افریقہ، جنوبی ایشیامیں ٹڈی دل کی تیزی سے افزائش اور ہجرت، کورونا سے بدحال معیشتوں کو غذائی بحران کا شدید خطرہ: ایف اے او

افریقہ، جنوبی ایشیامیں ٹڈی دل کی تیزی سے افزائش اور ہجرت، کورونا سے بدحال ...

  

کراچی(این این آئی)اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) نے حالیہ رپورٹ میں پاکستان سمیت متعدد خطے کے ممالک میں ٹڈی دل کے حملوں سے غذائی تحفظ کے بحران کا خدشہ ظاہر کردیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ٹڈی دل کی صورتحال‘ کے عنوان سے رپورٹ میں جنوب مغربی ایشیا سے ٹڈی دل کی ہجرت، مختلف ممالک میں اس کے حملے، پاکستان کی زراعت پر انحصار کرنے والی معیشت پر اس کا اثر سمیت پاکستانی حکومت کی اس کو روکنے کے لیے اقدامات اور ابھرتی ہوئی صورتحال کو نمایاں کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان اور ایران کو سب سے زیادہ خطرے کا سامنا ہے کیونکہ ان علاقوں میں ٹڈیوں کی افزائش ہورہی ہے۔بلوچستان میں 60 فیصد، سندھ میں 25 فیصد اور پنجاب میں 15 فیصد ٹڈی دل کی افزائش گاہیں ہیں جبکہ اگر انہیں ان کی افزائش کی جگہ تک روکا نہیں کیا تو پورا ملک اس کے حملے کے خطرے میں ہوگا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ آنے والے ہفتوں /مہینوں میں ایران کے جنوبی حصے، ایران اور بلوچستان کے سرحدی علاقے، عمان اور مشرقی افریقہ کے سرحدی علاقوں سے ٹڈیوں کے ہجوم پاکستان ہجرت کریں گے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مشرقی افریقہ میں موجودہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے کیونکہ نئی نسل پیدا ہورہی ہے جس کی وجہ سے مزید ہجوم اکٹھے ہورہے ہیں،کیونکہ یہ طویل بارش کے آغاز اور پودے لگانے کے موسم کے ساتھ ساتھ سامنے آرہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ چونکہ اب یہ موسمی برسات کے آغاز کا وقت ہے، ایک اور ٹڈی دل کی نسل کی افزائش ہوگی جس سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ مشرقی افریقہ میں ٹڈیوں کی تعداد میں ڈرامائی اضافے کا سبب بنے گی، پاکستان میں نقصانات کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر ان علاقوں میں کنٹرول آپریشن مکمل طور پر مؤثر نہیں ہے جہاں ربیع کی فصلوں جیسے گندم، مرچ اور تلسی موجود ہیں، تاہم انہیں بہت ہی قلیل مدت میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔یہ اندازہ لگایا گیا ہے،گندم، چنے اور آلو کی25 فیصد پیداوار تباہ ہو جائیگی۔ رپورٹ کے مطابق ٹڈی دل کی تین نسلوں کی افزائش ہوئی اور ٹڈیوں کی تعداد میں سال 2018 کے وسط سے لے کر 2019 کے اوائل تک اس علاقے میں 8 ہزار گنا اضافہ ہوا ہے۔مئی کے آخر تک ٹڈی دل بہار والے علاقوں اور جنوب مشرقی ایران کے ملحقہ علاقوں سے پاک بھارت سرحد کے دونوں اطراف کے موسم گرما کے علاقوں میں منتقل ہونا شروع ہوجائیں گی جو جون تک جاری رہے گی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اس سال صورتحال کئی دہائیوں سے بری ہے، جون کے آخر میں اور جولائی کے دوران مشرقی افریقہ میں ٹڈی دل کے حملے کا دوسرا خطرہ بھی موجود ہے۔

ٹڈی دل

مزید :

صفحہ اول -