”گزشتہ روز مجھے مولانا طارق جمیل کا ٹیلیفون آیا اور وہ کہنے لگے کہ ۔۔۔“ ٹیلی تھون کے بعد گزشتہ روز مولانا طارق جمیل کی حامد میر سے کیا بات ہوئی ؟ سینئر صحافی نے بتادیا

”گزشتہ روز مجھے مولانا طارق جمیل کا ٹیلیفون آیا اور وہ کہنے لگے کہ ۔۔۔“ ٹیلی ...
”گزشتہ روز مجھے مولانا طارق جمیل کا ٹیلیفون آیا اور وہ کہنے لگے کہ ۔۔۔“ ٹیلی تھون کے بعد گزشتہ روز مولانا طارق جمیل کی حامد میر سے کیا بات ہوئی ؟ سینئر صحافی نے بتادیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی حامد میر نے اپنے کالم میں بتایا کہ گزشتہ روز مولانا طارق جمیل نے مجھے ٹیلیفون کیا اور یہ میری ان کے ساتھ پہلی مرتبہ براہ راست گفتگو تھی ، انہوں نے بتایا کہ وہ میرے والد مرحوم پروفیسر وارث میر کے فین ہیں اور انہوں نے مجھے والد مرحوم کے آخری الفاظ بھی سنائے۔ میں نے عرض کیا کہ پہلے بھی آپ نے ہمارے اصرار یا مطالبے کے بغیر معافی مانگی یہ آپ کی بڑائی ہے، اگر میری کسی بات سے آپ کا دل دکھا ہو تو میں بھی معافی چاہتا ہوں۔انہوں نے میرے والد مرحوم کے لئے جو کلمات اور محبت کا اظہار کیا اس پر میں نے ان کا شکر گزار ہوں۔

نجی اخبار ” جنگ نیوز “ میں سینئر صحافی حامد میر کا کالم شائع ہوا ہے جس میں انہوں کہاہے کہ ہمارے معاشرے میں بلاخوف و خطر جھوٹ بولنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جب بڑے بڑے لیڈر ایک دوسرے پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں تو پھر ان کے پیروکار ان سے بھی آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پچھلے ہفتے محترم مولانا طارق جمیل نے وزیراعظم ہاﺅس اسلام آباد میں ہونے والی ایک ٹیلی تھون کے دوران معاشرے میں جھوٹ کا ذکر کیا تھا اور سارے میڈیا کو جھوٹا قرار دے دیا۔ ہماری گزارش صرف اتنی تھی کہ سارا میڈیا جھوٹا نہیں کچھ لوگ سچ بھی بولتے ہیں لہٰذا بہتر ہوگا مولانا صاحب ان لوگوں کے نام بتائیں جو جھوٹ بولتے ہیں۔اس گزارش کی وجہ یہ تھی کہ جس میڈیا کو انہوں نے جھوٹا قرار دیا اس میڈیا کو وزیراعظم نے اپنے اردگرد بٹھا کر تین گھنٹے کی ٹیلی تھون کی اور پھر وہی میڈیا جھوٹا قرار پایا۔

اگلے دن ایک ٹی وی پروگرام میں مولانا طارق جمیل نے اپنے الفاظ پر معذرت کر لی۔ اس پروگرام میں نہ میزبان محمد مالک اور نہ میں نے معذرت یا معافی کا مطالبہ کیا لیکن مولانا صاحب نے خود ہی معافی مانگ لی اور بات ختم ہو گئی لیکن کچھ لوگوں نے مولانا صاحب کے نام پر سوشل میڈیا میں گالم گلوچ کا طوفان کھڑا کردیا۔

رمضان المبارک میں گالم گلوچ اور لعن طعن کرنے والے دراصل اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں شاید اس لئے کہ اکثر کو پتا ہی نہیں کہ بغیر ثبوت کسی کے ایمان اور حب الوطنی پر سوال اٹھانے کا کیا گناہ ہے۔ بھلا ہو مولانا طارق جمیل کا انہوں نے کل شام مجھے فون کیا اور کہا کہ یہ جو طوفانِ بدتمیزی ہے اس پر مجھے افسوس ہے، میں آپ سے معافی مانگتا ہوں۔

یہ میری ان سے پہلی دفعہ براہِ راست گفتگو تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ میرے والد مرحوم پروفیسر وارث میر کے فین ہیں اور انہوں نے مجھے والد مرحوم کے آخری الفاظ بھی سنائے۔ میں نے عرض کیا کہ پہلے بھی ا?پ نے ہمارے اصرار یا مطالبے کے بغیر معافی مانگی، اب بھی ا?پ اپنے طور پر معافی مانگ رہے ہیں، یہ آپ کی بڑائی ہے۔

اگر میری کسی بات سے آپ کا دل دکھا ہو تو میں بھی معافی چاہتا ہوں۔ مولانا صاحب سے گزارش ہے کہ وہ آئندہ کسی تقریر یا پروگرام میں بہتان تراشی پر بھی بات کریں اور اس کے لئے کیپٹل ٹاک بھی حاضر ہے۔

انہوں نے میرے والد مرحوم کے لئے جو کلمات اور محبت کا اظہار کیا اس پر میں نے ان کا شکر گزار ہوں۔

مزید :

قومی -