سیاستدانوں، بیوروکریٹس دونوں میں برداشت ہونی چاہئے

  سیاستدانوں، بیوروکریٹس دونوں میں برداشت ہونی چاہئے

  

 لاہور (جنرل رپورٹر)مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما و سابق بیوروکریٹس اور مختلف تنظیموں کے رہنماؤں نے اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ سونیا صدف اور وزیر اعلی پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے مابین ہونے والی تلخ کلامی کو سیاسی سانحہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ واقعہ عدم برداشت کا منہ بولتا ثبوت ہے،بیوروکریٹ میں برداشت ہے اور نہ ہی سیاستدانوں میں،اس واقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ افسر شاہی اور سیاستدان ایک دوسرے کو قبول نہیں کرتے مجبوراً دونوں ایک دوسرے کیساتھ چل رہے ہیں۔ وزیراعلی کو نوٹس لیتے ہوئے دونوں خواتین کو سرکاری عہدوں سے فارغ کرنا چاہیے۔اس امر کا اظہار انہوں نے روزنامہ پاکستان کے سلسلہ رد عمل میں کیا اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ واقعہ سے دکھ ہوا فردوس عاشق ایک بڑے مرتبے پر فائز ہیں اور وہ وزیر اعلی پنجاب کی مشیر ہیں بلکہ ان کی ترجمان ہیں انہیں ایک جونیئر آفیسر سے محبت پیار سے پیش آنا چاہیے تھا اور اگر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے گرمی دکھائی تھی تو اسسٹنٹ کمشنر کو تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا،مسلم لیگ (ن)پنجاب کے جوائنٹ سیکریٹری رانا محمد ارشد میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک جونیئر آفیسر سے جس طرح کی بدتمیزی اور اظہار گفتگو فردوس نے کیا ہے اس کی اخلاقیات اجازت دیتی ہے نہ ہی قانون فردوس عاشق نے ثابت کیا کہ ان کی تربیت ہی نہیں ہے اور ان کے بڑے جو حکومت میں موجود ہیں وہ بھی ایسے ہی ہے فردوس عاشق عوان اے سی سیالکوٹ سے اپنے کیے کی معافی مانگے وزیر اعلی کو اپنی ترجمان کو فارغ کر دینا چاہیے،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے صدر پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ فردوس عاشق عوام کے رویے سے ثابت ہوگیا کہ پنجاب میں کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں حکمران جسے چاہے بے عزت کردیں اسی سیالکوٹ کا گناہ کیا تھا جو فردوس عاشق نے انہیں ذلیل کیا اور ان کی تذلیل کی گیا وزیراعلی کو کا نوٹس لینا چاہیے،سابق چیف سیکریٹری پنجاب جاوید محمود سے بات کی گئی اور کہا کہ واقعہ افسوسناک ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے اس سے عوام میں اچھا پیغام نہیں جاتا واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے جو ذمہ دار ہو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔صوبائی وزیر خوراک عبدالعلیم خان سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا آپ لگ یہ رہا ہے کہ عدم برداشت کا کلچر پروان چڑھ گیا ہے ایک بات طاہر ہے کہ عوام کو افسر شاہی جواب دے نہیں ہے سیاستدان جواب دیتے ہیں جب سستے رمضان بازار کی نگرانی کا سیاسی لوگوں کو دیا گیا ہے تو وزیر اور مشیر دورے تو کریں گے اور مسائل کی نشاندہی بھی کریں گے تاہم اخلاقیات کا دامن کسی کو نہیں چھوڑنا چاہیے بیوروکریسی کے اپنے دائرہ کار ہے اور سیاستدانوں کی اپنی ہیں دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ چلنا ہوگا سیالکوٹ کا واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا لگ رہا ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے فردوس عاشق کو کس نے افسروں کو گالی دینے کا اختیار دیا اب تک انہیں کو فارغ کر دینا چاہیے تھا مگر افسوس کے ساری حکومت ہی ایسی ہے کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور حکومت ہے کہ وہ ڈرامے بازیاں کر رہی ہے میرے خیال میں واقعہ کی آزاد تحقیقات ہونی چاہیے جو ذمہ دار ہے ان کو فارغ کردیا جائے اور ویڈیو سے دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ذمہ دار فردوس عاشق ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ان کے اقدام اور زبان درازی سے پورے پنجاب کی افسر شاہی ناگا ہے۔

سیاسی ومذہبی رہنماء 

مزید :

صفحہ اول -