پی سی جی اے، کپاس کی فیکٹریوں   میں آمد کے اعدادوشمار فائنل

پی سی جی اے، کپاس کی فیکٹریوں   میں آمد کے اعدادوشمار فائنل

  

 ملتان(نیوز رپورٹر)پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے)نے کپاس کی فیکٹریوں میں آمد کے حتمی اعدادو شمار جاری کر دیئے ہیں جسکے مطابق یکم مئی 2021تک ملک کی جننگ فیکٹریوں میں 56لاکھ 45ہزار967گانٹھ کپاس آئی۔ یکم مئی2020 کو کپاس (بقیہ نمبر47صفحہ6پر)

کی فیکٹریوں کے اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے تھے۔صوبہ پنجاب کی فیکٹریوں میں 35لاکھ 9ہزار798گانٹھ کپاس آئی ہے۔ صوبہ سندھ کی فیکٹریوں میں 21لاکھ 36ہزار 169گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی ہے۔ یکم مئی2021 تک فیکٹریوں میں آنے والی کپاس سے56 لاکھ 45ہزار967گانٹھ روئی تیار کی گئی۔ ملک میں جننگ فیکٹریاں آپریشنل نہیں ہیں۔ ایکسپورٹرز نے رواں سیزن میں 70ہزار200گانٹھ روئی خرید کی ہے جبکہ ٹیکسٹائل سیکٹرنے55لاکھ 35ہزار023گانٹھ روئی خرید کی ہے۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان(TCP)    نے کاٹن سیزن 2020-21میں خریداری نہیں کی ہے۔ صوبہ پنجاب میں جننگ فیکٹریاں آپریشنل نہیں ہیں اور35لاکھ 9ہزار798گانٹھ روئی تیار کی گئی ہے۔               ضلع ملتان میں یکم مئی2021تک83ہزار706گانٹھ کپاس،ضلع لودھراں میں 40ہزار375گانٹھ کپاس،ضلع خانیوال میں 2لاکھ32ہزار 346گانٹھ کپاس،                      ضلع مظفر گڑھ میں 92ہزار 616گانٹھ کپاس، ضلع ڈیرہ غازی خان میں 3لاکھ 25ہزار526گانٹھ کپاس، ضلع راجن پور میں 88ہزار615گانٹھ کپاس،         ضلع لیہ میں 1لاکھ69گانٹھ کپاس،ضلع وہاڑی میں 1لاکھ 15ہزار506گانٹھ کپاس، ضلع ساہیوال میں 1 لاکھ85ہزار719گانٹھ کپاس،      ضلع میانوالی میں 87ہزار132گانٹھ کپاس، ضلع رحیم یار خان6لاکھ56ہز ار941گانٹھ کپاس، ضلع بہاولپور میں 4لاکھ4ہزار116گانٹھ کپاس،     ضلع بہاولنگرمیں 10لاکھ581گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی ہے۔ضلع سانگھڑمیں 7لاکھ91ہزار278گانٹھ کپاس، ضلع میر پور خاص میں 29ہزار695گانٹھ کپاس، ضلع نواب شاہ میں 63ہزار781گانٹھ کپاس، ضلع نو شہرو فیروز میں 1لاکھ93ہزار831گانٹھ کپاس، ضلع خیر پور میں 2لاکھ18ہزار069گانٹھ کپاس، ضلع سکھر میں 3لاکھ63 ہزار945گانٹھ کپاس،      ضلع جام شورومیں 40 ہزار800گانٹھ کپاس، ضلع بلوچستان میں 67ہزار 200 گانٹھ کپاس اور  ضلع حیدرآباد میں 1لاکھ5ہزار475گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی ہے۔             غیر فروخت شدہ سٹاک40ہزار744گانٹھ کپاس اور روئی موجود ہے۔

فائنل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -