بدعنوانی کے الزامات لگتے رہے مگر ثابت کوئی نہیں ہوا: سلیم ملک

بدعنوانی کے الزامات لگتے رہے مگر ثابت کوئی نہیں ہوا: سلیم ملک

  

لاہور: (سپورٹس رپورٹر) سابق قومی کپتان سلیم ملک نے ایک مرتبہ پھر خود کو کلیئر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر صرف بدعنوانی کے الزامات لگائے جاتے رہے، مگر ثابت کوئی نہیں ہوا۔سلیم ملک نے کہا ہے کہ عدالت نے بھی انہیں کلیئر کردیا، البتہ ماضی میں جب بھی بات کرنے کی کوشش کی تو اچھوتوں جیسا برتاؤ کیا گیا تاہم آج بھی صفائی پیش کرنے کی کوشش ہے۔سابق کرکٹر کے مطابق پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے انہیں فون کرکے کلیئر ہونے کی خوشخبری سنائی جس کے بعد پی سی بی نے پراویڈنٹ فنڈ کے پیسے بھی کلیئر کر دیئے گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ میچ فکسنگ کے الزامات صرف ان پر نہیں بلکہ دیگر پلیئرز پر بھی لگائے گئے لیکن ان کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ راشد لطیف اور ہارون رشید سمیت بہت سارے لوگوں نے ان کیخلاف یانات دیئے لیکن وہ عدالت میں جا کر کلیئر ہو گئیانہوں نے کہا کہ لیکن سوال یہ ہے کہ کتنے افراد نے ہرجانے کا دعویٰ کیا اور کتنے لوگ کامیاب ہوئے؟ کیونکہ کورٹ کے باہر ہی صلح صفائی کر لی جاتی ہے۔سلیم ملک کا کہنا تھا کہ راشد لطیف کیا کہتے ہیں؟ اس کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہتے کیونکہ وہ محض الزامات ہی ہیں جن کا ثبوت کوئی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس ملک قیوم نے اپنے گھر میں عدالت لگائی اور تمام کرکٹرز کو طلب کرلیا اور مجھ سے براہ راست سوالات شروع کر دیئے اور ایک الگ کمرے میں تنہا کر کے فیصلہ کر لیا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کیخلاف بیانات کا سب تذکرہ کرتے ہیں لیکن جنہوں نے حق میں بیان دیئے ان کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -