اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کیلئے حکومت مزید اقدامات اٹھائے، زاہد حسین

اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کیلئے حکومت مزید اقدامات اٹھائے، زاہد ...

  

  ملتان (نیوز رپورٹر)ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے(بقیہ نمبر14صفحہ6پر)

 چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب میں پاکستانی سفیر اور انکے عملہ کو ہٹا کر درست فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے سفارتخانوں میں پاکستانیوں کی توہین اور انکے مسائل نظرانداز کرنے کا سلسلہ کم ہو جائے گا جبکہ اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد بڑھے گا۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کئی بار دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کو قومی اثاثہ قرار دیا ہے اور وہ انکے مسائل کے حل میں ذاتی دلچسپی لیتے ہیں۔ اوورسیز پاکستانی حکومت کی جانب سے کسی سرمایہ کاری کے بغیر ستائیس ارب ڈالر کا زرمبادلہ بھیج رہے ہیں جبکہ ملک برآمدات سے صرف 23 ارب ڈالر کماتا ہے جبکہ برآمدات کو قائم رکھنے کے لئے اربوں روپے خرچ بھی کرنا پڑتے ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کے بھیجے ہوئے زرمبادلہ سے ملک کے کرنٹ اکانٹ ڈیفیسٹ سمیت بہت سے دیگر مسائل حل ہو جاتے ہیں مگرغیرممالک میں پاکستانی سفارتکانوں سے انھیں کوئی مدد نہیں ملتی بلکہ ہر قسم کی شکایات عام ہیں جس کا سلسلہ روکنے کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب میں بھی پاکستانی سفارخانے کے بارے میں پاکستانی مزدوروں کی توہین، مسائل سے لا تعلقی اور بھتہ خوری کی شکایات عام تھیں جس پر وزیراعظم نے ایکشن لیا ہے جو ملکی تاریخ میں پہلی مثال ہے۔اب جنرل (ر) بلال اکبر کو سعودی عرب میں سفیرنامزد کر دیا گیا ہے جس سے وہاں مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل ہونگے جبکہ سعودی حکومت سے تعلقات مذید مستحکم ہونگے۔ جنرل بلال اکبر نے بطور ڈی جی رینجرز کراچی میں امن وامان قائم کرنے کے علاوہ جو قومی وحربی خدمات سرانجام دی ہیں وہ یادگار ہیں اور بزنس کمیونٹی انہیں تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور توقع رکھتی ہے کہ جنرل بلال اکبر کی سفارت کے دور میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوگا۔ میاں زاہد حسین نے مذید کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی وزارت صرف بیانات دینے کے علاوہ یہ بھی سوچے کہ دیگر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی زندگی آسان بنانا اسکا فرض ہے۔ انکے مسائل کم نہیں کئے جا سکتے تو ان میں اضافہ بھی نہیں کرنا چائیے۔ ایک طرف پاکستانی سفارتخانوں کا یہ حال ہے جبکہ دوسری طرف بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت اور دیگر ممالک کے سفارتخانوں میں اپنے شہریوں کی ہر ممکن مد د اورعزت کی جاتی ہے ا ورسفارتی عملہ انکی مدد کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔

زاہد حسین

مزید :

ملتان صفحہ آخر -