کرکٹ آسٹریلیا کے مالی معاملات پر شکوک میں اضافہ ہو گیا، سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر ہونے والے عثمان خواجہ کے بیان میں شک میں مزید اضافہ کر دیا

کرکٹ آسٹریلیا کے مالی معاملات پر شکوک میں اضافہ ہو گیا، سینٹرل کنٹریکٹ سے ...
کرکٹ آسٹریلیا کے مالی معاملات پر شکوک میں اضافہ ہو گیا، سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر ہونے والے عثمان خواجہ کے بیان میں شک میں مزید اضافہ کر دیا

  

سڈنی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) کے مالی معاملات سے متعلق شکوک میں اضافہ ہونے لگا ہے جبکہ سنٹرل کنٹریکٹ سے محروم رہنے والے عثمان خواجہ نے صورتحال کو بدانتظامی کا نتیجہ قرار دیدیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کی وباءپھیلتے ہی کرکٹ آسٹریلیا نے سب سے زیادہ مالی نقصان کا شور مچایا اور اپنے 200 ملازمین کی تنخواہوں میں 80 فیصد کٹوتی کرتے ہوئے انہیں گھر بٹھا دیا جس کے بعد بورڈ کے مالی معالات کے حوالے سے مختلف قیاس سامنے آ رہی ہیں اور پلیئرز اور سٹیٹ ایسوسی ایشنزبدستور شکوک کا شکار ہیں۔

آسٹریلین ٹیم کے بلے باز عثمان خواجہ نے بھی سینٹرل کنٹریکٹ لسٹ سے باہر ہونے کے بعد اپنی توپوں کا رخ بورڈ کی جانب موڑتے ہوئے کہا کہ مجھے کرکٹ آسٹریلیا کی مالی پوزیشن بارے جان کر کافی حیرت ہوئی کیونکہ میں جانتا تھا کہ ہمارے متوقع آمدنی کے حوالے سے اندازے کافی بلند تھے اورہم بھارتی ٹیم کے دورے کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی ایسا ہی سوچ رہے ہیں، اسی لیے جو صورتحال پیش کی گئی میں اس پر کافی کنفیوز ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ تمام بزنس معلومات میرے سامنے موجود نہیں مگر مجھے لگتا ہے کہ یہ دراصل کیش فلو کا مسئلہ ہے، کسی نہ کسی جگہ پر بدانتظامی بھی ہوئی، جیسے بہت بڑی رقم شیئر مارکیٹ میں لگا دی گی، میرے لئے یہ ایک سیدھا سادہ بزنس ہے، آپ اپنے پاس زیادہ سے زیادہ کیش ریزرو رکھنا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون 2016ءسے جون 2019 ءکے دوران کرکٹ آسٹریلیا کے کیش ریزروز میں 170 ملین ڈالر کی کمی ہوئی جبکہ کورونا وائرس کے باعث ایک جانب جہاں ملازمین کی تنخواہوں میں 80 فیصدکٹوتی کرتے ہوئے انہیں گھر بٹھا دیا گیا ہے وہیں ایگزیکٹو عہدوں پر کام کرنے والے افراد کی تنخواہوں میں محض 20 فیصد کٹوتی ہی کی گئی ہے۔

مزید :

کھیل -