گرانفروشی پر مزید172گرفتار، 8لاکھ سے زائد جرمانے عائد 

گرانفروشی پر مزید172گرفتار، 8لاکھ سے زائد جرمانے عائد 

  

 پشاور(سٹی رپورٹر) محکمہ خوراک نے شہر بھر میں گرانفروشوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے 172 افراد کو گرفتار کرلیا جن پر 8 لاکھ 3 ہزار کے جرمانے عائد کردیئے۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید کے احکامات کی روشنی میں مشیر خوراک میاں خلیق الرحمان‘ سیکرٹری محکمہ خوراک خوشحال خان اور ڈائریکٹر محمد زبیر کی ہدایت پر راشننگ کنٹرولر پشاور آفتاب عمر کی نگرانی میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر تسبیح اللہ نے حیات آباد‘ ٹاؤن‘ تہکال‘ پشتخرہ‘ فقیر آباد‘ پہاڑی پورہ‘ گلبہار‘ ہشت نگری‘ گلبرگ‘ نعمان عامر نے شاہ قبول‘ خزانہ اور داؤدزئی‘ واجد علی نے بڈھ بیر‘ متنی‘ بھانہ ماڑی‘ مچنی گیٹ اور متھرا اور خالد خان نے کابلی‘ پھندو‘ چمکنی‘ ارمڑ اور سربند میں اشیائے خوردونوش کی دکانوں میں معیار کو چیک کیا اور نرخناموں بارے آگاہی حاصل کی سرکاری نرخنامے سے تجاوز کرنے اور غیر معیاری اشیائے خوردونوش کی خرید و فروخت پر 172 افراد کو گرفتار کرلیا جن پر 8 لاکھ 3 ہزار روپے کے جرمانے عائد کردیئے گئے۔ کارروائیوں کے دوران 650 دکانوں کو چیک کیا گیا جبکہ بار بار فوڈ ایکٹ کی خلاف ورزی پر 28 افراد کو جیل منتقل کردیا گیا اسی طرح آٹھ دکانیں سیل کردی گئیں۔ گرفتار گرانفروشوں میں چار جنرل سٹور مالکان پر 20 ہزار‘ 15 نانبائیوں پر 75 ہزار‘ 45 قصابوں پر 2 لاکھ 25 ہزار‘ 3 مرغی فروشوں پر 15 ہزار‘ چار کباب و تکہ فروشوں پر 25 ہزار‘ 21 سبزی فروشوں پر 90 ہزار‘ 30دودھ فروشوں پر 1 لاکھ پچاس ہزار‘ 5 فروٹ فروشوں پر 15 ہزار‘ 12 بیکری مالکان پر 36 ہزار‘ پندرہ مچھلی فروشوں پر 80 ہزار‘ 16 پکوڑہ فروشوں پر 48 ہزار‘ دو ہوٹلز مالکان پر 24 ہزار کے جرمانے عائد کردیئے گئے ہیں۔ اسی طرح محکمہ خوراک کے افسران کی جانب سے شہر بھر میں 43 فلور ملز کو چیک کیا گیا ہے جس میں سے 10 فلور ملز کے نمونے تجزیہ کیلئے لیبارٹری ارسال کردیئے گئے ہیں جبکہ محکمہ خوراک کی جانب سے کی جانیوالی کارروائیوں کے باعث آٹے کی قیمتیں 1230 سے گر کر 1070 تک آگئی ہیں جبکہ نانبائیوں کے آٹے کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آگئی ہے جس کے تحت انہیں ملنے والا فی تھیلہ 6 ہزار کے بجائے اب 5 ہزار میں مل رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے خوراک میاں خلیق الرحمان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں کارروائیوں کا بھر پور سلسلہ جاری ہے جبکہ علی الصبح فروٹ و سبزی منڈیوں میں محکمہ خوراک کے افسران جا کر بولی کے عمل کا نگرانی کرنے سمیت باقاعدہ سرکاری نرخنامہ جاری کرلیتے ہیں اور بعد ازاں اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے دن بھر افطاری تک کارروائیاں کرتے ہیں تاکہ کوئی مقررہ نرخ سے تجاوز نہ کریں اور شہریوں کو ریلیف ملنے سمیت انہیں معیاری اشیائے خوردونوش میسر ہو۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -