سکھر میں لاک ڈاؤ ن کے باوجود بڑے پیمانے پر مارکیٹیں کھل گئیں

سکھر میں لاک ڈاؤ ن کے باوجود بڑے پیمانے پر مارکیٹیں کھل گئیں

  

سکھر(این این آئی)کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور لاک ڈاؤن کے باوجود سکھر کے تاجروں نے حکومت سندھ کے احکامات ہوا میں اڑادیئے ہیں، شہر سکھر کے اہم کاروباری و تجارتی مرکز شاہی، بازار، کپڑا مارکیٹ، نشتر روڈ، شہید گنج، غریب آبادنیم کی چاڑی، گھنٹہ گھر، پان منڈی، اسٹیشن روڈ، ریس کورس روڈ، نیو پنڈ، مائیکرو کالونی، سمیت دیگر کاروباری و تجارتی مارکیٹیں کھول دی گئی ہیں، مراکز کھول جانے کے بعد شہریوں کی بڑی تعدادنے خریداری کیلئے ان بازاروں کا رخ کر لیا ہے بازار کھول جانے کے بعدجہاں مختلف بازاروں میں لوگوں بالخصوص خواتین کا رش بڑھ رہا ہے ویہی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو خدشہ بھی بڑھ رہا ہے سکھر کے مذہبی، سیاسی، سماجی رہنماؤں مظفر علی، غلام اکبر، مفتی اعظم، عرفان علی، شہمیر علی، مولانا حضور بخش، عبدالقدیر، مولانا عبدالستار بروہی و دیگر نے سکھر انتظامیہ کی جانب سے لاک ڈاؤن پر سختی سے عملدر آمد نہ کرانے والے عمل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کی ہیٹ لسٹ پر سکھر ہے لیکن افسوس تاجر برادری نے پولیس کو رشوت دیکر اپنی دکانیں کھولنا شروع کر دی ہیں تاکہ رمضان اور عید سیزن منافع کیساتھ کما سکیں، جبکہ پولیس نے بھی تاجربرادری کا ساتھ دیتے ہوئے عید مہم کا آغاز کر دیا ہے ایسا لگتا ہے کہ سکھر میں قانون نام کی چیز ختم ہو گئی ہے شہر کے تھانہ انچارج نے تاجروں کی بھاری رقم کی آفر پر لیبک کہہ کر شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنا شرو ع کر دیا ہے مذکورہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جب لاک ڈاؤن پر عملدر آمد کیلئے بازاروں کو خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا تو تاریں ہٹا کر تاجر برادری کو کاروبار کی اجازت کیوں دی گئی اگرسکھر پولیس نے بازاریں کھولنے کی تاجروں کو اجازت دی ہے تو مساجد اور مدارسوں سمیت دیگر عبادتگاہوں پر لاک ڈاؤن کی ڈرامے بازی تو نہ کریں اگر سکھر پولیس نے اپنا روئیہ درست نہ کیا تو علماء کرام کو مجبوراً مساجد کے دروازے بھی کھولنے پڑ جائینگے۔

سکھر لاک ڈاؤن

مزید :

صفحہ آخر -