”پی آئی ڈی میں فردوس عاشق اعوان کے حلقہ انتخاب سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد لوگوں کو بھرتی کیا گیا اور ۔۔“حامد میر نے بڑادعویٰ کر دیا

”پی آئی ڈی میں فردوس عاشق اعوان کے حلقہ انتخاب سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے ...
”پی آئی ڈی میں فردوس عاشق اعوان کے حلقہ انتخاب سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد لوگوں کو بھرتی کیا گیا اور ۔۔“حامد میر نے بڑادعویٰ کر دیا

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر تجزیہ کار و صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ فردوس عاشق اعوان اور جہانگیر ترین میں عمران خان پر تنقید کی جرآت نہیں اس لئے انہوں نے اعظم خان کو قربانی کا بکرا بنایا ہوا ہے۔سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے مزید کہا کہ پی آئی ڈی میں فردوس عاشق اعوان کے حلقہ انتخاب سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد لوگوں کو بھرتی کیا گیا، فردوس عاشق اعوان اعظم خان پر اٹیک کر کے یا بلیک میل کر کے کوئی عہدہ حاصل نہیں کرسکتی ہیں۔

نجی ٹی وی جیونیوز کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کی یہ بات بالکل غلط ہے کہ ان کا مسئلہ عمران خان سے نہیں اعظم خان سے ہے، جہانگیر ترین کیخلاف اعظم خان نے جو کچھ بھی کیا وہ عمران خان کے حکم پر کیا، اسی طرح فردوس عاشق اعوان سے استعفیٰ لینے کا بھی اعظم خان کو وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا، فردوس عاشق اعوان بھی اعظم خان کو نہیں وزیراعظم عمران خان پر اٹیک کررہی ہیں۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ فردوس عاشق اعوان کا یہ کہنا درست نہیں کہ پہلے دن سے ان کی وزارت میں مداخلت ہورہی تھی، وزیراعظم نے پہلے فردوس عاشق اعوان کی وجہ سے یوسف بیگ مرزا اور افتخار درانی کو رخصت کیا، فردوس عاشق اعوان اب شہباز گل کو بھی رخصت کرانا چاہتی تھیں۔

پی آئی ڈی میں سیالکوٹ اور فردوس عاشق اعوان کے حلقہ انتخاب سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد لوگوں کو بھرتی کیا گیا، وزیراعظم کو جب پتا چلا کہ ان لوگوں کو رولز کے مطابق بھرتی نہیں کیا گیا تو انہوں نے ان لوگوں کو نکالنے کا حکم دیا، فردوس عاشق اعوان کو شکایت تھی کہ سیکرٹری انفارمیشن میری بات نہیں سنتے، وہ ان کی بات اس لئے نہیں سنتے تھے کہ یہ انہیں غلط کام کہتی تھیں۔

حامد میر نے کہا کہ عمران خان اگر کسی شخص سے کوئی عہدہ لے لیں اور وہ خاموشی سے بات مان لیں تو وہ کچھ عرصہ بعد اسے دوسری ذمہ داری دیدیتے ہیں، شہباز گل کو وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب کے کہنے پر ہٹایا، شہباز گل نے وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف کوئی محاذ نہیں کھولا اس لئے نہیں پرموٹ کر کے وزیراعظم ہاوس میں لے آئے۔

مزید :

قومی -