سول سوسائٹی کو مل کرآزادی صحافت کیلئے کام کرنا ہو گا: ایمل ولی

  سول سوسائٹی کو مل کرآزادی صحافت کیلئے کام کرنا ہو گا: ایمل ولی

  

پشاور(سٹی رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے،جمہوریت کی بالادستی کیلئے ضروری ہے کہ میڈیا آزادی اور بغیر کسی دباؤ کے اپنا کام جاری رکھے لیکن میڈیا کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وقت آنے پر وہ بھی ثابت کریں کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے غلام نہیں کیونکہ کل ایک ایم این اے کے چچا زاد بھائی اور صوبائی اسمبلی کے سابق امیدوارکو مارا گیا لیکن اُس سانحے میں حکومت اور میڈیا ایک ہی پیج پر نظر آئیں،جس طرح حکومتی وزراء اور مشیروں نے چھپ کا روزہ رکھا تھا اُسی طرح میڈیا ہاوسز کو بھی اس سانحے کو رپورٹ کرنے پر غیراعلانیہ پابندی عائد کی گئی تھی۔ آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے کہ میڈیا آزادی کے ساتھ کام کریں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں میڈیا روز بروز ثابت کررہا ہے کہ وہ بھی ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت کام کررہے ہیں۔میڈیا ورکرزکیوں حکومت کی جانب سے میڈیا پر قدغنوں کے حوالے سے خاموش رہتے ہیں؟ ورکنگ جرنلسٹس کیوں مالکان کے سمجھوتوں پر سمجھوتے کر جاتے ہیں؟ ایمل ولی خان نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں،صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے مل کر آزادی صحافت کیلئے کام کرنا ہوگا کیونکہ جو صحافی میڈیا قدغنوں پر خاموشی توڑ دیتا ہے،جو صحافی مالک کے کمپرومائیز پر کمپرومائیز نہیں کرتا اُنہیں اگلے ہی دن اپنے ادارے سے فارغ کردیا جاتا ہے جو آزادی صحافت کے منہ پر ایک اور زوردار طمانچہ ہے۔ ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ اے این پی بدقسمتی سے آزادی صحافت کے عالمی دن کے حوالے سے پاکستان میں یہ دن نہیں منا سکتی لیکن اسی دن کو آزادی صحافت کیلئے کام کرنے والے بہادر صحافیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور یقین دلاتی ہے کہ اے این پی مشکل کی ہر گھڑی میں صحافی برداری کے ساتھ صف اول میں کھڑی ہوگی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -