حضرت علی رضی اللہ عنہ کی غزوات میں شجاعت

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی غزوات میں شجاعت

  

 اسد اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی غزوات میں شجاعت و بہادری  (تحریر رشید احمد رضوی۔ مرکزی سیکر ٹری اطلاعات جمعیت علما پاکستان)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے بظاہر پردہ فرمانے کے بعد سلسلہ خلافت شروع ہواتو پہلے خلیفہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ،دوسرے خلیفہ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ،تیسرے خلیفہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ،خلیفہ چہارم حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ اور پھر حسنین کریمین رضوان اللہ علیھم اجمعین ہیں۔حضرت علی المرتضی مکہ مکرمہ میں جمعالمبارک کے دن پیدا ہوئے آپ کے والد کا اصل نام عبدالمناف اور کنیت ابوطالب ہے ان کا تعلق بنو ہاشم خاندان سے ہے حضرت علی کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسدبھی خاندان بنو ہاشم سے تھیں۔حضرت علی کی کنیت ابوالحسن اور ابوتراب، مرتضی، اسداللہ، حیدر کرار اور شیر خداہیں، آپ رضی اللہ عنہ رسول اکرم ﷺ کے چچا ابوطالب کے صاحبزادے ہیں۔ جناب رسالت مآبﷺ نے 5سال کی عمر میں حضرت علی کو اپنے چچا ابو طالب سے اپنی پرورش میں لے لیا تھا۔اس کے بعد آقائے دو جہان سرور کائنات ﷺنے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی شادی بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کردی۔     حضرت علی شیر خدا کی زندگی شجاعت و بہادری سے سے بھرپور ہے۔آپ نے نے زندگی بھر دشمنان اسلام اور مشرکین کے خلاف جو جہاد کیا تاریخ اسلام میں اس کی دوسری مثال  نہیں دی جا سکتی۔حضرت علی المرتضی خود فرمایا کرتے تھے کہ لڑائی کے میدان میں مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ موت میری طرف آرہی ہے یا میں موت کی طرف جارہا ہوں ان کی یہی بہادری اور بے خوفی تھی کہ  اسد اللہ اللہ تعالی کا شیر کے لقب سے مشہور ہوئے۔ملک عرب میں یہودی اور بتوں کی پوجا کرنے والے لوگ آباد تھے۔ وہ اسلام کے بڑے سخت دشمن تھے۔ اس لئے ان کو کافر کہا جاتا تھا،ہجرت کے بعد ان لوگوں سے مسلمانوں کی بہت سی لڑائیاں ہوئیں۔ ان سب لڑائیوں میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ شریک تھے۔ وہ ہر لڑائی میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑتے تھے اور انہوں نے دشمنوں پر اپنی بہادری کی دھاک بٹھا رکھی تھی۔اسلام اور مشرکین کے درمیان پہلا معرکہ غزوہ بدرہوئی، رمضان المبارک 2ھ کو سرور دو عالم ﷺ غزوہ بدر کے لیے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ مسلمانوں کے مجاہدین کی تعداد 313 تھی جب کہ کفار مکہ کی فوج کی تعدادایک ہزار تھی۔مسلمانوں کے سامان سواریوں کی قلت کی وجہ سے دو دو تین تین آدمیوں کو ایک ایک اونٹ پر سوار کرکے لے جایا گیا تھا جس پر وہ باری باری سواری کرتے تھے۔ حضور ﷺ کے ساتھ سواری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ تھے۔حضرت سعید انصاری رضی اللہ عنہ نے سیر الصحابہ رضوان اللہ علیہم میں لکھا ہے کہ:۔اسلامی لشکر کے جھنڈوں میں ایک جھنڈا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تھا۔جب حضور پاک ﷺ میدان بدر کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چند آزمودہ کارمشوروں کے ساتھ قریش مکہ کی نقل و حرکت کی ٹوہ میں روانہ فرمایا۔حضرت علی رضی اللہ تعالی نے یہ خدمت بڑی عمدگی سے سرانجام دی۔لڑائی شروع ہونے سے پہلے مشرکین کی صفوں سے تین شخص اپنی تلواریں لہراتے ہوئے للکارتے ہوئے میدان میں نکلے اور مسلمانوں کو دعوت مبارزت دی تو لشکر اسلام سے تین انصاری جاں باز ان کے مقابلے کیے لیے نکلے۔قریشی جنگجوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ ان کے مقابلے کو نکلنے والے تینوں جانباز مدینہ کے انصاری ہیں تو انہوں نے ان سے لڑنا اپنی توہین سمجھا اور بآواز بلند کیا کہ:۔ محمدﷺ! یہ لوگ ہمارے جوڑ کے نہیں ہیں ہماری قوم اور قبیلے کے لوگوں کو ہمارے مقابلے پر بھیجو۔اس پر آنحضرت ﷺ نے ان  قریشی جنگجوں کو ان کے مقابلے کے لیے حکم دیا:۔1۔ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ۔2۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ۔3۔حضرت عبید ہ بن الحارث رضی اللہ تعالی عنہ۔ان مجاہدوں کو حکم دیا کہ:۔جا اور ان کا مقابلہ کرو۔حضرت پاک ﷺ کا حکم پاتے ہی یہ تینوں قریشی بہادر اپنے حریفوں کے مقابلے کے لئے جاکھڑے ہوئے۔حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اور حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ نے آنا فانا ہی اپنے حریف کو خاک میں ملادیا اور خون میں نہلادیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا مدمقابل عتبہ بن ابی ربیعہ تھا۔حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کا مدمقابلہ شیبہ بن ابی ربیعہ۔البتہ حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ کو ان کے حریف نے زخمی کردیا۔یہ دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ فورا حضرت عبیدہ بن الحارث رضی اللہ عنہ کو میدان جنگ سے زخمی حال میں اٹھا کر لے آئے۔عام لڑائی شروع ہو گئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تلوار دشمنوں کے لیے برق بے امان بن گئی اور اس نے ان کے خرمن بستی کو خاک میں ملادیا۔ مشرکین کو عبرت ناک شکست ہوئی۔ ان کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر ہی گرفتار ہو گئے۔ اس لڑائی میں قریش کے جو مشہور جنگجو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ قتل ہوئے ان کے نام یہ ہیں۔1۔ ولید بن عتبہ 2۔ حارث بن ربیعہ3۔ متطلہ بن ابی سفیان 4۔ عقیل بن الاسود5۔ نوفل بن خویلد 6۔ عاص بن سعید7۔ حرملہ بن عمروبن ابی عقبہ 8۔ ابوقیس بن الولید9۔عاجزبن سائب بن عمیر 10۔تیسیر بن المجاج11۔عاص بن منیہ 12۔ازمعہ بن الاسود13۔حارث بن زمعہ 14۔ عمروبن عثمان بن کعب15۔مالک بن طلحہ 16۔ ابن تیم کل مقتولین کی تعداد 19 ہوئی مگر ان کے علاوہ چند اور مشرکین بھی تیغ علی رضی اللہ عنہ کا شکار ہوئے۔ایک مشرک عمروبن ابی سفیان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قیدی بنایا۔ جنگ کے بعد حضور ﷺ نے مال غنیمت میں سے ایک  اونٹ،ایک زرہ اور ایک تلوار حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عطافرمائی تھی۔3ھ میں کفار مکہ نے بدر کی لڑائی کا بدلہ لینے کے لئے بڑے زور وشور سے مدینہ پر چڑھائی کردی۔ ان کی فوج میں تین ہزار سپاہی تھے۔ کافروں نے مدینہ کے شمال میں اڑھائی میل دور احد پہاڑ کے قریب ڈیرے ڈال دیئے۔رسول پاک ﷺ ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ کفار کے مقابلے کے لئے نکلے لیکن راستے میں منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی منافق تین سو منافقوں کو جن کا تعلق بنو سلحہ اور بنو حارث قبائل سے تھا کو اپنے ساتھ لے کر واپس چلا گیا اور آپ ﷺ کے ساتھ صرف سات سو آدمی رہ گئے تھے۔رسول پاک ﷺ نے مسلمانوں کی صفیں اس طرح باندھیں کہ ان کے پیچھے احد پہاڑ تھا اور سامنے دشمن کی فوج تھی۔اس احد پہاڑ میں ایک درہ تھا۔حضور پاک ﷺ نے پچاس دشمن تیر اندازوں کو اس درے میں کھڑا کردیا تاکہ دشمن اس درے کے راستے پچھلی طرف سے حملہ نہ کرسکے۔ ان تیرا ندازوں کو آپ ﷺ نے سختی سے ہدایت کردی تھی کہ  خواہ کچھ بھی ہو جائے تم اس درے سے مت ہٹنا۔دونوں افواج ایک دوسرے کے مقابلے پر آئیں تو کافروں کا ایک بہادر طلحہ بن ابی طلحہ میدان میں نکلا اور بلند آواز سے کہا کہ:۔کوئی ہے جو میرے مقابلے پر آئے؟یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ دوڑ کر اس کے مقابلے میں آئے اور تلوار کے ایک ہی وار میں اس کو ڈھیر کردیا۔ اس موقع پر رسول پاک ﷺ نے تکبیر کا نعرہ بلند کرکے اپنی خوشی ظاہر فرمائی۔ اس کے بعد طلحہ کے دو بھائی اور تین بیٹے ایک ایک کرکے میدان میں آئے لیکن سب مسلمان بہادروں کے ہاتھ سے مارے گئے۔کہتے ہیں کہ:۔طلحہ کے ایک بھائی ابو سعید نے مسلمانوں کو مقابلے کے لیے للکارا تو اس کا سامنا بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا اور اپنی تلوار کے ایک بھرپور وار سے اس کو زمین پر گرا دیا۔اس کا سرکاٹنے ہی والے تھے کہ وہ ننگا ہو گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی یہ حالت دیکھ کر اس کوقتل کرنا پسند نہ کیا اور اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ بعد میں حضرت سعید بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مارا گیا۔اب عام لڑائی شروع ہو گئی تو مسلمان اس جوش سے لڑے کہ کافروں کا منہ پھر گیا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بہت سے دوسرے مجاہدوں کے ساتھ کافروں کی صفوں میں اندر دور دور تک گھس گئے اور انہوں نے اس زور وشور سے تلوار چلائی کہ کافروں کے قدم اکھڑ گئے اور وہ بدحواس ہو کر بھاگنے لگے۔درے پر جو تیرا انداز مقرر تھے انہوں نے کافروں کو بھاگتے دیکھا تو انہوں نے سوچا کہ:۔اب یہاں کھڑے رہنے کا کیا فائدہ ہے؟ان تیراندازوں کے افسر اعلی حضرت عبداللہ بن جبیررضی اللہ عنہ تھے۔انہوں نے تیراندازوں کو بہت سمجھایا کہ:۔ابھی خطرہ ٹلا نہیں تم اپنی جگہ سے نہ ہٹو۔لیکن تیراندازوں نے ان کی بات سنی ان سنی کردی اور صرف دس مجاہدوں کے سوا باقی سب مجاہدین اپنی جگہ سے ہٹ گئے یہ دیکھ کر کافروں کے ایک گھڑ سوار دستے نے ان دس مجاہدوں پر حملہ کرکے ان کو شہید کردیا اور پھر درے میں سے گزر کر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا۔ قریش کے جو آدمی بھاگے جارہے تھے اب وہ پلٹ پڑے اور بہت سے مسلمانوں کو شہید کردیا۔اس اچانک حملے سے اکثر مسلمان ادھر ادھر بکھر گئے۔صرف چند بہادر رسول پاک ﷺ کے ساتھ میدان میں جم کے کھڑے رہے۔ ان مجاہدوں میں حضرت علی کرم اللہ وجہ بھی شامل تھے۔ان جوانمردوں نے میدان میں حضورﷺ کی حفاظت کے لئے سردھڑ کی بازی لگادی۔کفاربار بار آپ ﷺ کی طرف لپکتے اور حملہ کرنا چاہتے مگر حضرت علی کرم اللہ وجہ اور دوسرے بہادر جوان ان کو مار بھگاتے تھے۔ایک کافر نے آپ ﷺ پر دور سے پتھر پھینکا اور ایک نے موقع پا کر آپ ﷺ پر تلوار کا وار کیا جس سے آپ ﷺ زخمی ہو گئے اور ایک گڑھے میں گر گئے۔اتنے میں کسی نے یہ افواہ اڑا دی کہ:۔آپ ﷺ شہید ہو گئے۔اور جو مسلمان دور تھے وہ خبر سن کر سناٹے میں آگئے۔اصل بات یہ تھی کہ اسلامی فوج کا جھنڈا حضرت معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ وہ بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے تو جھنڈا حضرت علی کرم اللہ وجہ نے تھام لیا اور نہایت بے جگری سے لڑتے ہوئے کافروں کو بہت پیچھے مار بھگایا۔جلدی ہی مسلمانوں نے رسول پاکﷺ کو دیکھ لیا اور سمٹ کر آپ ﷺکے گرد جمع ہو گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول پاک ﷺ کا دست مبارک تھاما اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے آپﷺ کو اپنے بازوں میں لے کر گڑھے سے نکالا۔پھر سب جاں نثار آپ ﷺ کو ساتھ لے کر پہاڑ کی چھوٹی پر چڑھ گئے مگر کافروں نے بھی پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کی لیکن مسلمانوں نے پتھر لڑھکا کر اور تیر برسا کر انہیں مار بھگایا۔جس وقت کافروں نے درے سے گزر کر مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کیا تھا مدینے سے کچھ بیبیاں (خواتین) بھی میدان جنگ میں پہنچ گئیں تھیں۔جب کفار پہاڑ سے کافی دور بھاگ گئے تو رسول ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا کہ:۔قوم (قریش کے کافروں کے) پیچھے پیچھے جا اور دیکھو کہ وہ کیا کررہے ہیں اور ان کا ارادہ کیا ہے؟اگر وہ اپنے اونٹوں پر سوار ہوں اور گھوڑے ان کے پہلو میں ہوں تو ان کا ارادہ واپس مکہ جانے کا ہے اور اگر وہ گھوڑوں پر سوار ہوں اور اونٹ ہانک کر لے جارہے ہوں تو ان کا ارادہ مدینہ پر حملہ کرنے کا ہے۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ:۔اس ذات کی قسم!جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر انہوں نے مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو میں مدینہ جاکر ان کا مقابلہ کروں گا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ اسی وقت کافروں کے پیچھے روانہ ہو گئے اور انہوں نے دیکھا کہ:۔کافر اونٹوں پر سوار ہیں اور گھوڑے ان کے پہلو میں ہیں اور وہ مکہ کی طرف جارہے ہیں۔جو کچھ انہوں نے دیکھا واپس آکر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔ رسول پاک ﷺ نے اپنے پیارے ساتھیوں کے ساتھ کئی میل تک کافروں کا پیچھا کیا۔ وہ مکہ کی طرف بھاگے ہی چلے گئے اور انہوں نے پلٹ کر مسلمانوں کا سامناکرنے کی جرات نہ کی۔کافروں کا پیچھا کرنے والوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔غزوہ احدمیں ستر مسلمان شہید ہوئے۔ان میں رسول پاک ﷺ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔آپ رضی اللہ عنہ نے تمام شہیدوں کو احد کے میدان میں ہی دفن کیا اور پھر واپس مدینہ تشریف لے گئے۔کافروں کے ستائیس آدمی مارے گئے۔ان میں سے پانچ یا چھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے اور باقی دوسرے مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -