ضمنی انتخاب کی سائنس الگ سہی مگر……

ضمنی انتخاب کی سائنس الگ سہی مگر……
ضمنی انتخاب کی سائنس الگ سہی مگر……

  

گھسی پٹی سی کہانی یا کہاوت ہے کہ ایک گاؤں کا چودھری مر گیا۔ اسی گاؤں کے مراثی کا بیٹا اپنے والد سے پوچھنے لگا کہ اب گاؤں کا چودھری کون بنے گا؟ مراثی نے کہا کہ مرحوم چودھری کا بڑا بیٹا نیا چودھری بنے گا۔ بیٹا بولا کہ اگر وہ بھی مر گیا؟  مراثی نے کہا کہ چودھری کا چھوٹا بیٹا کرسی سنبھالے گا۔ بیٹا پھر پوچھنے لگا کہ اگر چھوٹا بیٹا بھی زندہ نہ رہا تو؟ مراثی بات سمجھ گیا۔ کہنے لگا کہ بیٹا تو فکر مند نہ ہو چودھری کا سارا ٹبر بھی مر گیا تو تجھے چودھری کسی نے نہیں بنانا۔ کراچی کے قومی حلقے این اے 249 کے ضمنی انتخاب کا معاملہ بھی اسی طرح کا ہے۔ نتائج کو اگرچہ پاکستان الیکشن کمیشن میں چیلنج کر دیا گیا ہے تاہم جو اعداد و شمار صوبائی الیکشن کمیشن نے جاری کئے ہیں ان کے مطابق پیپلزپارٹی کی جیت پر اب مہر تصدیق ثبت ہوتی ہے یا مسلم لیگ (ن) پر کامیابی کا دروازہ کھلتا ہے، حکمران تحریک انصاف مقابلے سے باہر ہے۔ 2018ء کے قومی انتخابات میں اسی حلقے سے تحریک انصاف کے انتہائی متنازعہ کردار فیصل واوڈا 718 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے۔ اب تحریک انصاف کے امیدوار امجد آفریدی پانچویں نمبر پر آئے ہیں۔ 2018ء میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار میاں شہباز شریف بھی دوسرے نمبر پر تھے اور محض 718ء ووٹوں سے ہارے تھے۔ اب بھی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار مفتاح اسماعیل دوسرے نمبر پر آئے ہیں اور وہ 683 ووٹوں سے ہارے ہیں۔ پی ٹی آئی نے اڑھائی پونے تین سال میں جو ”ترقی“ کی ہے وہ سب کے سامنے ہے پہلے سے پانچویں نمبر پر چلی گئی ہے۔ ”منی پاکستان“ کہلانے والے اس حلقے میں اصل چھلانگ پیپلزپارٹی نے لگائی ہے 2018ء کے عام انتخابات میں اس کے امیدوار قادر خان مندو خیل ہی تھے۔ انہوں نے 7236 ووٹ لئے تھے اور ان کی پوزیشن چھٹی تھی۔ اب بھی گنتی سے پہلے تک انہیں مقابلے میں شمار نہیں کیا جا رہا تھا۔

مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور تحریک لبیک پر ہی آنکھیں لگی ہوئی تھیں۔ مسلم لیگ (ن) تب بھی دوسرے نمبر پر تھی اب بھی ہے۔ تحریک لبیک تب بھی تیسرے نمبر پر تھی اب بھی ہے۔ پیپلزپارٹی ”چپ چپیتے“ لانگ جمپ لگا کر وکٹری سٹینڈ پر آ گئی تو مفتاح اسماعیل کا ”پولا“ سا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ 276 پولنگ سٹیشنوں میں سے تقریباً دو سو پولنگ سٹیشنوں کا نتیجہ آنے تک وہ جیت رہے تھے اور مسلم لیگ (ن) کے الیکشن آفس میں بھنگڑے ڈالے جا رہے تھے۔ پھر اچانک پتہ چلا کہ بلاول ہاؤس میں بھنگڑے شروع ہو گئے ہیں۔ لیگی رہنما اور کارکن اپنا الیکشن آفس بند کر کے الیکشن کمیش کے دفتر پہنچنا شروع ہو گئے مگر ہونی ہو کر رہی۔ شیر کے منہ سے ایک بار پھر کامیابی چھین لی گئی۔ کامیابی کی مبارکبادیں دیتے دیتے اچانک مریم نواز احتجاجی لہجہ اختیار کرتی نظر آئیں۔ وہ مفتاح اسماعیل اپنے اعلان کے مطابق معاملہ الیکشن کمیشن لے گئے ہیں۔ نتیجہ جاری کرنے پر حکم امتناع آ گیا۔ کراچی کا فیصلہ اب اسلام آباد میں ہونا ہے۔ پہلے بھی ڈسکہ کا فیصلہ اسلام آباد سے ہوا تو (ن) لیگ کامران ٹھہری تھی۔ اب بھی اسے امید ہے تاہم پاکستان الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ کرے گا حسب سابق ناکام فریق سپریم کورٹ کے دروازے کھٹکھٹائے گا۔ فیصلہ جو بھی ہوا سبھی کو قبول کرتے بنے گی ابھی انتظار کرنا ہوگا تاہم الیکشن والی  رات جو کچھ ہوا  اس میں بعض چیزیں دلچسپ اور غور طلب ضرور ہیں۔

-1 کورونا یا گرمی وجہ کچھ بھی ہو کراچی کے متذکرہ حلقے میں ٹرن آؤٹ انتہائی کم یعنی 15 فیصد کے قریب رہا۔ یوں ری پولنگ سے بال بال بچے۔ اب جو بھی امیدوار فاتح ہوگا وہ پانچ چھ فیصد ووٹروں کا نمائندہ ہوگا۔ واہ ری جمہوریت!!!

-2اس ضمنی الیکشن میں کون سا امیدوار جیتتا ہے یہ فیصلہ بھی جلد ہو جائے گا مگر کون ہارا ہے یہ فیصلہ ہو چکا ہے۔ ہارنے والی تحریک انصاف ہے اور اس کو چیلنج کرنے والا اتحاد پی ڈی ایم تو ”زرداری ڈاکٹرائن“ کی چھری سے ذبح ہو گیا۔

-3پی ڈی ایم کے سربراہ حضرت مولانا فضل الرحمن کی اس خوش فہمی کو داد دیتے رہیئے کہ پیپلزپارٹی اور اے این پی واپس اتحاد میں آنا چاہیں تو آ سکتی ہیں۔

-4 مسلم لیگ (ن) کے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس ضمنی الیکشن میں جمعیت علمائے اسلام اور اے این پی نے اپنے اپنے امیدوار مفتاح اسماعیل کے حق میں دستبردار کرا دیئے تھے اس کے باوجود وہ دوسرے نمبر پر ہی کیوں رہی؟ اس طرح تو پیپلزپارٹی نے پوری پی ڈی ایم کو شکست دی ہے۔

5۔ 15 فیصد ووٹوں کی گنتی میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ یہ تو نصف گھنٹے کی مار تھی۔ کیا الیکشن کمیشن نے طے کر رکھا ہے کہ ہر ضمنی الیکشن میں کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کرنا ہے کہ پھڈا پڑا رہے۔ ڈسکہ میں بھی اسی طرح کی صورتحال پیدا کی گئی تھی۔

-6 رات کو ابھی لیگی امیدوار مفتاح اسماعیل کی برتری جاری تھی اور ستر سے زائد پولنگ سٹیشنوں کا نتیجہ باقی تھا تو ”بلاول ہاؤس“ میں کس کی اطلاع پر جشن کا آغاز کر دیا گیا تھا؟

-7سانحہ لاہور کے باوجود تحریک لبیک کے حق میں مظلومیت کی لہر نظر نہیں آئی۔ 2018ء کے انتخابات میں تحریک لبیک کے امیدوار عابد حسین نے 23981 ووٹ لئے تھے اور تیسرے نمبر پر آئے تھے۔ اب بھی تحریک لبیک کے امیدوار مولانا نذیرا حمد تیسرے نمبر پر رہے۔ انہوں نے 11125 ووٹ حاصل کئے۔ ٹی ایل پی کی قیادت ابھی تک زندان میں ہے مگر ان کی رہائی کے لئے کوئی تحریک نہیں۔ اس الیکشن کا لطیفہ یہ بھی ہے کہ تحریک لبیک کو حکومت کالعدم قرار دے چکی ہے مگر الیکشن کمیشن کو اس کا پتہ ہی نہیں چلا۔ نتائج تک میں مولانا نذیر احمد کو ٹی ایل پی کا امیدوار بتایا جاتا رہا۔

-8پاک سرزمین پارٹی کے سید مصطفیٰ کمال چوتھے نمبر پر رہے انہوں نے 9227 ووٹ حاصل کئے مصطفیٰ کمال کراچی کے طویل ترین عرصہ تک میئر رہے اور عالمی سطح پر بھی ان کی کامیابیوں کا تذکرہ رہا۔ وہ ایم کیو ایم کے باغی رہنماؤں میں سب سے قد آور سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں ایم کیو ایم کا توڑ قرار دیتے ہوئے جس کروفر سے ”لانچ“ کیا گیا تھا ان سے کافی امیدیں تھیں مگر وہ 2018ء کے انتخابات میں کوئی ایک بھی قومی یا صوبائی نشست نہ جیت سکے۔ طویل محنت اور کثیر سرمایہ کاری کے باوجود وہ اب بھی ناکام ہیں تو ان کو اور ان کے سرپرستوں کو مستقبل کا جائزہ حقیقت پسندی سے لے لینا چاہئے۔

-9حکمران تحریک انصاف نے ضمنی الیکشن میں نوشہرہ کے بعد یہ دوسری نشست ہے جو کھوئی ہے۔ اب اس کو حالات کی سمجھ آ جانی چاہئے اور حتی الامکان کوشش کرنی چاہئے کہ اس کی کسی نشست پر ضمنی انتخاب کی نوبت نہ آئے۔ ویسے اگر وہ اپنی کارکردگی بہتر کرنے پر توجہ دے لے تو یہ خطرہ مول بھی لیا جا سکتا ہے۔ آپ لاکھ کہتے رہیں کہ ضمنی انتخابات کی سائنس الگ ہے مگر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بھی مقبولیت جانچنے کا پیمانہ تو نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -