توہین رسالت ؐ قانون پر سمجھوتہ ناممکن، جی ایس پی پلس معاہدے کا ان قوانین سے کوئی تعلق نہیں، یورپی یونین کے تحفظات کو دور کیاجائیگا: عمران خان 

توہین رسالت ؐ قانون پر سمجھوتہ ناممکن، جی ایس پی پلس معاہدے کا ان قوانین سے ...

  

  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، آن لائن)   وزیراعظم عمران خان نے عالمی دنیا کو دو ٹوک اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان یورپی یونین کے تحفظات کو دور کرنے کیلئے تیار ہے لیکن توہین رسالت ﷺ قانون پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس کے دوران جی ایس پی پلس سٹیٹس پر یورپی یونین کی قرارداد میں اٹھائے جانے والے نکات کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت ﷺ کے قانون پر سمجھوتا نہیں ہو گا۔اس کے علاوہ اجلاس کے دوران جبری گمشدگیوں، صحافیوں کے تحفظ اور آزادی اظہار کے قوانین جلد پارلیمنٹ میں لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں کہا گیا کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کا توہین رسالت قوانین سے کوئی تعلق نہیں، پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔بعد ازاں وزیراعظم عمران خان سے مسلم ممالک کے سفیروں نے بھی ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات میں اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔ملاقات کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے اسلاموفوبیا کے تدارک کیلئے کوششوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ یہ مذاہب کو تقسیم کرنے کا باعث بن رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اسلام کو دہشتگردی اور انتہا پسندی سے جوڑنا نامناسب ہے۔ مقدس شخصیات کی توہین سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔

وزیر اعظم

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت نے عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد بڑھانے کے لئے انتخابی اصلاحاتی پیکج تیار کیا ہے، انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن جماعتوں کو بھی مذاکرات کی دعوات دیدی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) اس بارے اپنا موقف واضح کرے۔انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات پیکیج کے لئے حکومت کے پاس سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اکثریت ہے لیکن چاہتے ہیں کہ اپوزیشن کو بھی اس عمل میں شامل کریں۔ اپوزیشن کی ساری زندگی پرچیوں کی سیاست پر گزری، وہ ملکی مفاد میں پرچیوں کی سیاست سے باہر آئے اور انتخابی اصلاحات میں اپنا حصہ ڈالے۔مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرت ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت نے الیکشن ایکٹ 2017 میں 49 تبدیلیاں کرنے کا  فیصلہ کر لیا ہے انہوں نے کہا  کہ عمران خان نے وزرات عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پارلیمنٹ میں پہلی تقریر کے دوران اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات میں انتخابی اصلاحات کیلئے کمیشن بنانے پر آمادگی کا اظہار کیا اور پہلے دن ہی پارلیمانی کمیٹی بنادی تھی،پی ٹی آئی نے حالیہ سینیٹ انتخاب اوپن بیلٹ کروانے کیلئے بھرپور زور دیا، پیپلز پارٹی اور (ن)لیگ نے مخالفت کی،دونوں سینیٹ کے انتخاب اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے پر میثاق جمہوریت پر دستخط کئے،انتخابات کے بعد دھاندلی کا الزام دور کرنے کے لیے اصلاحات کا عمل نہیں کیا تو سیاسی اور جمہوری ترقی رک جائے گی۔ فواد چوہدری نے کہا کہ انتخابی دھاندلی کا قصہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے کمیٹی بنائی گئی اور اسی کمیٹی کو سابقہ دور حکومت میں 4 برس لگے تھے۔فواد چوہدری نے کہا کہ اس کمیٹی کو تشکیل دینے کے لیے دھرنے دینے پڑے اور احتجاج کرنا پڑا لیکن ہم نے پہلے دن ہی کمیٹی بنادی۔انہوں نے کراچی کے حلقہ این اے 249 کے انتخاب سے متعلق کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پیپلز پارٹی پر انتخابی دھاندلی کا الزام لگایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے حالیہ سینیٹ انتخاب اوپن بیلٹ کروانے کیلئے بھرپور زور دیا تاہم  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مخالفت کی۔فواد چوہدری نے کہا کہ یہ دونوں وہ پارٹیاں ہیں جنہوں نے 2006 میں میثاق جمہوریت میں اتقاق رائے کیا کہ سینیٹ کے انتخاب اوپن بیلٹ ہوں گے، مسلم لیگ (ن) 2015 میں قانون سازی لے کر آئی ووٹ اوپن ہوں گے لیکن جب وزیر اعظم عمران خان نے اوپن بیلٹ کی بات کی تو انہوں نے مخالفت کردی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ کے انتخاب جتوایا گیا تاہم وہ سینیٹ چیئرمین کے لیے منتخب نہیں ہوسکے، وہ ہم سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد دھاندلی کا الزام دور کرنے کے لیے اصلاحات کا عمل نہیں کیا تو سیاسی اور جمہوری ترقی رک جائے گی۔فواد چوہدری نے کہا کہ ہم انتخابی اصلاحات تجویز کررہے ہیں جس میں ٹیکنالوجی شامل ہے۔انہوں نے کہاکہ انتخابی اصلاحات کے لیے اپوزیشن سے درخواست وزیر اعظم، اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزرا کررہے ہیں، آپ کہتے ہیں کہ بات چیت کیلئے بھی تیار نہیں اور الیکشن کمیشن انتخابی اصلاحات کا بیڑا اٹھائے۔بابر اعوان نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کامعاملہ ایسا ہے کہ اس سے آئینی بحران پیدا نہیں ہوا لیکن آئینی اداروں پر عدم اعتماد کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک زمین یا بلڈنگ سے نہیں بنتے بلکہ عوام اور اس کے اداروں سے بنتے ہیں۔بابر اعوان نے کہا کہ جدید دھاندلی کا سب سے بڑا طوفان اٹھا وہ ایک سیاسی جج صاحب تھے انہوں نے 2013 کے انتخابات میں تمام ریٹرننگ افسران سے خطاب کرلیابعدازاں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے اسے آر اوز کا الیکشن قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ 2013 کے انتخابات کے بعد حکومت کے پاس دو راستے تھے کہ کوئی انتخابی اصلاحات نہ کریں اور دوسرا موجودہ حالات کے تناظر میں اصلاحات کریں اور آگے بڑھیں۔بابر اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے دوسرا راستہ اختیار کیا جس کا تعلق انتخابی اصلاحات ہیں۔انہوں نے بتایا کہ الیکشن ایکٹ 2017 اور حکومتی پیکج میں 49 سیکشن متعارف، حذف اور تبدیل کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے حالیہ اجلاس میں واضح کیا کہ انتخابی اصلاحات کا معاملہ سب سے پہلے سول سوسائٹی کے سامنے پیش کریں گے۔بابر اعوان نے بتایا کہ اس کے بعد اے پی این ایس، سی پی این ای، پریس کلب کے عہدیداران، بار کونسلز اور بار ایسو سی ایشنز میں انتخابی اصلاحات کا ایجنڈا پیش کریں گے اور بریفنگ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے پارلیمانی نظام کو فعال بنانے والے غیر سرکاری اداروں کو بھی بریفنگ دیں گے۔انہوں نے کہاکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عدالتی اور عوام کی سطح پر دھاندلی کی مہم چلائی لیکن الیکٹرونک ووٹنگ کی وجہ سے تمام الزامات رائیگاں گیے۔بابر اعوان نے کہا کہ پاکستان کے پاس دو آپشنز ہیں کہ پاکستان میں ووٹ پر اعتبار پیدا نہ ہونے دیں اور دوسرا آپشنز ہے کہ آئینی اور قانونی ترامیم کے ذریعے دروازیکھولیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے استعمال کیلئے سیکشن 103 ترمیم کررہے ہیں، یہ پہلی بڑی ریفارم ہوگی۔بابر اعوان نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سیکشن 94 میں ترمیم لارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کے لیے ہم نے دو اصلاحات تجویز کی ہیں جس کے تحت سیاسی جماعت 10ہزار کی نمائندگی پر رجسٹرڈ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ایک نئی شق شامل کررہے ہیں کہ 213 اے کے تحت سیاسی جماعت سالانہ کنونشن منعقد کرنے کی پابند ہوں گی۔انہوں نے کہاکہ پولنگ اسٹاف افسران پر اعتراض کی صورت میں تبدیل کیا جا سکے گا یعنی پولنگ اسٹاف افسران پر اگر کسی کو اعتراض ہوگا تو وہ اسے 15 دن میں چیلنج کرسکے گا۔بابر اعوان نے کہا کہ نادرا کا آئی ڈی ڈیٹا کی بنیاد پر انتخابی فہرستیں تیار ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ حلقہ بندیوں کو درست کرنے کے لیے آبادی کی بنیادی پر ہونے والی تقیسم کو دور کریں گے اور رجسٹرڈ ووٹرز کی بنیاد پر حلقہ بندی کریں گے۔انہوں نے کہاکہ تمام ترامیم میں کوئی چیز ایسی نہیں جو کسی ایک جماعت کے مفاد میں ہو۔بابر اعوان نے کہا کہ پچھلے سال اکتوبر سے لے کر آج تک کوئی ترمیم قومی اسمبلی میں ڈالی ہے۔

فواد چوہدری

مزید :

صفحہ اول -