خانہ فرہنگ ایران کے زیر اہتمام آن لائن القدس کانفرنس کا انعقاد

خانہ فرہنگ ایران کے زیر اہتمام آن لائن القدس کانفرنس کا انعقاد

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر) سرزمین فلسطین اور  بیت المقدس کی آزادی کی حمایت  میں خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران کراچی کے زیر اہتمام'' غاصب حکومت کے ساتھ تعلقات  کا قیام، عالم اسلام  کے اتحاد   کے خلاف سازش" کے عنوان سے  آن لائن "القدس کانفرنس" منعقد ہوئی جس  سے قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران  کے انچارج علی رضا سجادی،  ڈائریکٹر خانہ فرہنگ  بہرام کیان،  مجلس وحدت مسلمین  کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی، صدرشعبہ بین الاقوامی تعلقات جامعہ کراچی  محترمہ ڈاکٹر شائستہ تبسم، فلسطین فاونڈیشن پاکستان  کے  سیکریٹری جنرل  صابر ابومریم اور  روزنامہ پاکستان  کراچی کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر مبشر میرنے خطاب کیا۔ علی رضا سجادی نے اپنی تقریر میں عالمی یوم القدس کو  امام خمینی کا  دانشمندانہ  اقدام قرار دیا جس کی  بدولت  مسئلہ فلسطین کوننہ صرف مسلم ممالک میں  بلکہ عالمی سطح پر پذیرائی نصیب ہوئی ہے۔  اس دن ہر سال پوری دنیا میں مظلوم فلسطینیوں کی حمایت اور غاصب اسرائیلی حکومت  کے  مظالم  کے خلاف میں بڑے پیمانے پر مظاہرے منعقد ہوتے ہیں جو مسلمانوں  کے دلوں میں فلسطینیوں کی حمایت  کو ابھارنے کے ساتھ ساتھ عالمی اسلامی بیداری  کا بھی سبب بن رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا: اس سال یوم القدس   پچھلے سالوں سے کچھ مختلف ہے، اس لیئے کہ  اس سال بعض عرب ممالک نے صہیونی حکومت کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کئے ہیں جس کا  بنیادی ہدف مسئلہ فلسطین کو کمزورکرنا ہے۔ اس کا دوسرا  مقصد  اس اقدام  کے ذریعے  مسلم ممالک  کے درمیان اختلاف پید اکرنا ہے  تاکہ تحریک   آزادی قدس  کسی بھی صورت  نتیجہ خیز ثابت نہ ہو۔ خانہ فرہنگ کے ڈائریکٹر نے  کہا: یوم القدس وہ دن  ہے جسے  امام خمینی (رح) کی مدبرانہ حکمت عملی کے ذریعے، مسلمانوں کو مظلوم فلسطینیوں کے ہم آواز بننے  اور القدس کے بارے میں اپنے جذبات کے اظہار کے لئے منتخب کیا گیا۔  القدس شریف مسلمانوں کیلئے  قبلہ اول ہونے اور تیسرا  مذہبی مقدس مقام ہونے کے ناطے،عالم اسلام کو متحد رکھنے کا  اہم ترین ذریعہ ہے۔ یہ  ایک ایسا  وسیلہ ہے جو فلسطینی قوم اور دنیا کے مسلمانوں کے تشخص کی کھل کر وضاحت کرتا ہے اور ہر سال یہ یاد دلاتا ہے کہ مسئلہ فلسطین عالم اسلام کا سر فہرست مسئلہ ہے اور فلسطین اور القدس کی حمایت پوری دنیا کے مسلمانوں کے کیلئے وحدت و یکجہتی کا سرچشمہ ہے۔ علامہ احمد اقبال نے اپنی گفتگو میں  کہا: بلاشبہ فلسطین اورقدس کا مسئلہ   اس وقت پوری دنیا، خاص طور پر عالم اسلام کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ مسلمانوں کے اتحاد اور یکجہتی کا باعث بھی ہے۔ فلسطین کے بارے میں مسلمانوں میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ عالمی سامراج   آزادی فلسطین کی تحریک کو کمزور کرنے  اور غیر قانونی  طور  پر غاصب  اسرائیل کو تسلیم کرانے کیلئے  سازشوں میں مصروف ہے۔ صابر ابو مریم نے کہا: مسئلہ فلسطین موجودہ دورمیں ایک انتہائی نازک ترین دور میں داخل ہوچکا ہیاس لئے نوجوان نسل کو فلسطین کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کارلانے کی ضرورت ہے۔ امریکہ مسئلہ فلسطین کونام نہاد صدی کے معاہدے کے ذریعے کمزور کرنے کی مسلسل کوشش میں ہے۔ اس صورتحال میں اس شرمناک انسانیت دشمن منصوبے کوبے نقاب کرنا ہمارا اولین فرض ہے۔ جب بھی ہم فلسطینی عوام پر فلسطینی کاز اور صہیونی حکومت کے ظلم وستم کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہم اس مسئلے میں شامل طاقتوں کو نظرانداز نہیں کرسکتے ہیں۔ کیونکہ اسرائیل کی تشکیل سے لے کر آج تک اس کو مظبوبط بنانے مین امریکی حکومت نے ہی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔مبشر میر نے کہا: فلسطین اور مشرق وسطی کے مسائل اگرچہ ستر سال سے زیادہ عرصے سے عالمی برادری میں موضوع بحث رہے ہیں لیکن پچھلے چالیس سالوں میں یہ بہت اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد، اس وقت  کے پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی دعوت پرلاہور میں اسلامی رہنماؤں پر مشتمل ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس کا  انعقاد ہوا، جس پر دنیا بھر کے میڈیا  کی توجہ مرکوز  رہی۔اس کانفرنس کا بنیادی ہدف اسلامی ممالک میں اتحاد و یکجہتی پیدا کرنا اور مسلمانوں کے بنیادی مسائل خصوصا فلسطین و کشمیر کے مسائل کو حل کرنا تھا۔ قابل ذکر بات ہے کہ اس کانفرنس   کے انعقاد  کے کچھ سالوں بعد  ہی  اس کے محرک اہم   مسلم  سربراہان مملکت منظر سے غائب ہوگئے  تھے۔اس کانفرنس کے کچھ عرصے بعد ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوا اور پھر ایران-عراق جنگ شروع ہوئی، اور اس کے نتیجے میں، مشرق وسطی میں صورتحال مزید بگڑ گئی۔ ایران اور عراق کے مابین جنگ کے خاتمے کے بعد، اس خطے میں تنازعات کا   ایک طویل سلسلہ شروع  ہوا  جو آج  تک جاری ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -