فتح مکہ: طاقت اور غلبے کی عنایت کا دن

فتح مکہ: طاقت اور غلبے کی عنایت کا دن

  

رمضان المبارک،یوم فتح مکہ

علامہ قاری محمد زوار بہادر

قرآن حکیم فرقان حمید میں اللہ تعالیٰ نے سورہ النصر میں ارشاد فرمایا کہ ”جب اللہ کی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے ہیں تو اپنے رب کی ثنا کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کرو اور اس سے بخشش چاہو بیشک وہ ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔“

قرآن کریم کی اس سورہ میں فتح مکہ کی نوید سنائی گئی ہے فتح مکہ 10رمضان المبارک سنہ 8 ہجری میں ہوئی رسول اکرمﷺ 8 سال قبل اسی شہر پاک مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تھے۔۔صرف8 سال بعد اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کو ایسی طاقت اور غلبہ عطاء فرمایاکہ وہی مکہ مکرمہ جہاں سے غریب اور نادار مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے تھے آج محبوب خدااس شان شوکت کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہورہے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ فتح مکہ کا وعدہ تو اللہ پاک نے اپنے محبوبﷺ سے کرلیا تھا اس کا سبب مسلمانوں کے حمایت یافتہ قبیلے بنو خزاعہ پرقبیلہ بنو بکر کے حملے سے ہوا۔ جب سرکار دو عالمﷺ نے حدیبیہ میں صلح فرمائی اور عہد نامہ لکھا گیا اس سے دونوں فریق مطمئن ہو گئے لیکن بنوبکرنے خلاف ورزی کرتے ہوئے رات میں بنوخزاعہ پر حملہ کردیا بنوبکر کے ساتھ قریش بھی اس قتل و غارت گرمی میں ہمنوا ہو گئے ان کے ذہن میں یہ رہا کہ سرکار دو عالمﷺ کو اس واقعہ کی خبر نہ ہو گی لیکن صبح ہونے پر انہیں احساس ہوا کہ ہم نے یہ کیا کیا، ہم نے تو اللہ کے رسولﷺ سے باقاعدہ معاہدہ کیا تھا اور خود ہی توڑ ڈالا لیکن اب پچھتانے سے کیا فائدہ؟ جب ذرا جوش کم ہوا اور ہوش آیا تو بڑی شرمندگی ہوئی اور ابوسفیان (اس وقت مسلمان نہ تھے)کو فوراً روانہ کیا۔ ابو سفیان بار گاہ رسالتﷺ میں پہنچے اور مدعا بیان کیا لیکن لسان نبوت سے جواب نہ ملا تو دوڑے سیدنا صدیق اکبرؓ کی خدمت میں،وہاں بھلا کیسے پذیرائی ہو سکتی تھی جب دربار صدیقی سے محرومی ملی پھر دوڑے سیدنا فاروق اعظمؓ کی خدمت میں،وہاں سے بھی جواب ملا پھر شیر خدا سیدنا علی مرتضیٰؓ کے کاشانہ مبارک پر حاضری دی اور حضرت علیؓ و حضرت فاطمہؓ سے درخواست کی کہ حضرت امام حسنؓکے ذریعے ہمیں امان دلوائی جائے سیدہ نے یہ کہ کر منع کردیا کہ وہ ابھی نابالغ ہیں اپنے والد کی موجودگی میں کچھ نہیں کر سکتے۔لیکن سب جگہوں سے ایک ہی جواب تھا مجبوراً ابوسفیان ناکام لوٹے اس کے بعد دربار نبوتﷺ سے حکم ہوا کہ خاموشی سے مخفی طور پر مکہ مکرمہ کی تیاری شروع کردیں۔ آس پاس کے قبائل کو بھی مطلع کردیں۔ لیکن اس کا اعلان نہ ہو، کسی اور کو خبر نہ ہو۔ اس حکم مبارک کے ملتے ہی اللہ کے محبوبؐ کے جاں نثاروں کی یہ عظیم جماعت تیار ہو کر فتح مکہ کے ارادے سے نکل کھڑی ہوئی۔ محدثین کرام نے ان دین کے سپاہیوں شمع رسالت کے پروانوں کی تعداد تقریباً10 ہزار بتلائی ہے۔ اس وقت دھرتی پر سب سے مقدس و مبارک افراد کا یہ عظیم الشان سمندر پیدل اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے حق تعالیٰ کی رضا مندی کیلئے دیوانہ وار سفر کررہا تھا۔ ابھی یہ سفر جاری تھا کہ ایک جگہ لشکر اسلام کا پڑا ؤ ہوا، خیمے نصیب ہوئے اور آلاؤ روشن کرنے کا حکم ہوالشکر اسلام کے اس پڑاؤ سے قریش بے خبرتھے حضرت عباسؓ حضور اکرمﷺ کی سواری پرچکر لگا کر پہرہ دے رہے تھے کہ ابو سفیان نظر آئے، پرانی دوستی تھی جا پکڑا اور فرمایا کہ اسلام لے آؤ اور اپنے ہمراہ سواری پر بیٹھالیااور مختلف لوگوں کے گروہوں کے قریب سے ہوتے ہوئے گزر رہے تھے کہ اتفاقاً حضرت سیدنا عمر فاروق ؓکی نظر پڑ گئی۔ نظر پڑنا تھی، دشمن تو حیدورسالت ہاتھ آگیا لیکن حضرت عباسؓنے دوست کو بچاتے ہوئے دربار نبوت میں لاکھڑا کیا پیچھے حضرت عمرؓ ہاتھ میں تلوارلئے تیار تھے کہ زبان نبوت سے حکم ہواور وہ ابوسفیان کی گردن اڑادے لیکن رحمت مجسمﷺکا حکم ہوا عباسؓاسے اپنے خیمہ میں لے جاؤ صبح لانا صبح ہوئی تو حضرت عباسؓ، ابوسفیان کو لے کر دربار نبوت میں حاضر ہوئے سرکار دو عالمﷺ نے تعلیمات اسلام پیش کیں اور اس طرح اسلام کا دشمن ابوسفیان حق پرست مومن اور صحابی رسولٖﷺکے اعزاز سے نوازا گیا اور قیامت تک آنے والے ہر مسلمان کیلئے واجب الاحترام و التعظیم ہو گیا۔ مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد سیدنا ابوسفیان اجازت لے کر مکہ مکرمہ آئے اور سب کو اعلان حق سنایا کلمہ طیبہ کی طرف دعوت دی اور برملایہ بتلا دیا کہ تم میں سے کسی کی جرأت نہیں ہے کہ تم سید الانبیاءﷺ کا مقابلہ کرسکو، ان کا لشکر ایسا ہے جس سے تمہارا مقابلہ ممکن نہیں ہے لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ ایمان لے آؤ اس اعلان کا اثریہ ہوا کہ لوگ سراسیمہ ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔کسی نے حضرت ابوسفیان کے گھر پناہ لی کسی نے حرم میں پناہ لی۔دنیا کی معززترین ہستی مع اپنے دس ہزار نفوس قدسیہ کے جب20 رمضان المبارک 8ھ کو مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو انتہائی تواضع وانکساری کے ساتھ انتہائی ادب و احترام کے ساتھ سورۂ انا فتحنا لک فتحا مبیناo زبان نبوت پر جاری تھی آپ کے اور صحابہ کرامﷺکے کسی عمل سے کسی قسم کا کبربڑائی شاہانہ پن نہیں ٹپک رہا تھا بلکہ عاجزی انکساری اور اللہ کی خشیت کے آثار چہروں پر ظاہر ہو رہے تھے۔ اللہ کے محبوب کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ گردن مبارک جھکی جارہی تھی اور فرمارہے تھے کہ اللہ نے وعدہ پورا کردیا پھر اذاجاء نصراللہ کی تلاوت فرمائی۔ حضورﷺ اور صحابہ کرامﷺ کو وہ منظر بھی یاد تھا جب انہیں اسی سرزمین مکہ پر مصائب و تکالیف کا سامنا تھا اور کس قدر صبرو تحمل کے ساتھ ہجرت کرنا پڑی تھی، حضورﷺ نے صحابہ کو حکم دیا تھا کہ کوئی قتال میں پہل نہ کرے اگر کوئی مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکے تو قتال کرنا۔کوئی اور ہوتا تو فتح کی خوشی میں مست ہو جاتا لیکن آپﷺ نے فتح کی خوشی میں آٹھ رکعت نماز ادا فرمائی اس کے بعد آپﷺنے خانہ کعبہ کا طواف فرمایا اس وقت خانہ کعبہ میں 360بت تھے۔ آپ ﷺ بتوں کی طرف بڑھے اور جاء الحق وزھق الباطل (حق آگیا اور باطل چلا گیا) پڑھ کر عصائے مبارک سے اشارہ فرماتے کفار کے جعلی خدا منہ کے بل گرتے جاتے۔طواف سے فراغت کے بعدکعبتہ اللہ کی کنجی لی اور کھلوایا تصاویر دیکھ کر مٹانے کا حکم فرمایا آب زم زم سے دھلوایا پھر نماز ادا فرمائی ایک بار پھر سے مکہ کی سرزمین نعرہ تکبیر کے پرجوش نعروں سے گونج اٹھی اس وقت آپ کے ہمراہ سیدنا بلال حبشی و سیدنا اسامہ بن زیدؓ تھے جب باہر تشریف لائے تولوگوں کا ہجوم جمع تھا آپ نے ایسا فصیح وبلیغ خطبہ ارشاد فرمایا جو آج تک محدثین نے ذخیرہ احادیث میں محفوظ کررکھا ہے۔ آج وہ سب مجرم موجودتھے جنہوں نے حضور اکرمﷺ اور صحابہ کرامؓکے ساتھ ذلت آمیز برتاؤ کئے تھے(جن سے آج تک زمین و آسمان شرمندہ ہیں) سب لرزہ براندام تھے کہ آج مسلمان نجانے کیا برتاؤ کریں آنحضرتﷺنجانے کیا سزا تجویز فرمائیں لیکن آپﷺ چونکہ رحمتہ اللعالمین تھے اس لیے وہ تاریخی جملہ فرمایا جو قیامت تک مشعل راہ ہے۔ (تم پر آج کوئی عتاب اور گرفت نہیں ہے جاؤ تم سب آزاد ہو)

مزید :

ایڈیشن 1 -