محکمہ بلڈنگز میں کرپٹ افسروں کا  راج، فرضی کوٹیشنز کے ذریعے لوٹ مار

محکمہ بلڈنگز میں کرپٹ افسروں کا  راج، فرضی کوٹیشنز کے ذریعے لوٹ مار

  

  بہاول پور(بیورورپورٹ)  محکمہ بلڈنگز (ایم اینڈ آر) میں عرصہ دراز (بقیہ نمبر53صفحہ7پر)

سے ہولناک کرپشن کا دور دورہ ہے‘ فرضی کوٹیشنز کے ذریعے کروڑوں روپے دفتر اور ٹھیکیدار مبینہ طور پر بندر بانٹ کر لیتے ہیں۔ طاہر وحید ایکسین جن کے پاس (ایم اینڈ آر) بلڈنگز بہاول پور کا اضافی چارج ہے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ انتہائی کرپٹ آفیسر ہیں اور محکمہ میں کرپشن کنگ کے نام سے مبینہ طور پر مشہور ہیں جبکہ وہ محکمہ بلڈنگز(ون) بہاول پور سے کرپشن کی ہی بنیاد پر بذریعہ انٹی کرپشن جیل یاترا بھی کر چکے ہیں۔ تاہم موصوف ایکسین کے کرپشن کے مزید معاملے بھی سامنے آ رہے ہیں اور وہ ریٹائرمنٹ کے نزدیک مال غنیمت وہ بھی بے حساب جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔   اُدھر بتایا جاتا ہے کہ پیپرا رولز کے مطابق اگر ٹینڈرز متعلقہ تاریخ کو نہ ہو سکیں تو دوبارہ ٹینڈرز اخبار میں مشتہر کر کے طلب کئے جاتے ہیں۔ اُدھر شہری جمال اور شکیل نے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو‘ کمشنر بہاول پور ڈویژن‘ ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ‘ ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن‘ سپرنٹنڈنٹ انجینئر ایم اینڈ آر ساؤتھ پنجاب کو درخواستیں ارسال کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ہے کہ پیپرا رولز کی شق نمبر 29 کے تحت ٹینڈرز کی منسوخی کی وجہ بیان کرنا ضروری ہے جبکہ جن ٹھیکیداران نے مقابلہ میں حصہ لیا اور زر ضمانت بنک سی ڈی آرز نہیں ساتھ لگائیں انہیں بلک لسٹ کرنا پیپرا رولز میں شامل ہے اور یہ ساری کارروائی سراسر دھوکہ دہی کے زمرے میں آتی ہے۔ دوسری جانب میڈیا نمائندگان کے ایکسین سے استفسار پر کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں تو ایکسین نے بڑی لا پرواہی س جواب دیا کہ ایک مرتبہ جیل بھگت کر آیا ہوں اور پھر موصوف نے نہایت ہی دیدہ دلیری سے اپنی جیل یاترا کے قصے سنانے شروع کر دیئے اور اُس وقت انکے چہرے پر ذرہ بھر بھی ندامت کے آثار نہ تھے۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے ٹینڈرز کی فی الفور منسوخی اور ذمہ داران کیخلاف سخت قانونی‘ محکمانہ و تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ 

لوٹ مار

مزید :

ملتان صفحہ آخر -