کورونا سے جانی نقصا ن کم، معاشی زیادہ، حکومت کی آمدنی میں 119ارب روپے کمی، 10لاکھ چھوٹے ادارے بند، ایک کروڑ 80لاکھ افراد بیروزگار ہونے کا خدشہ، اسد عمر، مزید 23افراد جاں بحق، 1266نئے کیس رپورٹ

کورونا سے جانی نقصا ن کم، معاشی زیادہ، حکومت کی آمدنی میں 119ارب روپے کمی، ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کورونا وائرس کی صورتحال اور ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار کی بندش کی وجہ سے ایک کروڑ 80 لاکھ افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔اسلام آباد میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے باعث عائد کردہ موجودہ پابندیوں کا 9 مئی تک اطلاق رہے گا، اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت اجلاس ہوگا جس میں اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ قومی رابطہ کمیٹی 9 مئی کے بعد کی حکمت عملی سے متعلق فیصلہ کرے گی۔اسد عمر نے کہا گزشتہ چند دنوں میں کورونا وائرس سے اموات میں اضافہ ہوا جو اچھی خبر نہیں، ہلاکتوں کی سرخ لکیر عبور ہو چکی ہے اور روزانہ 24 اموات ہو رہی ہیں لیکن آبادی کے تناسب کے حساب سے پاکستان میں یہ شرح کم ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ پاکستان میں بیماری اتنی مہلک ثابت نہیں ہوئی جتنی یورپ میں ہوئی، پاکستان کے مقابلے میں امریکا میں 58 گنا اور برطانیہ میں 124 گنا زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کورونا سے زیادہ لوگ ٹریفک حادثات میں ہلاک ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم ٹریفک کو اجازت دیتے ہیں، اگر یہ ذہن میں بیٹھا لیں کہ کورونا سے اموات کو صفر کرنا ہے تو اس کے لیے ایسے اقدامات کرنے پڑیں گے جو انسانوں کے لیے اتنے زیادہ مہلک ہوں گے جو کوئی برداشت نہیں کر سکتا، پاکستان میں ایک ماہ میں اوسطا 4 ہزار 800 سے زیادہ لوگ ٹریفک حادثات میں ہلاک ہوجاتے ہیں، لیکن ہم ٹریفک کو پھر بھی اجازت دیتے ہیں اور گاڑی سڑک پر چلتی ہے، کیونکہ ٹریفک پر پابندی زیادہ نقصان دہ ہے۔اسد عمر نے کہا کہ یہ بیماری دنیا میں جتنی مہلک ہے اتنی ہمارے ہاں نہیں، لیکن معاشی نقصان زیادہ ہے۔ لاک ڈاؤن سے معاشی طور پر حکومت کو آمدنی میں 119 ارب روپے کا نقصان ہوا، روزگار میں بڑے پیمانے پر کمی آئی۔انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایک کروڑ 80 لاکھ افراد بے روزگار جبکہ 10 لاکھ چھوٹے ادارے ہمیشہ کے لیے بند ہو سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ کے لیے ملک بند کرکے بیٹھ نہیں سکتے۔ ہمارا ہدف صحت کے نظام کو مضبوط کرنا ہے۔ ہم آہستہ آہستہ بندشیں کم کریں گے اور روزگار کے مواقع بڑھائیں گے۔اسد عمر نے مزید کہا کہ کورونا کو مکمل ختم کرنا ممکن نہیں، اس کا پھیلاؤ کم کیا جاسکتا ہے، یورپ سمیت دنیا کے بہت سے ممالک آہستہ آہستہ روزگار کے پہیے کو چلانے کے لیے بندشیں کم کررہے ہیں، ہمیشہ کے لیے ملک بند کرکے بیٹھ نہیں سکتے، ہمارا ہدف صحت کے نظام کو مضبوط کرنا ہے، ہمارا صحت کا نظام پچھلے 2 ماہ کے مقابلے میں اب بہتر ہے، فوری طور پر ملک کو اس لیے نہیں کھول سکتے کہ کہیں ہمارے صحت کے نظام پر خدانخواستہ اتنا بوجھ آئے کہ وہ مفلوج نہ ہوجائے۔'2 ماہ میں مزید 900 وینٹی لیٹرز آجائیں گے‘انہوں نے بتایا کہ ’ہم اپنے صحت کے نظام کی صلاحیت کو بہت آگے لے گئے ہیں، ہمارے پاس اس وقت ایک ہزار 400 وینٹیلیٹرز موجود ہیں اور آئندہ دو ماہ میں مزید 900 کا اس میں اضافہ ہوجائے گا۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت کورونا وائرس کے صرف 35 مریض وینٹیلیٹرز پر موجود ہیں۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ ملک میں اب اپنی طبی ا?لات بنانے کی صلاحیت ہے اور جلد ہم وینٹی لیٹرز کی مقامی پیداوار کا ا?غاز کردیں گے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت 55 پوری طرح فعال لیبز موجود ہیں جن میں تقریباً روزانہ 14 ہزار کورونا ٹیسٹ کرانے کی صلاحیت ہے۔وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ، ٹریکنگ اور قرنطینہ کا نظام پوری طرح سے فعال بنایا گیا ہے۔اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کا اگر یورپ اور امریکا اور اسپین سے موازنہ کریں تو ان کے مقابلے میں اتنی مہلک نہیں اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کے لیے معاشی بندشیں کورونا وائرس سے زیادہ مہلک ہیں۔ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال پر پریس بریفنگ دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں کورونا سے اموات میں اضافہ ہوا ہے، صرف 6 دنوں میں روزانہ اوسطاً 24 اموات رپورٹ ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود دنیا میں کورونا وبا جتنی مہلک ہے پاکستان میں اتنی مہلک نظر نہیں آ رہی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارا صحت کا نظام پچھلے 2 ماہ کے مقابلے میں اب بہتر ہے، ہم کورونا ٹیسٹنگ کی صلاحیت بڑھاتے جا رہے ہیں اور اس وقت کورونا کے ٹیسٹ کے لیے ملک میں 55 لیبارٹریز فعال ہیں۔

اسد عمر

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز روز بروز بڑھتے جارہے ہیں اور گزشتہ روزمزید نئے کیسز کے بعد مجموعی متاثرین کی تعداد 19854 ہوگئی جبکہ اموات 446 تک پہنچ چکی ہیں۔ملک میں کورونا وائرس کو 2 ماہ سے زائد عرصہ گزرچکا ہے اور اس دوران پاکستان میں ابتدا میں تو کیسز کے بڑھنے کی رفتار کم تھی بعد ازاں اس میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔26 فروری کو ملک میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کے بعد سے 31 مارچ تک مجموعی کیسز کی تعداد 2000 سے زائد تھی جبکہ اس عرصے میں 8 اموات ہوئی تھیں۔تاہم اپریل کے آغاز سے کورونا وبا کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا اور صرف ایک ماہ یعنی 30 اپریل تک ملک میں متاثرین ساڑھے 16 ہزار سے تجاوز کرگئے جبکہ اسی عرصے میں 359 اموات بھی ہوئیں۔جس کے بعد ماہ مئی کا آغاز ہوا اور ابھی اس ماہ کے 2 ہی دن گزرے ہیں کہ وائرس کے کیسز ساڑھے 18 ہزار سے بڑھ گئے جبکہ اموات بھی 400 کا ہندسہ عبور کرگئیں۔اتوار کے روز ملک بھر سے کورونا کے 1266 نئے کیسز اور23 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں، پنجاب میں 640 کیسز اور 6 مزید افراد جاں بحق ہوئے جب کہ سندھ میں 363 نئے کیسز اور 8 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔خیبرپختونخوا میں بھی 8 افراد جاں بحق اور 222 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ اسلام آباد میں 28، گلگت میں 8 اور آزاد کشمیر میں 5 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے کے کیسز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3032 ٹیسٹ کیے گئے جس میں 363 کے نتائج مثبت آئے جس کے ساتھ ہی مجموعی تعداد 7465 ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 8 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جس سے یہ تعداد 130 تک پہنچ گئی۔ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبے میں صحتیاب مریضوں کی تعداد میں بھی 214 کا اضافہ ہوا اور اب مجموعی طور پر 1555 لوگ صحتیاب ہوگئے۔پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 640 کیسز اور 6 اموات سامنے آئیں۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے بتایا کہ صوبے میں ان نئے کیسز کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 7494 ہوگئی ہے۔ان کیسز کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 768 افراد زائرین سینٹر، 1926 افراد رائے ونڈ سے منسلک، 4714 عام شہری اور 86 قیدی ہیں۔ترجمان کے مطابق صوبے میں مزید 6 اموات کے بعد مجموعی تعداد 121 تک پہنچ گئی جبکہ 22 مریض کی حالت تشویش ناک ہے۔گزشتہ روز خیبر پختونخوا مین 6اسلام آباد میں ایک شخص جاں بحق ہو گیاوفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مزید 28 کیسز کی تصدیق کی گئی۔سرکاری سطح پر کورونا کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ کے مطابق اسلام آباد میں مجموعی کیسز کی تعداد 365 سے بڑھ کر 393 تک پہنچ گئی۔جبکہ ایک شخص جاں بحق ہو گیااسی طرح گلگت بلتستان میں بھی کورونا وائرس کے مزید 16 کیسز کی تصدیق ہوئی۔ان نئے کیسز کے بعد گلگت بلتستان میں بھی کورونا کے متاثرین 340 سے بڑھ کر 356 تک پہنچ گئے۔علاوہ ازیں آزاد کشمیر میں بھی مزید ایک فرد اس وائرس کا شکار ہوگیا۔اگرچہ اس وقت ملک کا سب سے کم متاثرہ حصہ آزاد کشمیر ہے اور وہاں کیسز میں اضافے کی شرح بھی کم ہے تاہم ایک نئے کیس کے بعد آزاد کشمیر میں متاثرین کی مجموعی تعداد 67 ہوگئی۔ان کیسز کے باوجود موجودہ مریضوں کے لیے حوصلہ افزا بات دیگر متاثرین کا جلد صحتیاب ہونا ہے۔ملک میں جس طرح کیسز بڑھ رہے ہیں اسی طرح شفا پانے والے افراد کی تعداد میں بھی درجنوں تو کبھی سیکڑوں کے حساب سے اضافہ ہورہا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں مزید 64 افراد اس وائرس سے صحتیاب ہوگئے۔جس کے بعد ملک میں مجموعی طور پر صحتیاب افراد کی تعداد 4817 ہوگئی۔

پاکستان ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -