لاک ڈاؤ ن میں حکومت کی 12ہزار امداد اونٹ کے منہ میں زیرہ، مزدوروں، یونین رہنماؤں کا احساس پروگرام پر ردعمل

لاک ڈاؤ ن میں حکومت کی 12ہزار امداد اونٹ کے منہ میں زیرہ، مزدوروں، یونین ...

  

لاہور(خبرنگار) ملک کے مزدور رہنماؤں آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن اور ایپکا کے عہدیداروں خورشید احمد خاں، انور گجر، روبینہ جمیل اور اسامہ طارق، ساجد کاظمی، حاجی محمد ارشاد چودھری، چودھری بوھریرہ اور لالہ محمد اسلم نے وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے بے روزگار ہونے والے مزدوروں کے لئے 12 ہزار روپے ماہانہ امداد کو اونٹ کے منہ میں زیرا کے برابرقرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت مزدور کی کم سے کم اْجرت 20 ہزار ماہانہ مقرر کرے۔ صنعتوں فیکٹریوں اور کارخانوں سے ورک چارج اور ڈیلی ویجز نکالے گئے ملازمین کو بحال کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنامہ پاکستان کے آن لائن فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس موقع پر خورشید احمد خان نے کہا ک ہحکومت مزدور کو دو وقت کی روٹی پوری کرنے اور زندگی گزارنے کے لئے ماہانہ اْجرت مقرر کرے اور اس میں آئی ایل او کنونشن کے مطابق مزدور کو مراعات دی جائیں جس میں مزدور کی کم سے کم 30ہزار ماہانہ اجرت مقرر کی جائے۔ آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کی صدر روبینہ جمیل نے کہا کہ مزدور کی ماہانہ اْجرت 1750 مقرر تو کی گئی ہے لیکن صنعتوں، فیکٹریوں او رکارخانوں میں دیہاڑی دار اور ورک چارج مزدو رکوآج بھی 8 ہزار سے 10 ہزار ماہانہ مل رہا ہے۔یوم مئی کے موقع پر مزدوروں نے وزیراعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے الگ الگ امیدیں باندھ رکھی تھیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومت نے یوم مئی پر مزدوروں کے حق میں ایک مسیج تک نہیں کیا ہے۔ اس پر مزدور رہنما انور گجر نے کہا کہ کورونا نے لاک ڈاؤن کے باعث جہاں بڑے پیمانے پر صنعتیں، فیکٹریاں او رکارخانے بند ہوئے ہیں وہاں 40لاکھ سے زائدمزدور بے روزگار ہو کر رہ گئے ہیں۔ پاکستان ہائیڈرویونین کے رہنما اسامہ طارق اور ساجد کاظمی نے کہا کہ کورونا وبا میں سب سے زیادہ دیہاڑی دار، ورک چارج اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والا مزدور متاثر ہوا ہے۔ ساجد کاظمی نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے بے روزگار ہونے والے ورک چارج اور ڈیلی ویجز مزدور کے لئے 12 ہزار روپے کی ماہانہ امداد دینے کا جو گزشتہ روز اعلان کیا ہے اس کا مزدور کو فوری طور پر فائدہ پہنچنا چاہیے۔ ایپکا کے مرکزی صدر حاجی محمد ارشاد چودھری نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے باعث لاکھوں مزدوروں کے گھروں میں فاقہ کشی کا منظر ہے اور اوپر سے ماہ رمضان کے باعث اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ لالہ محمد اسلم اور چودھری ابوھریرہ نے کہا کہ ہزاروں محنت کشوں کے انگوٹھے میچ نہیں ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ وزیر اعظم کے احساس پروگرام سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں۔

آن لائن گفتگو

مزید :

صفحہ اول -