11عالمی کمپنیوں کی کورونا ویکسین متعارف، پاکستان میں تاحال معیار جانچنے کیلئے پیشرفت نہ ہو سکی 

  11عالمی کمپنیوں کی کورونا ویکسین متعارف، پاکستان میں تاحال معیار جانچنے ...

  

 لاہور (جاوید اقبال)کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے بین الاقوامی 11 کمپنیاں اپنی اپنی ویکسین تیار کر چکی ہیں اور یہ کمپنیاں اپنی اپنی ویکسین دنیا میں فروخت کرنے کیلئے دوڑ میں شامل ہیں ان کمپنیوں نے اپنی اپنی ویکسین کا معیار اور نتائج مقرر کر رکھے ہیں تاہم یہ بات قابل ذکر ہے ان کمپنیوں میں سے کسی ایک نے بھی سو فیصد نتائج دینے کا دعوی نہیں کیا لیکن بدقسمتی ہے کہ پاکستان میں تا حال ویکسین کے معیار جاننے کے لیے تاحال کسی قسم کی کوئی تحقیقات نہیں کی یہ پاکستان کے عوام کس کمپنی کی ویکسن کرونا سے بچاؤ کے لئے استعمال کریں پاکستان کو  جو ان کمپنیوں نے اپنی ویکسین کے نتائج کا ڈیٹا دیا ہے اس پر اعتبار اور انحصار کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے عوام گو مگو  کی کیفیت سے دوچار ہیں اور وہ تا حال فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ وہ کون سی کمپنی کی ویکسین کرونا سے بچاؤ کے لئے استعمال کریں پاکستان میں حکومتی سطح پر جو ویکسنزیادہ تر استعمال کرائی جارہی ہے اس کا تعلق چین سے ہے. چینی کمپنی سائنو فارم نے اس نام سے جو ویکسن تیار کی ہے اس کمپنی نے ویکسن کی کامیابی کا تناسب کے نتائج کو سو فیصد نہیں 73فیصد کا دعوی کیا ہے اسی طرح امریکہ میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ویکسن فائزرکمپنی کی ہے جو اپنی ویکسین کی کامیابی کا تناسب پچانوے فیصد قرار دیتی ہے جو کہ دنیا میں سب سے بڑا تناسب ہے اسی طرح ملٹی نیشنل کمپنی میں میڈونااپنی کمپنی کی اس نام سے تیار کردہ ویکسین کی کامیابی کا تناسب 94% قرار دیتی ہے ایک اور کمپنی جو کے ایسٹرا زینکااپنی ویکسین کی کامیابی کا تناسب 74 فیصد جانسن اینڈ جانسن نامی کمپنی اپنی ویکسین کا 72 فیصدایک اور کمپنی سپوٹنک V اپنی کمپنی کی ویکسین  92% موثر قرار دیتی ہے اسی طرح Novavax  کمپنی اپنی ویکسین کی کامیابی کا تناسب 89 فیصد قرار دیتی ہے coronavac 50 فیصد ساینو  فارما 73 فیصد cansinobio ویکسین 66 فیصد اور دیگر کمپنیوں کی ویکسینز کی کامیابی کا تناسب 75 فیصد ہے۔ان کمپنیوں کے نتائج کا ڈیٹا عالمی ادارہ صحت نے تیار کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کمپنیوں ویکسین جب لوگوں کو لگائی گئی تو ان کے نتائج یہ رہے۔لیکن ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں تا حال اب تک اپنی ویکسین تیار نہیں کی جاسکی اس کے ساتھ ساتھ لگائی جانے والی ویکسین کا تقابلی جائزہ بھی کسی ادارے میں نہیں لیا ذرائع کے مطابق وزارت صحت ڈریپ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ ہر کمپنی کی ویکسین کے نتائج پر تحقیقات کراتے پران اداروں نے اب تک ایسا نہیں کیا اور عوام تاحال شکوک و شبہات کا شکار ہے کہ وہ کون سی کمپنی کی ویکسین استعمال کریں ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ملٹی نیشنل  کمپنیوں کے جاری کردہ ڈیٹا کو ہی استعمال کر رہی ہے اس حوالے سے ینگ فارماسسٹ لائرز فورم کے صدر نورمحمد مہر سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ یہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے کسی ادارے کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ ویکسین پر تحقیقات کر سکے اور عوام کو بتا سکے کہ کونسی ویکسین استعمال کرے۔اس حوالے سے وفاقی مشیر صحت فیصل سلطان سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ابھی کوئی ویکسین پرائیویٹ مارکیٹ میں خریدوفروخت کی اجازت نہیں دی گئی اس پر تیزی سے کام ہو رہا ہے جلد اچھے نتائج سامنے آئیں گے ہم اپنے عوام کو سرکاری سطح پر مفت ویکسی نیشن فراہم کر رہے ہیں اس کیلئے سینکڑوں ویکسی نیشن سینٹر بنائے گئے ہیں جہاں پر عوام آکر کرونا سے بچاؤ کی مفت ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

کوروناویکسین

مزید :

صفحہ اول -