نیب نے شہباز شریف کو چوتھی مرتبہ طلب کرلیا ،آج کا پیشی کا احوال جانئے

نیب نے شہباز شریف کو چوتھی مرتبہ طلب کرلیا ،آج کا پیشی کا احوال جانئے
نیب نے شہباز شریف کو چوتھی مرتبہ طلب کرلیا ،آج کا پیشی کا احوال جانئے

  

لاہور(خبرنگار) نیب لاہور نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف او رمسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں محمد شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کے کیس میں 2 جون کو دوبارہ طلب کر لیا ہے ۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ(ن) کے مرکزی صدرمیاں محمد شہباز شریف گزشتہ روز کورونا وبا کے خوف کے باوجود نیب آفس لاہور میں تفتیش کے لئے پیش ہوئے اس موقع پر نیب کی پانچ رکنی کمبائن ٹیم نے میاں محمد شہباز شریف سے مسلسل دو گھنٹے 10 منٹ تفتیش کی ۔ ذراءع کا کہنا ہے کہ جس میں نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے میاں شہباز شریف سے 40 سے زائد سوالات کے جوابات طلب کئے جن میں سے میاں شہباز شریف متعدد سوالات کے جوابات نہ دے سکے ۔ جس پر میاں شہباز شریف نے نیب کی تحقیقاتی ٹیم سے مزید تیاری اور سوالات کے جوابات کے لئے مہلت طلب کی جس پر نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے میاں شہباز شریف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کے کیس میں سماعت 2 جون تک ملتوی کر دی ہے ۔ اس سے قبل میاں شہباز شریف کو 17 اپریل اور 22 اپریل کو طلب کیا گیا تھا جس میں کورونا کی صورتحال کے پیش نظر میاں شہباز شریف خود پیش نہیں ہوئے تھے اور اپنی لیگل ٹیم کے ہاتھ نیب کے سوالات کے جوابات بھجوائے تھے جس پر نیب کی تحقیقاتی ٹیم میاں شہباز شریف کی جانب سے بھجوائے گئے جوابات سے مطمئن نہ ہوئی اور اسی بناء پر میاں شہباز شریف کو گزشتہ روز دوبارہ طلب کیا گیا تھا ۔ نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے میاں شہباز شریف سے آمدن سے زائد اثاثہ اجات اور منی لانڈرنگ کے کیس میں مسلسل دو گھنٹے 10 منٹ تحقیقات کی جس میں تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے میاں شہباز شریف سے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اختیارات سے تجاوز کرنے اور فنڈزکے استعمال اور پارٹی رہنماءوں کی جانب سے ملنے والے فنڈز سمیت کیمپ آفس کھولنے جیسے سوالات پوچھنے پر میاں شہباز شریف 20 سے 25 منٹ خاموش ہو گئے جبکہ حمزہ شہباز، سلمان شہباز اور تہمینہ درانی کو تحاءف دینے کے سوالات پرسابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا کہ وہ ان تمام سوالات کے جوابات نیم کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے جمع کروا چکے ہیں ۔ میاں شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے اختیارات کا کسی قسم کا غلط استعمال نہ کیا ہے ۔ بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کیمپ آفس عوامی فلاح کے لئے کھولا جس میں پنجاب کے لاکھوں شہریوں کے مسائل کے حل کو ممکن بنایا گیا ۔ تاہم اس موقع پر میاں شہباز شریف زیادہ تر سوالات کے جوابات نہ دے پائے اور پارٹی فنڈز سمیت متعدد سوالات کے جوابات کے لئے نیب کی تحقیقاتی ٹیم سے مزید مہلت طلب کی جس پر نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے مزید تفتیش 2 جون تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر میاں شہباز شریف کو دوبارہ طلب کر لیا ہے ۔ نیب ذراءع کا کہنا ہے کہ میاں شہباز شریف کے خلاف جاری آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کے کیس میں تفتیش آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور آئندہ سماعت پر میاں شہباز شریف سے حتمی تفتیش ہونا باقی ہے ، جس کے بعد دونوں کیسز کی ہونے والی تفتیش کی رپورٹ تیار کر کے چیئرمین نیب کو پیش کی جائے گی جس کے بعد ریفرنس کی تیاری یا میاں شہباز شریف کو حراست میں لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ دوسری جانب گزشتہ روز نیب آفس لاہور میں میاں شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات تھے اور پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیموں نے سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال رکھی تھی جبکہ شہباز شریف کی نیب آفس میں پیشی کے دوران کورونا وائرس کے ممکنہ خطرہ کے پیش نظر سماجی فاصلے سمیت دیگر حفاظتی اقدامات اور انتظامات کو یقینی بنایا گیا تھا ۔

مزید :

قومی -