چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ کے دفتر میں تعینات ایک افسر سمیت چار ملازمین کورونا وائرس شکار،دیگر ملازمین خوف میں مبتلا

چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ کے دفتر میں تعینات ایک افسر سمیت چار ملازمین ...
 چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ کے دفتر میں تعینات ایک افسر سمیت چار ملازمین کورونا وائرس شکار،دیگر ملازمین خوف میں مبتلا

  

لاہور(جنرل رپورٹر، خبرنگار)کوپر روڈ پر واقع چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ کے دفتر میں تعینات ایک افسر سمیت چار ملازمین کورونا وائرس کا شکار،100 سے زائد افسران اور ملازمین کے کورونا ٹیسٹ کیلئے سیمپل لے لئے گئے، افسران سمیت ملازمین خوف میں مبتلا،ملازمین دفتر میں ایس او پی کا نفاذ نہ ہونے پر سراپا احتجاج،وزیر صحت کا سخت نوٹس، چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ سے رپورٹ طلب کر لی ۔ تفصیلات کے مطابق کوپر روڈ پر واقع چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ لاہور کے دفتر میں کام کرنے والے ایک ڈیٹا انٹری افسر محمد قدوس سمیت ہیلتھ نیوٹریشن سپروائزر عائشہ، سینٹری انسپکٹر سجاد علی اور ذیشان علی میں گزشتہ روز کورونا کی رپورٹ مثبت آگئی جس پر محکمہ ہیلتھ کے اعلیٰ افسران حرکت میں آ گئے ۔ وزیر صحت نے فوری طور پر نوٹس لے لیا اور کورونا کے شکار ایک افسر قدوس سمیت چاروں ملازمین کو قرنطینہ سنٹر میں منتقل کر دیا گیا اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ کے دفتر میں کام کرنے والے 100 سے زائد افسران اور ملازمین کے کورونا ٹیسٹ کے لے سیمپل لے گئے ۔ دوسری جانب چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ کے دفتر میں کام کرنے والے افسران سمیت ملازمین میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ملازمین نے کورونا کے خلاف صف اول پر جنگ لڑنے والے ادارہ محکمہ صحت کے صوبائی دفتر میں کورونا وائرس کے حملے پربھرپور احتجاج کیا ۔ اور کہا کہ کورونا کا شکار ہونے والے محکمہ ہیلتھ کے افسر محمد قدوس سمیت دیگر ملازمین کے ساتھ کام کرنے والے افسران اور ملازمین کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے جاری ایس او پی کے مطابق سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے کورونا جیسے جان لیوا وبا نے محکمہ ہیلتھ ایک بڑے دفتر پر وار کر دیا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک اور تشویشناک امر ہے ۔ اس موقع پر ملازمین نے محکمہ صحت کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے دفتر میں کورونا کی وبا کے پہنچ جانے کو چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر شعیب الرحمن گرمانی اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر فیصل ملک کی ناقص کارکردگی قرار دیا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے بار بار احکامات کے باوجود ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے اعلیٰ افسران نے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ہے جس کی وجہ سے دفتر میں ایس او پی نہ ہونے کے باعث کورونا پھوٹ پڑا ہے ۔ دوسری جانب صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی لاہور کے دفتر میں کورونا کی وباء پھوٹنے اور چار ملازمین کے کورونا کا شکار ہونے پر نوٹس لے لیا ہے اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ لاہور سے 24 گھنٹوں کے اندر رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لاہور محمد فیصل ملک نے بتایا کہ دفتر کے ایک افسر سمیت چار ملازمین میں کورونا رپورٹ پازیٹو آنے پر 100سے زائد افسران اور ملازمین کے کورونا ٹیسٹ کروانے کے لئے سیمپلز لے لئے گئے ہیں جبکہ جن ملازمین کی رپورٹ پازیٹو آئی ہے انہیں پی کے ایل آئی میں واقع قرنطینہ سنٹر میں منتقل کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر دفتر میں تمام حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں تاہم کورونا کی وبا پوری دنیا میں ہے اس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی لاہور کے دفتر میں کورونا کی وبا پھوٹنے اور ملازمین کا کورونا کاشکار ہونے پر تحقیقات کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے ۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -