کورونا سے جانی نقصان کم، معاشی زیادہ، حکومت کی آمدنی میں 119ارب روپے کمی، 10لاکھ چھوٹے ادارے بند، ایک کروڑ 80لاکھ افراد بیروز گار ہونے کا خدشہ: اسد عمر، مزید 24افراد جاں بحق، 1312نئے کیس رپورٹ

        کورونا سے جانی نقصان کم، معاشی زیادہ، حکومت کی آمدنی میں 119ارب روپے ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کورونا وائرس کی صورتحال اور ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار کی بندش کی وجہ سے ایک کروڑ 80 لاکھ افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔اسلام آباد میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے باعث عائد کردہ موجودہ پابندیوں کا 9 مئی تک اطلاق رہے گا، اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت اجلاس ہوگا جس میں اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ قومی رابطہ کمیٹی 9 مئی کے بعد کی حکمت عملی سے متعلق فیصلہ کرے گی۔اسد عمر نے کہا گزشتہ چند دنوں میں کورونا وائرس سے اموات میں اضافہ ہوا جو اچھی خبر نہیں، ہلاکتوں کی سرخ لکیر عبور ہو چکی ہے اور روزانہ 24 اموات ہو رہی ہیں لیکن آبادی کے تناسب کے حساب سے پاکستان میں یہ شرح کم ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ پاکستان میں بیماری اتنی مہلک ثابت نہیں ہوئی جتنی یورپ میں ہوئی، پاکستان کے مقابلے میں امریکا میں 58 گنا اور برطانیہ میں 124 گنا زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کورونا سے زیادہ لوگ ٹریفک حادثات میں ہلاک ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم ٹریفک کو اجازت دیتے ہیں، اگر یہ ذہن میں بیٹھا لیں کہ کورونا سے اموات کو صفر کرنا ہے تو اس کے لیے ایسے اقدامات کرنے پڑیں گے جو انسانوں کے لیے اتنے زیادہ مہلک ہوں گے جو کوئی برداشت نہیں کر سکتا، پاکستان میں ایک ماہ میں اوسطا 4 ہزار 800 سے زیادہ لوگ ٹریفک حادثات میں ہلاک ہوجاتے ہیں، لیکن ہم ٹریفک کو پھر بھی اجازت دیتے ہیں اور گاڑی سڑک پر چلتی ہے، کیونکہ ٹریفک پر پابندی زیادہ نقصان دہ ہے۔اسد عمر نے کہا کہ یہ بیماری دنیا میں جتنی مہلک ہے اتنی ہمارے ہاں نہیں، لیکن معاشی نقصان زیادہ ہے۔ لاک ڈاؤن سے معاشی طور پر حکومت کو آمدنی میں 119 ارب روپے کا نقصان ہوا، روزگار میں بڑے پیمانے پر کمی آئی۔انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایک کروڑ 80 لاکھ افراد بے روزگار جبکہ 10 لاکھ چھوٹے ادارے ہمیشہ کے لیے بند ہو سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ کے لیے ملک بند کرکے بیٹھ نہیں سکتے۔ ہمارا ہدف صحت کے نظام کو مضبوط کرنا ہے۔ ہم آہستہ آہستہ بندشیں کم کریں گے اور روزگار کے مواقع بڑھائیں گے۔اسد عمر نے مزید کہا کہ کورونا کو مکمل ختم کرنا ممکن نہیں، اس کا پھیلاؤ کم کیا جاسکتا ہے، یورپ سمیت دنیا کے بہت سے ممالک آہستہ آہستہ روزگار کے پہیے کو چلانے کے لیے بندشیں کم کررہے ہیں، ہمیشہ کے لیے ملک بند کرکے بیٹھ نہیں سکتے، ہمارا ہدف صحت کے نظام کو مضبوط کرنا ہے، ہمارا صحت کا نظام پچھلے 2 ماہ کے مقابلے میں اب بہتر ہے، فوری طور پر ملک کو اس لیے نہیں کھول سکتے کہ کہیں ہمارے صحت کے نظام پر خدانخواستہ اتنا بوجھ آئے کہ وہ مفلوج نہ ہوجائے۔'2 ماہ میں مزید 900 وینٹی لیٹرز آجائیں گے‘انہوں نے بتایا کہ ’ہم اپنے صحت کے نظام کی صلاحیت کو بہت آگے لے گئے ہیں، ہمارے پاس اس وقت ایک ہزار 400 وینٹیلیٹرز موجود ہیں اور آئندہ دو ماہ میں مزید 900 کا اس میں اضافہ ہوجائے گا۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت کورونا وائرس کے صرف 35 مریض وینٹیلیٹرز پر موجود ہیں۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ ملک میں اب اپنی طبی ا?لات بنانے کی صلاحیت ہے اور جلد ہم وینٹی لیٹرز کی مقامی پیداوار کا ا?غاز کردیں گے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت 55 پوری طرح فعال لیبز موجود ہیں جن میں تقریباً روزانہ 14 ہزار کورونا ٹیسٹ کرانے کی صلاحیت ہے۔وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ، ٹریکنگ اور قرنطینہ کا نظام پوری طرح سے فعال بنایا گیا ہے۔اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کا اگر یورپ اور امریکا اور اسپین سے موازنہ کریں تو ان کے مقابلے میں اتنی مہلک نہیں اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کے لیے معاشی بندشیں کورونا وائرس سے زیادہ مہلک ہیں۔ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال پر پریس بریفنگ دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں کورونا سے اموات میں اضافہ ہوا ہے، صرف 6 دنوں میں روزانہ اوسطاً 24 اموات رپورٹ ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود دنیا میں کورونا وبا جتنی مہلک ہے پاکستان میں اتنی مہلک نظر نہیں آ رہی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارا صحت کا نظام پچھلے 2 ماہ کے مقابلے میں اب بہتر ہے، ہم کورونا ٹیسٹنگ کی صلاحیت بڑھاتے جا رہے ہیں اور اس وقت کورونا کے ٹیسٹ کے لیے ملک میں 55 لیبارٹریز فعال ہیں۔

اسد عمر

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان میں کورونا سے مزید 24 افراد جاں بحق ہو گئے جس کے بعد، ہلاکتیں 459 اور مریضوں کی تعداد 20134 ہوگئی خیبرپختونخوا اور سندھ میں 8، 8، پنجاب میں 6 اور بلوچستان میں 2 افراد جاں بحق ہوئے، ملک میں 1312 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی مصدقہ مریضوں کی تعداد 20134 تک جاپہنچی ہے۔اب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 180 افراد انتقال کر چکے ہیں جب کہ سندھ میں 130 اور پنجاب میں 121 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 21، اسلام آباد 4 اور گلگت بلتستان میں 3 افراد مہلک وائرس کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔خیبرپختونخوا میں بھی 8 افراد جاں بحق اور 222 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ بلوچستان میں 2 اموات اور 46 نئے کیسز، اسلام آباد میں 28، گلگت میں 8 اور آزاد کشمیر میں 5 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔سندھ میں کورونا کے مزید 363 مریض سامنے آنے کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 7465 اور 8 نئی ہلاکتیں رپورٹ ہونے کے بعد اموات کی تعداد 130 ہو گئی ہے۔حکومت سندھ کے ترجمان بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے نئے کیسز اور اموات کی تصدیق اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں اب تک 1555 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔پنجاب سے کورونا کے 640 کیسز اور 6 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جس کی تصدیق صوبائی حکومت کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔نئے کیسز اور ہلاکتیں سامنے آنے کے بعد صوبے میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 7494 اور ہلاکتیں 121 تک پہنچ گئی ہیں۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے 640 نئے کیس سامنے آنے کے بعد صوبے میں مریضوں کی تعداد 7494 ہو گئی ہے۔پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے ترجمان کے مطابق اب تک 768 زائرین سنٹر ز، 1926 رائے ونڈ سے منسلک افراد، 86 قیدیوں اور 4714 عام شہریوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔وفاقی دارالحکومت میں بھی کورونا وائرس کے مزید 28 کیسز سامنے ا?ئے ہیں۔سرکاری پورٹل کے مطابق نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اسلام ا?باد میں کیسز کی مجموعی تعداد 393 ہوگئی ہے جب کہ شہر میں وائرس سے اب تک 4 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔خیبر پختونخوا میں اتوار کو کورونا سے مزید 8 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 180 تک جاپہنچی۔ محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 222 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3129 ہوگئی ہے محکمہ صحت نے بتایاکہ صوبے میں اب تک کورونا سے 811 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔بلوچستان میں اتوار کو مزید 2 افراد کورونا وائرس کا شکار بن گئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتیں 21 ہوگئیں۔صوبے میں مزید 46 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی جس کے بعد صوبے میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 1218 ہوگئی۔بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق نئے کیسز میں 44 کوئٹہ اور 2 پشین میں رپورٹ ہوئے۔صوبے میں اب تک 197 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔گلگت بلتستان میں اتوار کو مزید 8 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 364 تک پہنچ گئی ہے۔محکہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق گلگت میں 4، استور میں 3 اور اسکردو میں ایک شہری میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی۔محکمہ صحت کے مطابق کورونا وائرس سے 3 افراد کا انتقال ہوا ہے جبکہ اب تک 266 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔آزاد کشمیر میں مزید 5 میں کورونا وائرس پایا گیا ہے جس کے بعد علاقے میں کورونا کے کیسز کی تعداد 71 ہو گئی ہے، 44 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں جب کہ اب تک کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی ہے

پاکستان ہلاکتیں

.

لندن، واشنگٹن،ٹورنٹو (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ 44 ہزار 778 ہو گئی۔ برطانیہ میں مزید 621 افراد ہلاک ہو گئے، اٹلی میں 474، برازیل میں 340، کینیڈا میں 175، فرانس میں مزید 166 لوگ لقمہ اجل بن گئے، روس میں متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔کورونا وائرس ہر روز ہزاروں زندگیاں نگلنے لگا، برطانیہ میں مزید621 افراد جان سے گئے، تعداد 28 ہزار 131 ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں دفاتر کئی ماہ تک بند رہ سکتے ہیں تاہم اسکول مرحلہ وار کھولے جا سکتے ہیں۔فرانس میں مزید 166 ہلاکتیں ہوئیں، تعداد 24 ہزار 760 ہو گئی، حکام کے مطابق فرانس آنے والوں کو 14 روز قرنطینہ میں رہنا پڑے گا۔ سپین میں مزید 276 ہلاک، اٹلی میں 474، کینیڈا میں 173، ترکی میں 78 جبکہ جرمنی میں 58 ہلاکتیں ہوئیں۔روس میں بھی متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا، ایک ہی دن 9 ہزار 623 افراد مہلک وائرس سے متاثر ہوئے، دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد 34 لاکھ 85 ہزار تک پہنچ گئی ہے، اب تک 11 لاکھ 22 ہزار افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ کورونا وائرس امریکا میں مزید ایک ہزار 691 زندگیاں نگل گیا، مرنے والوں کی کل تعداد 67 ہزار 444 ہو گئی، کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔امریکا میں مہلک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 11 لاکھ 60 ہزار سے زائد ہو گئی، امریکی محکمے کے مطابق متاثرہ ریاستوں میں آٹھ مارچ سے 11 اپریل کے دوران ہونے والی ہلاکتیں عام حالات میں ہونے والی ہلاکتوں سے 50 فیصد زیادہ ہیں۔ چند ماہرین کا خیال ہے کہ مرنے والوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔کئی امریکی ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، ریاست کیلی فورنیا میں گھروں میں رہنے کے خلاف احتجاج کرنے والے 30 سے زائدافراد کو گرفتار کر لیا گیا، مظاہرے میں 5 سو زائد افراد شریک ہوئے۔یورپ میں نئے کورونا وائرس کے متاثرین پندرہ لاکھ سے متجاوز ہیں تاہم کئی ملکوں میں اس وبا کا پھیلاؤ سست ہو گیا ہے اور اسی سبب لاک ڈاؤن میں نرمیاں جاری ہیں۔ دو مئی کو اڑتالیس ایام کی بندش کے بعد ہسپانوی باشندے پارکوں وغیرہ میں جا سکے اور کھلی فضا میں ورزش کر سکے۔ اٹلی میں پیر سے لوگوں کو رشتہ داروں سے ملنے اور پارکوں میں جانے کی اجازت ہے۔ ہنگری میں بھی چار مئی سے عجائب گھر، ریستوران، سوئمنگ پولز اور سمندر کنارے تفریحی مقامات کھل رہے ہیں۔ جرمنی میں پابندیوں میں سلسلہ وار نرمیاں جاری ہیں اور آئندہ ہفتے سے کچھ سکول کھل رہے ہیں۔ ماہرین نے البتہ پھر بھی احتیاط برتنے پر زور دیا ہے۔فرانس میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے، جہاں ہفتے کو 1 ہزار 50 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد فرانسیسی حکومت کی جانب سے ملک میں نافذ کورونا ہیلتھ ایمرجنسی میں 2 ماہ کی توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانسیسی وزیرِ صحت نے بتایاکہ قانون سازوں کی منظوری کے بعد ہیلتھ ایمر جنسی کی مدت 24 جولائی تک کر دی جائے گی۔فرانس میں 11 مئی سے لاک ڈاون نرم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، ملک بھر میں اسکول 11 مئی سے کھول دیے جائیں گے۔یران کی حکومت نے ملک میں کورونا کیسز میں کمی کے بعد مساجد اور سکول کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر حسن روحانی نے کہاکہ پیر سے ملک کے 132 علاقوں میں مساجد کھول دی جائیں گی، ان علاقوں میں کورونا کے خطرات کم ہیں، تمام مساجد میں سماجی فاصلے اور صحت و صفائی کا خاص خیال رکھاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ کم خطرات والے علاقوں میں اسکول بھی 16 مئی سے کھولے جائیں گے، جبکہ پابندیوں میں بتدریج نرمی کی جائے گی۔واضح رہے کہ ایران میں کورونا وائرس سے 6 ہزار سے زائد اموات اور متاثرین کی تعداد 96 ہزار سے زیادہ ہے۔جرمنی میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا۔جرمنی کے دارالحکومت برلن کے مرکزی چوک میں سیکڑوں افراد نے لاک ڈاون کے دوران لگائی پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا، مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی مظاہرے میں شریک ہو گئیں۔جھڑپوں کے دوران پولیس اہلکاروں نے تشدد کیا تو مظاہرین بھڑک اٹھے اور پتھراو کیا جس پر سیکیورٹی اہلکاروں نے متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔سپین آج پیر سے نئے کورونا وائرس کے کیسز کی لہر کو روکنے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک پہننے کو لازمی قرارد یا گیا ہے جیسا کہ اس نے سخت لاک ڈاؤن اقدامات میں نرمی لانا شروع کردی ہے، یہ بات وزیراعظم پیڈرو سانچز نے گزشتہ روز کہی۔میڈرڈ حکومت جو اب تک ماسک کے استعمال کی بڑے پیمانے پر سفارش کرتی آرہی ہے، ملک بھر میں پیر سے چھ ملین ماسک تقسیم کرے گی اور مقامی حکام کو مزید سات ملین ماسک فراہم کیے جائیں گے۔برطانوی حکومت رواں ہفتے ملک میں لاک ڈاؤن میں متوقع نرمی کے منصوبے کا اعلان کرے گی جیسا کہ وباء کی شرح کو کم رکھنے کے لئے مرحلہ وار اقدامات اٹھانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ وزیراعظم بورسن جانسن کہہ چکے ہیں کہ ملک میں وباء اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے اور مارچ کے آخر میں نافذ کیے گئے سخت پابندیوں کے اقدامات کے لئے ایک روڈ میپ وضع کریں گے۔جنوبی کوریا نے اتوار کو کہا ہے کہ وہ حالیہ دنوں میں نئے کورونا وائرس کے کیسز میں نمایاں کمی کے بعد عوامی اجتماعات اور تقریبات کے انعقاد کی اجازت دینے کے لئے رواں ہفتے سماجی فاصلوں کے قوانین میں نرمی کرے گا۔ملک میں چین سے باہر بدترین وباء پھوٹی تھی اور مارچ کے بعد سے سماجی فاصلوں کے حوالے سے سخت ترین پابندیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -