کرونا وائرس، جنوبی وزیرستان کے 1100پولیو ورکرز نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے

  کرونا وائرس، جنوبی وزیرستان کے 1100پولیو ورکرز نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے

  

ٹانک(نمائندہ خصوصی)جنوبی وزیرستان کے گیارہ سو سے زیادہ نوجوان جو علاقہ میں پولیو مرض کے خاتمے کیلئے اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تفصیلات کے مطابق یونیسیف کے تعاون سے چلنے والی غیر سرکاری آرگنائزیشن چیپ ٹریننگ اینڈ کنسلٹنگ کے زیراہتمام جنوبی وزیرستان میں پولیو مرض کے خاتمے کیلئے گیارہ سو سے زائد اہلکار معقول تنخواہوں پر کام کررہے تھے لیکن گزشتہ دن آرگنائزیشن حکام نے مالی بجٹ نہ ہونے کے باعث آرگنائزیشن کے ساتھ کام کرنے والے گیارہ سو سے زائد افراد کو فارغ کردیا، جس سے بے روزگار ہونے والے نوجوانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، آرگنائزیشن کی فیصلے سے متاثرہ نوجوان تاج محمد نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ملک بھر میں کرونا وائرس اور جاری لاک ڈاون سے ہم شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور دوسری جانب غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان بے روزگار ہوکر ان کے گھروں کے چولے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، انھوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر علاقے کے نوجوانوں کا بے روزگار ہونے کے منفی اثرات نہ صرف جنوبی وزیرستان پر مرتب ہونگے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقے سمیت پورے خیبر پختونخواہ پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، انھوں نے صوبائی حکومت خیبر پختونخواہ سے فوری طور پر اقدامات آٹھانے کا مطالبہ کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -