بھارتی الیکشن میں ہمارے لئے بھی کوئی سبق ہے؟

بھارتی الیکشن میں ہمارے لئے بھی کوئی سبق ہے؟

  

بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں ممتا بینر جی ایک بار پھر ریاستی حکومت تشکیل کرنے جا رہی ہیں جنہیں ہرانے کے لئے بھارت کی مرکزی سرکار نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ بی جے پی کی قیادت میں سیاسی جماعتوں کا ایک اتحاد بنایا گیا جس کا مقصدِ وحید ممتا بینر جی کو شکست دینا تھا۔ وزیراعظم نریندر مودی، امیت شاہ، جے پی نڈا، بی جے پی کے مغربی بنگال کے انچارج کیلاش وجے ورگیا اور دیگر بی جے پی رہنماؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی جماعت کو 200 سے زیادہ نشستیں ملیں گی اور اس بار ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنے گی لیکن ان کی پارٹی کی سرکردگی میں قائم سیاسی اتحاد کے حصے میں صرف 77نشستیں آئیں ممتا بینرجی کی جماعت (ٹی ایم سی) نے 213نشستیں حاصل کرکے میدان مار لیا۔ مغربی بنگال میں 32 سال تک حکومت کرنے والی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی ایم) کو ایک بھی نشست نہیں ملی اور دو نشستیں دیگر جماعتوں نے حاصل کیں۔292 رکنی اسمبلی میں حکومت سازی کے لئے 147نشستیں درکار ہیں۔ دلچسپ امر البتہ یہ ہے کہ خود ممتا بینرجی اپنی نشست پر  ہار گئی ہیں۔ ممتا نے اپنا مرنا پور کا حلقہ چھوڑ کر نندی گرام سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تھا جو درست ثابت نہیں ہوا۔ ممتا بینرجی کی جماعت ٹی ایم سی نے 2016ء کے اسمبلی انتخاب میں 211نشستیں جیتی تھیں اور 48فیصد ووٹ حاصل کئے تھے ممتا بینرجی نے الیکشن کمیشن پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ اس نے بی جے پی کے ترجمان کی مانند کام کیا ہے اور وہ کمیشن کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گی۔

مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن نے آٹھ مراحل میں انتخاب کرایا ہے جس میں ایک ماہ سے بھی زائد کا عرصہ لگا، اس دوران ووٹوں اور متعلقہ ریکارڈ و دستاویزات سے بھرے ہوئے تھیلے الیکشن کمیشن نے محفوظ مقامات پر کڑے پہرے میں رکھے۔ ممتا بینر جی نے یہ الزام ضرور لگایا ہے کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے ترجمان کی طرح کام کر رہا تھا یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنی ہار کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گی لیکن انہوں نے الیکشن کا نتیجہ قبول کیا ہے کسی دھاندلی کا الزام نہیں لگایا۔ گنتی کا عمل پورے ایک ماہ کے بعد شروع ہوا آپ ذرا تصور فرمائیں کہ ہمارے ہاں اگر آٹھ مرحلوں میں نہیں دوچار  مرحلوں ہی میں انتخابات ہوں اور ایک مہینے کے بعد گنتی شروع ہو، تو کیا کیا ہاہا کار نہ مچے، کیسے کیسے الزام نہ لگیں، دھاندلی کی کیسی کیسی اقسام دریافت نہ ہوں فریقین اس عرصے میں ریکارڈ تبدیل کرنے کی کون سی کوشش ہے جو روانہ رکھیں۔ اپنے ہاں تو عالم یہ ہے کہ ادھر پولنگ ختم ہوئی اور ادھر گنتی شروع، گھنٹوں کا تھکا ہارا عملہ، جس میں کچھ بھوکا پیاسا بھی رہا ہوگا کیونکہ امیدواروں میں سے کسی کا کھانا قبول کرنا اصولاً ممنوع ہے وہ ایک امیدوار سے کھانا لے گا تو دوسرا الزام لگائے گا، دوسرے سے لے گا تو تیسرا کوئی الزام دھر دے گا اس کھینچاتانی میں بعض اوقات ”اصول پرست لوگ“ بھوکے رہتے ہیں۔ بھوکے نہ بھی ہوں تو تھکے ہارے تو بہرحال ہوتے ہی ہیں اور اگر سارے دن کی پولنگ اور رات کے کئی گھنٹوں کی گنتی کے بعد کہیں دھند چھا جائے تو غائب غُلّا بھی ہوا جاسکتا ہے ایسے میں کیا ہمارے لئے بھارتی الیکشن میں کوئی سبق نہیں کہ الیکشن کے بعد کسی جگہ ووٹوں کے تھیلے جمع کر لئے جائیں اور پھر دوچار دن بعد اطمینان سے گنتی کر لی جائے۔ 

کراچی کے ایک حلقے میں بھی ضمنی انتخاب ہوا ہے وہاں جیتنے والے پیپلزپارٹی کے امیدوار نے اپنے مد مقابل مسلم لیگی مفتاح اسماعیل سے چند سو ووٹ ہی زیادہ لئے ہیں لیکن اس کا جشن ایسے منایا جا رہا ہے جیسے برف باری کے موسم میں کوئی کوہ پیما ہمالیہ کی سب سے اونچی چوٹی سر کرکے زندہ سلامت واپس آ گیا ہو ذرا تصور فرمایئے کہ جیتنے والے امیدوار کو پانچ فیصد ووٹ بھی نہیں ملے اور مجموعی ووٹ 20فیصد سے بھی زیادہ نہیں پڑے لیکن جیتنے والوں کے پاؤں زمین پر نہیں ٹِک رہے۔ 

ہمارے ہاں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات ایک ہی دن ہوتے ہیں بھارت میں آزادی کے بعد سے آج تک جتنے بھی انتخاب ہوئے کبھی پورے ملک کی ریاستوں (صوبوں) اور لوک سبھا کے انتخابات ایک دن نہیں ہوتے بلکہ لوک سبھا کے انتخاب بھی کم از کم سات آٹھ مرحلوں میں ہوتے ہیں اور اس کام میں ڈیڑھ پونے دو ماہ لگ جاتے ہیں پھر گنتی ہوتی ہے اس دوران تھیلوں سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوتی۔ چیف الیکشن کمشنر مسلمان بھی ہوتا ہے، عیسائی بھی اور ہندو بھی، کبھی اس پر الزام نہیں لگا کہ وہ جانبدار ہے جونہی الیکشن کمیشن کی جانب سے نئے انتخابات کا اعلان ہوتا ہے حکمرانوں اور حکمران جماعت کے لوگوں پر کچھ پابندیاں لگ جاتی ہیں کسی نئے ترقیاتی منصوبے کا اعلان نہیں ہو سکتا جو منصوبہ مکمل ہوتا ہے الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد اس کا افتتاح بھی نہیں ہو سکتا بھارت میں بڑا مشہور واقعہ ہے نرسیما راؤ وزیراعظم تھے کسی ترقیاتی منصوبے کے افتتاح یا سنگِ بنیاد کی تقریب کے لئے گئے ہوئے تھے کہ اس دوران نئے انتخابی شیڈول کا اعلان ہو گیا افتتاح کے بعد نرسیماراؤ واپس اپنے ہیلی کاپٹر سے آنے لگے تو انہیں بتایا گیا کہ الیکشن شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے آپ اب اس سرکاری ہیلی کاپٹر سے واپس نہیں جا سکتے۔ انہوں نے اصرار کیا تو انہیں نرم روی سے سمجھایا گیا کہ قانوناً ممکن نہیں آپ متبادل انتظام کریں جب وہ مصر رہے تو انہیں کہا گیا کہ اگر انہوں نے ہیلی کاپٹر اڑانے کی کوشش کی تو چیف الیکشن کمشنر، ہوا بازی کے محکمے کو ہدایت کریں گے کہ وہ اس ہیلی کاپٹر کو پرواز کا پرمٹ جاری نہ کریں نتیجتاً نرسیماراؤ کو واپسی کے لئے متبادل انتظام کرنا پڑا، ہم آج کل الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی بحث میں بے طرح اُلجھ گئے ہیں حالانکہ ہمارا تجربہ ہے کہ جہاں ہمارا آر ٹی ایس بیٹھ جاتا ہے وہاں یہ الیکٹرانک مشینیں کہاں کھڑی رہیں گی۔ انہیں بٹھانا تو بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لیکن یار لوگ اس بحث سے نکلنے کے لئے تیار نہیں حالانکہ ہمیں ضرورت ہے ایک مضبوط الیکشن کمیشن اور ایک مضبوط ترچیف الیکشن کمشنر کی، جو قواعد پر خود بھی عمل کرے اور دوسروں سے بھی کرائے اور جب کوئی اس سے استعفوں کا مطالبہ کرے تو وہ جواب دے کہ آئینی عہدیدار اس طرح مستعفی نہیں ہوا کرتے۔

مزید :

رائے -اداریہ -