تھانوں میں کھڑی گاڑیاں کھٹارہ، قیمتی پرزے چوری ہونیکا انکشاف

تھانوں میں کھڑی گاڑیاں کھٹارہ، قیمتی پرزے چوری ہونیکا انکشاف

  

ملتان (وقائع نگار)پولیس اصلاحاتی نظام میں قوانین کا فقدان  نظر آرہا ہیملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف تھانوں اور چوکیوں پر مال مقدمہ سمیت مختلف نوعیت میں پکڑی جانے والی وہیکلز ودیگر اشیا کھلے آسمان تلے ناکارہ ہونے لگی۔محافظوں کی چھتری تلے قیمتی اشیا کا چوری ہونے معمول۔جبکہ سپرداری کی صورت میں ڈھانچے ملنا مدعی مقدمہ کا مقدر بن گیا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں تھانوں اور چوکیوں پر عرصہ دراز سے پکڑی (بقیہ نمبر12صفحہ6پر)

جانے والی وہیکلز کھٹارہ ہونے لگی ہیں۔کیونکہ کئی مقدمات میں پولیس جب چوروں یا ڈکیتوں سے موٹر سائیکلوں۔کاریں۔و دیگر ضروری سامان برآمد کرتی ہیں۔تو انکو سب سے پہلے تو تھانوں میں لا کر کھڑی کر دیا جاتا ہے۔جہاں وہ کھلے آسمان کے تلے کئی کئی سال تک کھڑی رہتی ہیں۔ اس دوران پولیس ملازمین کاروں۔موٹر سائیکلوں و دیگر وہیکلز سے سٹیرنگ۔سیٹیں۔اشارہ۔بتیاں۔شیشے۔انجن کا ضروری سامان نکال لیتے ہیں۔اور آخر کار پھر یہ ہوتا ہے کہ وہیکلز اپنے پیروں پر چلنے کے قابل نہیں رہتی۔اور انکو اینٹوں کے سہارے کھڑا کرنا ہوتا ہے۔ذرائع کے مطابق اسی طرح جو وہیکلز لاوارث کی صورت میں بند ہوتی ہے۔انکو تو اکثر تھانوں کے ایس ایچ اوز اپنے ذاتی استعمال میں لے لیتے ہیں۔یا انکے انجن اور چیسیز نمبر کو تیزاب کے ذریعے مٹا دیا جاتا ہگ۔تاکہ لمبے عرصہ اپنے استعمال میں رکھا جاسکے۔ذرائع کے مطابق ملتان میں گریڈ سترہ افسر تھانے میں بند وہیکل میں سے قیمتی سامان نکال لیا تھا۔اور مدعی کے شور مچانے پر بڑی مشکل سے گاڑی واپس کی۔اسی طرح ملتان پولیس کے گریڈ 14 کے افسر نے اپنی تعیناتی کے دوران شہری کی نان کسٹم پیڈ موٹر سائیکل کو پکڑا۔جسکو ہڑپ کرنے کی نیت سے غائب کردیا گیا۔جبکہ موٹر سائیکل کی برآمدگی کیلئے تاحال دربدر کے دھکے کھا رہا ہے۔ایک اندازے کے مطابق جنوبی کے تھانوں میں سینکٹروں کی تعداد میں وہیکلز و دیگر اشیا تھانوں میں موجود ہیں۔کئی بار یہ بھی دیکھنا میں آیا ہے کہ سپرداری کراکر جانے والے مدعی مقدمہ کو اپنی سوار اینٹوں پر کھڑی ملتی ہیں۔جو چلنے کے قابل نہیں رہتیں۔پولیس ذرائع کے مطابق ضلعی پولیس افسران نے اپنے اپنے متعلقہ ڈسٹرکٹ میں لاوارث گاڑیوں کی نیلامی بھی ہے۔لیکن روز بروز چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافے کے پیش نظر دوبارہ وہیکلز سمیت دیگر اشیا کو پکڑ لیاجاتا ہے۔جو کھٹارہ ہوتیں رہتیں ہیں۔

انکشاف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -