کورونا کی تیسری لہر، نئی پابندیاں، مگر؟

کورونا کی تیسری لہر، نئی پابندیاں، مگر؟

  

کورونا کی تیسری لہر میں شدت کے حوالے سے این سی او سی متحرک اور روزانہ اجلاس کر رہی ہے۔ روزبروز حالات کا جائزہ لے کر نئی پابندیاں تجویز کی جاتی ہیں۔ اب این سی او سی کی سفارش پر بیرون ملک سے آنے والے پاکستانی شہریوں کے لئے بھی کورونا ٹیسٹ لازم قرار دیا گیا ہے، جبکہ بیرونی  پروازوں میں معتدبہ کمی کر دی گئی ہے، حالات کی نوعیت یہ ہے کہ یوم علیؓ کے موقع پر جلوسوں کی ممانعت کی گئی۔ اعتکاف منع کر دیا گیا، خصوصاً اوقاف کے زیر اہتمام کسی مسجد میں اعتکاف نہیں ہوگا، لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ گھروں میں ہی معتکف ہوں، بادشاہی مسجد اور جامع مسجد داتا دربار میں بھی اعتکاف نہیں ہوگا، پاک افغان سرحد کے حوالے سے بھی نئے فیصلے کئے گئے ہیں اور سرحد سے آنے جانے والوں کے ٹیسٹ ہوں گے۔ اگر کسی افغان باشندے کا مثبت ہوا تو اسے واپس کر دیا جائے گا اور پاکستانی شہری مثبت ہوا تو اسے وہاں قرنطینہ میں رکھا جائے گا، ٹریڈ کے حوالے سے یہ طے ہوا کہ ڈرائیوروں اور عملے کا تھرمل ٹمپریچر لیا جائے گا، جہاں تک ملک کے اندر پابندیوں کا تعلق ہے تو بعض عناصر نے ایس او پیز کے تحت اعتکاف کی تجویز دی لیکن اسے پذیرائی نہیں ملی۔ ان پابندیوں سے کسی کو انکار نہیں، لیکن یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ تیسری لہر کی ابتدا ہی میں یہ سب کچھ کیوں نہ کیا گیا۔ حتیٰ کہ بیساکھی میلہ بھی کرا دیا گیا، معترض حضرات کا موقف ہے کہ پہلی لہر کے موقع پر اس سے تھوڑی کم پابندیوں سے حالات ایسے قابو سے باہر نہیں ہوئے تھے، اب چونکہ تاخیر سے یہ سب کیا جا رہا ہے تو اس سے وہ فائدہ نہیں ہو رہا جو پہلی لہر کے موقع پر ہوا، اعتراض تو اور بھی کئے جا رہے ہیں، تاہم اصل بات کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کی  ہے۔ان پر بہرصورت عمل ہونا چاہیے اور کرایا بھی جانا چاہیے۔

مزید :

رائے -اداریہ -