وفاق، سندھ کی لڑائی سے عوام کا نقصان ہورہا ہے‘ سراج الحق

  وفاق، سندھ کی لڑائی سے عوام کا نقصان ہورہا ہے‘ سراج الحق

  

ملتان (سٹی رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ احساس پروگرام سے ابھی تک اسلام آباد کا مزدور طبقہ لاعلم ہے۔ حکومت دعوے کررہی ہے کہ اس نے احساس پروگرام کے ذریعے اربوں روپے تقسیم کئے ہیں مگرآن گرؤنڈ صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے اور اسلام آباد کے مزدور وں کو بھی یہ امدا دنہیں مل سکی۔ملک بھر میں لوگ دفتروں اور حکومتی پارٹی کے لوگوں کے پیچھے پیچھے خوار ہورہے ہیں،وزیر اعظم کو ٹائیگر فورس بنانے سے (بقیہ نمبر3صفحہ6پر)

پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ ٹائیگرز کو عام آدمی کیسے پکڑ سکے گا۔ اربوں روپے کہا ں تقسیم ہوئے شاید حکمران خود بھی نہ جانتے ہوں۔ وفاق اورسندھ کی لڑائی سے سوفیصد نقصان عوام کا ہے۔بیانات سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ان کو عوام کی نہیں اپنے اپنے مقاصد کی تکمیل کی فکر ہے۔کیا اسلام آباد اور کراچی کے کورونا وائرس میں کوئی فرق ہے جو کراچی میں لاک ڈاؤن ناجائز اور اسلام آباد میں جائز ہے۔وفاقی حکومت ابھی تک قوم کو اعتماد میں نہیں لے سکی کہ آخر وہ کرنا کیا چاہتی ہے۔وزیر اعظم کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن مسئلے کا حل نہیں اور چاروں صوبوں اور اسلام آباد میں لاک ڈاؤن بھی جاری ہے۔کیا اشرافیہ اور مافیا ز حکومت سے زیادہ طاقتور ہیں جو حکومت کو لاک ڈاؤن پر مجبور کررہے ہیں۔ان خیالات کا اظہا رانہوں نے منصورہ میں کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیر اعظم لاک ڈاؤن کے خلاف بیانات دے رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عوام پر اس سے بڑا ظلم نہیں مگر جن صوبوں میں ان کی پارٹی کی حکومتیں ہیں وہاں بھی اسی طرح لاک ڈاؤن ہے جس طرح دوسرے صوبوں میں۔وزیر اعظم کے بیانات نے تو عوام کو کنفیوز کردیا ہے اور لوگ پوچھ رہے ہیں کہ حکومت کرنا کیا چاہتی ہے۔اگر وزیر اعظم لاک ڈاؤن کو ٹھیک نہیں سمجھتے تو انہیں فیصلہ کرنے سے کس نے روکا ہے۔چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کو اعتماد میں لیں اور متفقہ فیصلہ کرلیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے قدم زمین پر نہیں بلکہ اب بھی حکومت خلاؤں میں ہے اور اسے خود کچھ نہیں سوجھ رہا کہ ان حالات میں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔انہوں نے کہا کہ حکومت فیصلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ملک میں کاروبار،صنعتیں اور مارکیٹیں بند ہیں،مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے مگر حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آرہی ہے جس سے عوام کے اندر ایک مایوسی اور ناامید ی ہے اور ہرکوئی پریشان ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اشرافیہ اور مافیاز کے ہاتھوں یر غمال ہے اس لئے آزادانہ فیصلے نہیں کرپارہی،وزیر اعظم مہنگائی کے خلاف بہت باتیں کرتے تھے مگر اب غریب کیلئے سحری اور افطاری کا انتظام کرنا مشکل ہوچکا ہے،سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں چار چار گنا اضافہ ہوچکا ہے۔لوگ دودھ لیتے ہیں تو دہی کے پیسے نہیں ہوتے اور دہی لیتے ہیں تو دودھ کیلئے کچھ نہیں بچتا۔انہوں نے کہا کہ اب تو سحری اور افطاری کے وقت لوگوں کیلئے چائے کا کپ بنانا مسئلہ بن گیا ہے مگر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور عوام کو اس مہنگائی سے نجات دلانے کیلئے کچھ کرنے کو تیار نہیں۔ادھر امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے عالمی یوم آزادی صحافت پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ صحافت کی آزادی کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے صحافیوں کو خراج تحسین پیش ہیں اور قومی و بین لاقوامی صحافتی تنظیموں اور کارکنوں کوآزادی صحافت کی اس جنگ میں ہمیشہ ساتھ دینے کا یقین دلاتے ہیں۔ صحافت کی آزادی کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی کرسکتا ہے نہ ملک آگے بڑھ سکتا ہے۔صحافیوں کی قومی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے صحافیوں کی فلاح و بہبود اور انہیں آزادانہ کام کے مواقع فراہم کرنے اور جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کیلئے سینیٹ میں ایک بل پیش کیا ہے،ہمارا مطالبہ ہے کہ اس بل کو جلد از جلد پاس کیا جائے۔حکومت صحافیوں کے مسائل کے حل اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے فوری اقدامات کرے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہر حکومت آزادی? صحافت کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے مگر اقتدارمیں آنے کا بعد پہلا وار صحافت پر کیا جاتا ہے۔صحافیوں کواپنے فرائض کی ادائیگی میں طرح طرح کی مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حکومت اور معاشرے میں موجود مافیاز جنہوں نے اپنی متوازی حکومتیں قائم کررکھی ہیں وہ کسی طرح بھی صحافت کو آزاداور خود مختار حیثیت دینے کیلئے تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صحافت،سیاست،عدالت،تجارت کچھ بھی آزاد نہیں۔صحافیوں کو ہر روز نئی نئی پابندیوں کا سامنا کرناپڑتا ہے۔حکمران اورمافیاز صحافت کو اپنے گھر کی لونڈی بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صحافی جو اپنی جانوں پر کھیل کر معاشرے کو برائیوں،غنڈہ گردی اور لا قانونیت سے بچانے کیلئے آواز اٹھاتے ہیں حکومت انہیں بھی تحفظ دینے میں ناکام رہتی ہے۔

سراج الحق

مزید :

ملتان صفحہ آخر -