انقلاب ےا تبدےلی؟

انقلاب ےا تبدےلی؟
انقلاب ےا تبدےلی؟

  

آج پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ انقلاب کی باتیں کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مسّولینی اور ہٹلر کو یاد کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ آج پاکستان کو ہٹلر جیسے حکمران کی ضرورت ہے جو ان بے بس اور کچلے ہوے عوام کو ٹھیک کر سکے اور ان کے کس بل نکال سکے۔میکا ولی جو حکمران کو ”پرنس“ کہتا تھا ،کے نظریات کے مطابق جو بھی حکومت کی اطاعت نہ کر سکے، اس کو چوک میں پھانسی دے دی جاے ،یعنی حکمرانوں کی اطاعت ہر حال میں عوام پر فرض ہے۔ آج جس طرح کی طرز حکمرانی پاکستان میں ہے، دراصل اس کا منبع پاور پالیٹکس ہے اور اس نظرےعے کا خالق میکاولی ہی تھا ،جو پاور پالیٹکس کا حامی تھا۔ اس کے نزدیک کامیاب حکومت کرنے کا طریقہ پاورپالیٹکس کااستعمال ہی تھا۔ ایک بہت بڑا حلقہ ایسے لوگوں کا بھی ہے، جو امام خمینی جیسے حکمران کی تمنا رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ امام خمینی جیسا حکمران ہی پاکستان کو موجودہ حالات سے نکال سکتا ہے ۔

پاکستان کو اس تناظر میں دیکھنا غلط ہو گا .... پاکستان میں ویسے حالات اب بھی نہیں ہیں کہ انقلاب فرانس یا انقلاب ایران کی بات کی جا سکے۔ویسے بھی انقلاب دنوں میں نہیں آیا کرتے، اس کے لئے کسی محرک کی ضرورت ہوتی ہے جو ایسی تحریک چلا سکے جو انقلاب کا موجب بن سکے ۔پاکستان میں تو ایسی کسی تحریک کا نکتہ آغازتک نظر نہیں آرہا۔ویسے بھی ایران کی تحریک کی بیناد مذہب تھی اور ایک غیر متنا زعہ اور سب حلقوں کو قابل قبول بڑا مذہبی لیڈر آیت اللہ خمینی کی شکل میں اس انقلابی تحریک کا محرک و بانی تھا ۔پاکستان میں عوام اپنی رائے کا اظہار بذرےعہ ووٹ کریں اور نااہل اور بدعنوان حکمرانوں کو ایوانوں سے نکال با ہر پھنکیں۔ پاکستان میں انقلاب سماجی اور معاشرتی بنیا دوں پر لانا ہو گا۔ اس کے لئے صحافیوں اور دانشوروں کو اپنا رول ادا کرنا ہو گا اور اپنے دامن کو پاور پا لیٹکس سے علیحدہ کرنا ہو گا، اس منقسم قوم کو اپنے ووٹ کے ذریعے تبدیلی کے لئے آمادہ اور مجبور کرنا ہو گا۔

امریکہ کو اگر کسی مسلم ریاست نے آج کے دور میں ناکوں چنے چبوای ہیں تو وہ ایران ہی ہے ۔ قوم پرست حکمرانوں کی موجودگی میں ایرانی عوام بھی اپنے حکمرانوں کے شانہ بشانہ امریکہ کو للکارتے نظر آتے ییں۔نیٹو اور اقوام متحدہ، جو امریکہ کی باندی بنا ہوا ہے، کے سر پر اس وقت دنیا پر قبضہ کرنے کا جنون طاری ہوچکا ہے گو کہ اس شیطانی جنون میں اسے پوری طرح کامیابی نہیں ہو پائی، لیکن ایک بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ لیبیا ، عراق، تیونس ،کویت اور افغانستان جیسے ملکوں میں نیٹو کی مدد سے یلغار کر کے امریکہ ان ملکوں کے قدرتی وسائل پر اپنی کمپنیوں کی مدد سے بالواسطہ کاروباری طریقے سے قبضہ کر چکا ہے۔ ان ملکوں میں خود ہی تباہی پھیلاکر بعد میں اپنی ہی کمپنیوں کو اس کی تعمیر نو کے ٹھیکے دلوا چکا ہے اور اپنے ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بےروز گاری کا کچھ بوجھ ان مسلم ملکوں کے وسائل پر قبضہ کر کے کم کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔

 ہمارے حکمرانوں کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہیوگو شاوےز اور فیڈل کاسترو کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا، جس نے پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی میں مثالی بنایا ہے، پر امریکہ ہاتھ کیوں نہیں ڈال پاتا ،حالانکہ یہ تمام ملک تو امریکہ کی ناک تلے موجود ہیں ۔بات پھر وہی آجاتی ہے کہ قومی تقاضوں اور عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے والے حکمرانوں کا طرز حکمرانی انہیں دنیا اور اپنے عوام کی نظروں میں ممتاز کےا کرتا ہے اور ایسے حکمران جب ملکی وقار اور سلامتی کے لئے کو ئی بھی قدم اُٹھاتے ہیں تو ان کے عوام ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں اور دنیا کی ہر طاقت سے ٹکر لینے کے لئے تیار پائے جاتے ہیں ۔ بہترین طرز حکمرانی عوام کی قومی غیرت اور حمیت کو جگانے کے ساتھ ساتھ ان کو قومی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا رہتا ہے۔آج پاکستان میں انقلاب کی بات کرنے والے انقلاب کی ہولناکی اور تباہی سے شائد آگا ہ ہی نہیں ہیں۔ جمہوری طرز حکومت میں انقلاب نہیں آیا کرتے، بلکہ عوام کی راے اور تائید سے ووٹوں کے ذریعے تبدیلی آیا کرتی ہے۔ہمیں تو ان روایتی سیاست دانوں نے کچھ اس طرح سے گروہوں میں بانٹا ہوا ہے کہ آج بھی ہم دونوں بڑی سےاسی جماعتوں اور ان کے کرپشن میں لتھڑے ہوئے لیڈروں کے لئے آپس میں دست و گریباں ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ملک عزیز کے حکمران میکاولی کے نظریات کے حامی ہیں اور پاور پالیٹکس کے ذریعے حکومت کر کے عوام کو کنٹرول کر رہے ہیں۔

افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان میں آج بھی عوام کو انقلاب کے نام پر گمراہ کےا جا رہا ہے۔ انقلاب اور تبدیلی کو آپس میں گڈمڈکر کے عوام کو کنفیوز کےا جا رہا ہے۔ آج ضرورت اس امر یکی ہے کہ عوام کو شعور دیا جاے کہ وہ حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ اپنا طرز حکمرانی بدلیں اور عوام کی فلاح اور اجتماعی ترقی کو اپنی حکمرانی کا وصف بنائیں۔عوام کو بھی اُن کی ذمہ داری کا احساس دلانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ہر انتخاب میں اپناحق رای دہی استعمال کریں تاکہ ملک میں حقیقی نمائندہ جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آ سکے۔یقین کریں کہ اگر عوام نے انتخابی سیاست سے اپنی لا تعلقی ختم کر ڈالی اور صرف اپنا ووٹ کاسٹ کرنا ہی فرض بنا لیا تو اس ملک میں غیر جمہوری طاقتوں کو کبھی ہمت نہیں ہو گی کہ وہ اقتدار پر شب خون مار کر عوام کی منتخب حکومتیں ختم کر سکیں اور حکمران بھی اپنا طرز حکمرانی عوام کی فلاح کے لئے بدلنے پر مجبور ہوں گے ۔ اس ملک میں احتساب صرف عوام کر سکتے ہیں اور وہ بھی ووٹ کے ذریعے۔ اس لئے اگلے انتخابات میں ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ اپنا ووٹ کاسٹ کر کے جمہوری طریقے سے تبدیلی لائے۔

مزید :

کالم -