تماشا نہ بنیں!

تماشا نہ بنیں!
تماشا نہ بنیں!

  


تحریک انصاف کی طرف سے نیٹو سپلائی بند کرنے کے اعلان پر ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے، عمران خان نے اپنی پارٹی کی کور کمیٹی کے فیصلے پر یہ اعلان کیا ہے کہ ڈرون حملوں کے خلاف نیٹو سپلائی بند کر دی جائے گی، چاہے اس پر انہیں خیبرپختونخوا کی حکومت سے ہی کیوں نہ محروم ہونا پڑے۔ یہ بہت بڑا فیصلہ ہے اور اس کے پاکستانی سیاست کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کی طرف سے اس کی مخالفت کی جا رہی ہے، مسلم لیگ ن نے پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں اس حوالے سے کسی بھی قرار داد کے پاس نہ ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکہ کے حکیم اللہ محسود پر ڈرون حملے کے بعد صورتحال خاصی گھمبیر ہو چکی ہے۔ خود حکومت کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ پاکستان امریکہ سے اپنے تعلقات پر نظرثانی کرے گا۔ یہ نظرثانی کس حد تک ہوتی ہے، اس بارے میں تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ واضح ہو چکی ہے کہ حکومت کے اقدامات کو اس ڈرون حملے سے شدید دھچکا لگا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ حکومت کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔ خاص طور پر وزیر اعظم محمد نواز شریف کے دورہ امریکہ کو جس طرح کامیاب قرار دیا جا رہا تھا، وہ پروپیگنڈہ دم توڑ گیا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے تو ایک ٹی وی پروگرام واضح کر دیا ہے کہ دورہ امریکہ کے دوران ڈرون حملے روکنے کا معاملہ سرے سے زیر بحث ہی نہیں آیا۔ اس کا اظہار اس سرکاری اعلامیے سے بھی ہوتا ہے۔ جو صدر اوباما اور وزیر اعظم محمد نواز شریف کی ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔ اس قسم کی صورتحال میں حکومت کی طرف سے اسی ردعمل کا اظہار ہونا چاہئے تھا، جو وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کیا ہے۔ مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ موجودہ حکومت کوئی بڑا عملی قدم نہیں اٹھا سکتی، جو امریکہ کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکے۔

اس تناظر میں جب تحریک انصاف نے نیٹو سپلائی کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے تو ایک ہلچل مچل گئی ہے، کیونکہ نیٹو سپلائی کی ضامن وفاقی حکومت ہے، اگر صوبائی حکومت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں اس کا گذرنا ممنوع قرار دے دیتی ہے تو صورت حال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ شاید اس کے پاکستانی سیاست پر سنگین اثرات مرتب ہوں۔ کیونکہ وفاقی حکومت اس حکم کو روکنے کے لئے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں تحریک انصاف اور مذہبی جماعتیں احتجاج کا دائرہ پورے ملک تک پھیلا دیں گی۔ اسی دوران اگر دہشتگردی کے واقعات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے تو وفاقی حکومت پر دباﺅ میں شدت آئے گی جس کی وجہ سے ملک میں جمہوریت کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ نیٹو سپلائی پہلے بھی ایک بار بند کی گئی تھی مگر اس کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں اتفاقی رائے موجود تھا۔ اب صورتحال مختلف ہے اپوزیشن کی ایک جماعت اس عمل کو آگے بڑھا رہی ہے اور حکومت اس کی مخالف ہے۔ خطرہ ہے کہ اس سے دنیا کے سامنے ہم تماشا نہ بن جائیں۔ قومی سطح پر اس حوالے سے یہ اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ہمیں کیا کرنا ہے۔ جس طرح آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے متفقہ فیصلہ کیا گیا تھا، اب بھی اس طرح کی سرگرمی درکار ہے۔ تاہم آل پارٹیز کانفرنس کے دیئے گئے مینڈیٹ پر جس طرح وفاقی حکومت کوئی فوری قدم اٹھانے میں ناکام رہی اور تاخیر کی وجہ سے امریکہ کو ڈرون حملے کے ذریعے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا موقع ملا، اس کی وجہ سے شاید اب حکومت کو اتفاق رائے پیدا کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ تاہم اس حوالے سے کوششوں کی بہرطور ضرورت ہے۔

یہاں اس بات کو پیش نظر رکھا جانا چاہئے کہ قومی قیادت میں انتشار پیدا کرنا بھی ان طاقتوں کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ جو پاکستان میں امن نہیں دیکھنا چاہتیں۔ ان طاقتوں کے لئے یقیناً یہ ایک بری خبر تھی جب پوری قومی و عسکری قیادت نے مل بیٹھ کے یہ فیصلہ کیا کہ طالبان سے مذاکرات کئے جائیں اس قرار داد کا یہ حصہ بھی یقیناً ان طاقتوں کے نزدیک قابل اعتراض تھا کہ امریکہ ڈرون حملے بند کرے، اب اگر یہ اتفاق رائے برقرار نہیں رہتا اور ہم قومی سطح پر تقسیم ہو جاتے ہیں تو یہی قوتیں ہماری اس کمزوری کا فائدہ اٹھائیں گی۔ حکومت اور تحریک انصاف دونوں کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ا ٓپس کا انتشار یا رسہ کشی ہمیں منزل سے مزید دور کرے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اسے سیاسی مسئلے کے طور پر ڈیل نہ کرے جیسا کہ اس وقت کیا جا رہا ہے اور تحریک انصاف کے فیصلے پر مسلم لیگ ن بڑھ چڑھ کر تنقید کر رہی ہے۔ عمران خان نے ابھی چند روز پہلے ہی یہ اعلان کیا تھا کہ آئندہ کوئی ڈرون حملہ ہوا تو وہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں قرار داد پیش کر کے نیٹو سپلائی بند کر دیں گے۔ اب چونکہ نہ صرف حملہ ہو چکا ہے بلکہ اس میں طالبان کی ایک ہائی پروفائل شخصیت بھی نشانہ بن گئی ہے، اس لئے عمران خان اپنے کئے گئے اعلان کے مطابق نیٹو سپلائی بند کرنے جا رہے ہیں یہ ان کی سیاسی ساکھ کا مسئلہ ہے۔ اس لئے وہ شاید اس فیصلے سے پیچھے نہ ہٹیں۔ تاہم اگر وزیر اعظم محمد نواز شریف آگے بڑھیں اور انہیں دورہ امریکہ کے حوالے سے اعتماد میں لے کر فیصلہ پر نظرثانی کا کہیں تو شاید معاملات پوائنٹ آف نورٹرن کی طرف نہ جائیں مگر جس قسم کی فضا بن گئی ہے۔ اس میں نہیں لگتا کہ فاصلوں کو ختم کرنے کے لئے یہ قدم اٹھایا جا سکے گا ایک دوسرا نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ صرف خیبرپختونخوا کے ذریعے نیٹو سپلائی کو بند کرنے سے امریکہ پر کوئی دباﺅ نہیں پڑے گا۔ کیونکہ بلوچستان کے راستے بھی نیٹو سپلائی جاری ہے۔ وہ راستہ اختیار کر لیا جائے گا۔ تاہم اس فیصلے سے تحریک انصاف کم از کم خیبرپختونخوا کے عوام کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو جائے گی، جو دہشتگردی کے پے در پے حملوں کی وجہ سے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو ہدف تنقید بنانے لگے تھے۔ تحریک انصاف کے اس اقدام کا خیبرپختونخوا کی حد تک یہ فائدہ بھی ہو سکتا ہے کہ طالبان وہاں دہشتگردی کی سرگرمیاں موقوف کر دیں اور عارضی امن قائم ہو جائے۔

غور کیا جائے تو پاکستان کی سیاست اب مقامی مسائل سے نکل چکی ہے۔ ملک میں مسائل کا انبار ہے، عوام معاشی و معاشرتی لحاظ سے ان گنت مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں لیکن ہماری حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کو بڑی مہارت کے ساتھ ایسے معاملات میں الجھا دیا گیا ہے۔ جن پر ان کی دسترس ہی نہیں۔ دہشتگردی کی جس جنگ میں جنرل (ر)پرویزمشرف نے کولن پاول کی ایک فون کال پر شرکت کی حامی بھر لی تھی، وہ بڑھتے بڑھتے ہمارے لئے ایک ایسا آسیب بن جائے گی کہ جس سے نکلنے کا ہمیں کوئی راستہ نہیں ملے گا۔ شاید اس بارے میں کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ ہمارے کچھ دانشور یہ کہتے ہوئے خوشی سے نہال ہو رہے ہیں کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد پاکستانی طالبان انتشار کا شکار ہو کر کمزور ہو چکے ہیں، اس لئے ان سے مذاکرات میں اپنی شرائط منوانا آسان ہوگیا ہے۔ ایسے دانشور یہ بھول جاتے ہیں کہ خود ہماری قیادت بھی تو انتشار کا شکار ہے ایک سے بڑھ کر ایک بقراطی جھاڑنے والا موجود ہے۔ جب ہم خودکسی معاملے میں متفق نہیں ہیں تو دشمن کمزور سے کمزور تر کیوں نہ ہو ہم اس سے اپنی بات کیسے منوا سکتے ہیں، اصل مسئلہ جس پر ہماری پوری قومی قیادت کو مفادات سے بالاتر ہوکر بیک زبان ہونا چاہئے، وہ پاکستان میں امن کا قیام ہے۔ اس کیلئے چاہے امریکہ کی مخالفت مول لینی پڑے یا طالبان کو سمجھانا پڑے، کم از کم ہماری آواز ایک ہونی چاہئے اگر ہم اسی طرح دنیا کو انتشار وافتراق کا تاثر دیتے رہے ،جیسا اب دے رہے ہیں توتماشاہی بنے رہیں گے اورمنزل ہم سے دورہوتی چلی جائے گی۔  ٭

 تماشاہی بنے رہیں گے اور منزل ہم سے دور ہوتی چلی جائے گی۔       ٭

مزید : کالم