لاڑکانہ پولیس کا گلی میں کھیلتے بچوں پر تشدد، 13سالہ طالبعلم جاں بحق

      لاڑکانہ پولیس کا گلی میں کھیلتے بچوں پر تشدد، 13سالہ طالبعلم جاں بحق

  

لاڑکانہ(این این آئی)لاڑکانہ شہر کے تھانہ علی گوہر آباد کے محلہ عرضی بھٹو میں مبینہ طور پر پولیس کے ہراساں کرنے پر آٹھویں جماعت کا طالبعلم 13 سالہ غلام مصطفیٰ بھٹو دم توڑگیا جبکہ ورثاء نے بچے کی لاش ایس ایس پی چوک پر رکھ کر دھرنا دیا جہاں انہوں نے شدید نعرے بازی بھی کی، اس موقع پر متوفی بچے کے والد میہر بھٹو و دیگر نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں نادر بھٹو اور کامران گاد نے بچے کو حراساں کیا، بھگایا اور لاٹھی ماری جس کے باعث بچہ گرا اور تھڑے سے ٹکرا کر دل پھٹنے سے فوت ہوگیا۔ غلام مصطفیٰ آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا جو اسکول کے بعد ٹھیلے پر مزدوری بھی کرتا تھا،پولیس نے بچے کو مارکر ظلم کیا ہے۔ ورثہ نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرکے ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے جبکہ دھرنے کے دوران تھانہ سول لائین کی پولیس نے پہنچ کر مظاہرین سے مذاکرات کرتے ہوئے انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی جس پر ورثہ نے دھرنا ختم کرکے بچے کی لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے چانڈکا ہسپتال منتقل کیا جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثہ کے حوالے کی گئی جبکہ ایس ایس پی لاڑکانہ مسعود احمد بنگش نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے دونوں اہلکاروں کو معطل کرکے کوارٹر گھاٹ کرتے ہوئے اے ایس پی سٹی محمد رضوان طارق کو انکوائری افسر مقرر کردیا ہے۔ اے ایس پی نے بچے کے لواحقین کے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ بچے کی ہلاکت پولیس کی وجہ سے نہیں ہوئی، جس وقت پولیس نے مذکورہ علاقہ کا دورہ کیا یہ بچہ وہاں موجود تھا ہی نہیں۔ بچے کے لواحقین کے عزیز و اقارب کی جانب سے پولیس کو بلیک میل کیا جارہا ہے۔

پولیس تشدد

مزید :

علاقائی -