اور ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبرٰیؓ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو القاسم کہہ کر مخاطب کیا کرتی تھیں …… جب قاسمؓ تھوڑ سا چلنے لگے اچانک بیمار ہو کر وفات پا گئے…… قاسمؓ کی وفات کے اڑھائی سال بعد اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت سیدہ زینبؓ جیسی سعادت مند بیٹی سے نوازا، اس کے بعد یکے بعد دیگر حضرت سیدہ رقیہؓ، حضرت سیدہ ام کلثومؓ اور حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراؓآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں پیدا ہوئیں …… جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 39 برس سے زائد ہو گی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے اڑھائی میل دور غار حرا میں عبادت کے لئے تشریف لے جاتے…… ابن ہشام کی ایک روایت کے مطابق ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبرٰیؓ بھی کبھی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہاں عبادت کے لئے جایا کرتی تھیں ……

غار حرا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور آپ ﷺ نبوت و رسالت کا اعلیٰ منصب پر فائز ہو جاتے ہیں …… اور دعوت و تبلیغ کا سلسلہ شروع فرماتے ہیں …… دوسری طرف کفار نے آپ ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والے صحابہ کرامؓ کو مختلف انداز میں ستانا اور تکلیفیں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا…… شعب ابی طالب میں تین سال کا عرصہ مسلمانوں نے انتہائی دکھ، تکلیفوں، اذیتوں اور مصیبتوں میں گزارا…… ان قیامت خیز لمحات اور آزمائش کی گھڑیوں میں ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبرٰیؓ نے بھی بڑے صبرواستقامت کا مظاہرہ کیا اور اس دوران ہر ممکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اور آرام کا خیال کیا، جبکہ اپنا تمام مال و دولت پہلے ہی اللہ کے راستہ میں قربان کر چکی تھیں …… اور شعب ابی طالب میں ہی آپؓ کی صحت تیزی سے گرنے لگی، ناقص خوراک اور تفکرات کے ہجوم کی وجہ سے آپؓ کی طبیعت خراب رہنے لگی…… حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے چند روز بعد ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لانے والی خاتون اور رفیقہ حیات بن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں 25 پچیس برس گزارنے کے بعد ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبرٰیؓ 10 رمضان المبارک کو 65 برس کی عمر میں وفات پا گئیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قبر میں اتر کرام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبرٰیؓ کو دفن فرمایا…… اور ہمیشہ ان کو یاد کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے…… آپ صلی اللہ علیہ وسلم چچا ابو طالب کی وفات کے بعد رفیقہ حیات حضرت سیدہ خدیجۃ الکبرٰیؓ کی وفات کی وجہ سے غمگین رہنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سال کو ”عام الحزن (غم کا سال) قرار دیا……

مزید :

ایڈیشن 1 -