موجودہ صورتحال میں سرمایہ کاری نقصان کے سوا کچھ نہیں،فنکار

موجودہ صورتحال میں سرمایہ کاری نقصان کے سوا کچھ نہیں،فنکار

  

لاہور (فلم رپورٹر)شوبزکے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا آنے سے قبل ہی کراچی کے پروڈکشن ہاؤسز کی اکثریت کام نہیں کررہی تھی پروڈیوسرز کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سرمایہ کاری نقصان کے سوا کچھ نہیں اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو شاید فلم کی طرح ڈرامہ انڈسٹری بھی تباہ و برباد ہوجائے گی کام کم ہونے کی وجہ سے چھوٹے فنکار اور تکنیک کار پریشانی کا شکار ہیں۔کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔کرونا کے حوالے سے کئی فنکاروں کا کہنا ہے کہ معاملات معمول پر آنے میں بہت زیادہ وقت درکار ہوگا جس کے باعث دباؤ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔کراچی میں ڈرامہ انڈسٹری کے بحران کے باعث کئی چھوٹے فنکار وں نے لاہور واپسی کا فیصلہ کرلیا ہے۔کچھ عرصہ قبل کراچی منتقل ہونے والے فنکاروں کو اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہو رہا ہے۔خرم شیراز ریاض،شاہد حمید،معمر رانا،مسعود بٹ،حسن عسکری،شانسید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،انیس حیدر،ہانی بلوچ،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن،ظفر اقبال نیویارکر،عذرا آفتاب،حنا ملک،انعام خان،فانی جان،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ء کاظمی،،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ رحمان،ظفر عباس کھچی،سٹار میکر جرار رضوی خالد معین بٹ پرویز کلیم،عینی رباب،عروج،حمیرا،روبی انعم،اظہر بٹ اور نجیبہ بی جی نے کہا کہ پاکستانی قوم بہت باصلاحیت ہے جو کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے پیچھے نہیں چاہے وہ کوئی بھی شعبہ ہو۔بہت سے ایسے پاکستانی فنکار ہیں جنہیں اپنے ملک میں تو شاید کم لوگ جانتے ہوں لیکن انہوں نے دنیا میں تہلکہ ضرور مچایا ہے بحران کی بنیادی وجہ مناسب منصوبہ بندی کا نہ ہونا ہے۔

شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے شوبز انڈسٹری کو بچانا ہے تو اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرنا ہوگا اس علاوہ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ شوبز کو سپورٹ کرے۔حکومتی سرپرستی کے بغیر کسی بھی صنعت کا چلنا ممکن نہیں ہوتا۔ڈرامہ انڈسٹری میں پیسے کی واپسی شروع جا ئے تواس انڈسٹری کوتباہی سے بچایا جاسکتا ہے،اس کے ساتھ ساتھ ہمیں انتہائی باصلاحیت، پیشہ ور اور قابل موسیقاروں، کیمرہ مینوں، لکھنے والوں اور ہدایت کاروں کی ضرورت ہے۔دوسری جانب فلموں کا بہترین معیار، ڈیجیٹل ساؤنڈ اور ماہرتکنیک کارہی شوبزانڈسٹری کوزوال سے عروج کی طرف لے جاسکتے ہیں اس وقت انڈسٹری کوایسی فلموں کی ضرورت ہے جن میں حقیقت دکھائی جائے،توہم بھی پڑوسی ملک کی طرح معیاری فلمیں بنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ہم باتوں کی بجائے عمل کریں تو مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔اس وقت حالات بد سے بدتر ہورہے ہیں۔

مزید :

کلچر -