اکتوبر ،نومبر1947ءمیں مسلمانان ِ جموں کا قتل عام (1)

اکتوبر ،نومبر1947ءمیں مسلمانان ِ جموں کا قتل عام (1)
اکتوبر ،نومبر1947ءمیں مسلمانان ِ جموں کا قتل عام (1)

  


جموں میں مسلمانوں کے قتل عام کا پس منظر: جموں، جہاں مسلمان آبادی کا تناسب ریاست کے باقی حصوں کے مقابلے میں خاصا کم تھا، تحریک آزادی¿ کشمیر کی بانی و علمبردار جماعت آل جموںو کشمیر مسلم کانفرنس کا اور اس اعتبار سے ریاست جموںو کشمیر میں تحریک پاکستان کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ مسلمانانِ جموں نے نیشنل کانفرنس کے متحدہ ہندو مسلم کشمیری قومیت کے گمراہ کن نعرے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم پر متحد اور منظم ہو کر یہ ثابت کر دیاتھا کہ انہیں اسلام اور پاکستان سے بے پناہ اور والہانہ عشق ہے....مگر ان کا یہ جرم ایسا نہیں تھا، جسے ریاست کا ڈوگرہ مہا راجہ اور جموں کے متعصب اور انتہا پسند ہندو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیتے، لہٰذا انہوں نے مسلمانوں کو ان کے اس جرم کی سزا دینے کے لئے ایک انتہائی گھنا¶نی اور بھیانک سازش تیار کی۔

تقسیم برصغیر کا بنیادی تصور، جس کی اساس پر پاکستان معرض وجود میں آیا ، یہ تھا کہ مسلمان ہندو¶ں سے الگ ایک جداگانہ قوم ہیں، جن کا دین، تہذیب، معاشرت ، ہر شے ہندوﺅں سے جدا ہے، اس لئے انہیں ان کے اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک ایسا الگ وطن ملنا چاہئے، جہاں وہ اپنے دین، تہذیب اور نظام ِ حیات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اس اصول کے مطابق یہ طے پایا تھا کہ مسلم اکثریت کے ملحقہ علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے اور ہندو اکثریت کے ملحقہ علاقے بھارت میں۔ اس اصول کے سامنے آتے ہی ہندو جو پہلے ہی انتہا پسند اور متشدد تنظیموں ، ہندو مہا سبھا، جن سنگھ اور راشٹریہ سیوک سنگھ کے پلیٹ فارموں پر منظم ہو کر مسلح ہو چکے تھے، اپنے انتہا پسندانہ فسطائی ہتھکنڈوں سے لیس ہو کر مسلمانوں کے خلاف میدانِ عمل میں اتر آئے تھے ۔ انہوں نے مشرقی پنجاب یو۔پی اور بہار میں محمد عربی کے نام لیواﺅں پر ظلم و استبداد کے وہ پہاڑ توڑے کہ الامان والحفیظ ۔ مسلح اور تربیت یافتہ درندہ صفت ہندو اور سکھ غنڈے جتھوں کی صورت میں منظم ہو کر مسلمانوں کی آبادیوں پر چڑھ دوڑے۔ مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کا سفاکانہ قتل کیا گیا۔ خواتین اسلام کی سرِعام عزتیں لوٹی گئیں۔ کروڑوں مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کو انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں ہجرت کرکے پاکستان میں پناہ گزین ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔

ریاست جموں و کشمیر کو مسلم غالب اکثریت کا ملحقہ علاقہ ہونے کی وجہ سے تقسیم ِ برصغیر کے اصولوں کے مطابق لازمی طور پر پاکستان میں شامل ہونا چاہئے تھا، نیز اس لئے بھی کہ تحریک ِ آزادی¿ کشمیر اپنے پس منظر اور نصب العین کے اعتبار سے ابتدا ہی سے تحریک پاکستان کا ایک حصہ رہی ہے اور تحریک ِ آزادیِ کشمیر کی بانی و علمبردار جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے، جسے اس وقت بلاشبہ مسلمانانِ ریاست کی قومی پارلیمنٹ کی حیثیت حاصل تھی، اپنے سالانہ اجلاس مورخہ 19جولائی 1947ءمیں اتفاق رائے سے ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا، اس لئے اسے پاکستان میں شامل ہونا چاہئے تھا، لیکن ریاست کا ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ پہلے ہی کانگرس کے ہندو لیڈروں کے ساتھ مل کر مسلمانانِ ریاست کے اس ملی فیصلے کے خلاف ایک مذموم سازش تیار کر چکا تھا۔ اس سازش کے مطابق مہا راجہ نے قیامِ پاکستان کے فوراًبعد پاکستان کے ساتھ معاہدہ قائمہ کر کے ریاستی مسلمانوں کو اس مغالطے میں رکھنے کی کوشش کی کہ وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے رہیں کہ مہا راجہ ریاست کا الحاق پاکستان کے ساتھ کرنا چاہتا ہے۔

دوسری طرف اس نے کانگریسی لیڈروں کے ایماءپر انتہا پسند ہندو اور سکھ تنظیموں.... راشٹریہ سیوک سنگھ، ہندومہا سبھا، جن سنگھ اور اکالی دل.... سے، جو قبل ازیں مشرقی پنجاب بہار اوریو۔پی میں خونِ مسلم سے ہولی کھیل چکی تھیں رابطہ قائم کیا، تاکہ مسلمانوں کے قتل عام کا وہ خونی ڈرامہ، جو قبل ازیں ان مقامات پر کھیلا جا چکا تھا، اب یہاں دہرایا جائے اور ظاہر ہے کہ اس مقصد کے لئے جموں سے، جہاں مسلمان پہلے ہی اقلیت میں تھے،زیادہ موزوں جگہ کون سی ہو سکتی تھی، چنانچہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت انتہاءپسند ہندو اور سکھ تنظیموں کے ہزاروں مسلح غنڈوں کو مشرقی پنجاب سے درآمد کیا گیا، اور راشٹریہ سیوک سنگھ کا ہیڈ کوارٹر جموں میں قائم کر کے اس کے زیرِ اہتمام جموں اور گردونواح کے ہندو¶ں کو بھی وسیع پیمانے پر فوجی تربیت دے کر مسلح کیا جانے لگا اور ریاستی اسلحہ خانے کی 7000 رائفلیں اور اسلحہ کے دوسرے ذخائر ان میں وسیع پیمانے پر تقسیم کئے گئے۔ ان ساری کارروائیوں کی تکمیل کے ساتھ ہی اواخر اکتوبر 1947ءمیں جموں اور گردوپیش کے علاقوں میں مسلمان آبادیوں پر ظلم و استبداد کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کا آغاز کر دیا گیا۔

جموں کے نواحی علاقوں میں مسلمانوں کا قتل عام:194ء میں جموں شہر اور اس کے مضافات میں مسلمانوں کی مجموعی آبادی 5 لاکھ کے لگ بھگ تھی اور ان کے قتل عام کا سلسلہ اوائل اکتوبر1947ءمیں شروع ہو گیاتھا ۔ ابتداگردونواح کے شہروں اور دیہاتوں.... سانبہ ، رنبیر سنگھ پورہ، میران صاحب وغیرہ کی مسلمان آبادیوں میں قتل و غارت گری سے کی گئی اور انتہاءپسند ہندو اور سکھ تنظیموں کے مسلح غنڈوں نے اکتوبر1947ءکے اواخر تک جموں و کشمیر کے گردونواح کے شہروں اور دیہاتوں سے نہتے اور بے بس مسلمانوں کا مکمل طور پر صفایا کر دیا۔ اکثریت کو موت کی نیند سلا دیا گیا، جبکہ کچھ لوگ جن کی تعداد بہت تھوڑی تھی، بچ بچا کر انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں سیالکوٹ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

 جموں کے نواحی علاقوں میں مسلمانوں کے قتل عام کی غیر ملکی شہادتیں: اکتوبر1947ء کے اس ہنگامہ قیامت کے دوران میں جموں کے نواحی شہروں اور قصبوں کے مسلمانوں پر جو قیامت گزری اس کی المناک داستانِ کے بعض پہلو انتہائی مستند حوالوں کے ساتھ پیش کر رہے ہیں ،اس سلسلے میں ہم سب پہلے دو برطانوی صحافیوں کی ، جنہوں نے انہی دنوں ان علاقوں کا دورہ کر کے ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی تھی، شہادت پیش کرتے ہیں۔ ان صحافیوں نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا: ”اوائل اکتوبر1947ءمیں سانبہ کے مقام پر وہاں کے 14ہزار مسلمانوں کو چاروں طرف سے محاصرے میں لے لیا گیا۔ محاصرے کے دوران ہندو اور سکھ غنڈوں کے جتھوں نے ان کی خوراک اور پانی کے تمام وسائل کو منقطع کر دیا ، وہاں کربلا کا منظر پیدا کر دیا اور ان کا سب کچھ چھین لیا ، اس کے باوجود مسلمان بھوک اور پیاس کی تمام سختیوں کو صبر اور حوصلے سے برداشت کرتے رہے۔ 22اکتوبر کو مہا راجہ خود سانبہ میں وارد ہوا، چنانچہ اس کی آشیر بادپاکر ان درندہ صفت غنڈوں نے ریاستی فوج اور پولیس کی معیت میں محصور نہتے مسلمانوں کے قتل ِ عام کا آغاز کر دیا، جس کے نتیجے میں 14ہزار مسلمانوں کی اس پوری آبادی میں سے صرف15 مجروح افراد بچ کر سیالکوٹ پہنچنے میں کامیاب ہو سکے“۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ:”20 اکتوبر 1947ءکو ملاٹانک کے مقام پر آٹھ ہزار مسلمان پاکستان کی طرف کوچ کرنے کے لئے جمع ہوئے، لیکن وہ ابھی سڑک پر دوتین میل ہی بڑھے تھے کہ ڈوگرہ افواج اور سکھ درندوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا۔ اس قتل عام میں صرف 40افراد زندہ بچ سکے جو بعد میں زخمی حالت میں سیالکوٹ پہنچے“....رپورٹ میں آگے چل کرکہا گیا ہے کہ: ”ریاستی حکام کی ہدایت پر میران صاحب کے 25 ہزار مسلمان پناہ گزینوں کو مہوہ کے میدان میں جمع کیا گیا۔ 23اکتوبر 1947ءکو انہیں پاکستان کی طرف پیدل کوچ کا حکم دیا گیا۔ ابھی قافلہ بمشکل چند قدم آگے بڑھا ہو گا کہ ڈوگرہ افواج نے قافلے کی تمام مستورات اور مال و اسباب کو چھیننا شروع کر دیا۔ اس کارروائی کے بعد مردوں کو ایک قطار میں کھڑا کر کے انہیں مشین گنوں کی گولیوں سے چھید ڈالا۔ 25 ہزار کے اس قافلے میں سے صرف 200 افراد دن رات کھیتوں میں چھپتے چھپاتے سیالکوٹ پہنچنے میں کامیاب ہوئے“.... (بحوالہ پاکستان: پس منظر، پیش منظر)

 ہم نے یہاں جموں کے نواحی شہروں اور دیہاتوں کی مسلمان آبادیوں پر ہندو¶ں اور سکھ غنڈوں کے ہاتھوں ڈھائے جانے والے ان وحشیانہ مظالم کے بارے میں دو غیر جانبدارانہ برطانوی صحافیوں کا حوالہ دینا اس لئے ضروری سمجھا ہے کہ ہندو فسطائیوں کے یہ مظالم اس قدر گھناﺅنے اور عام حالات میں اس حد تک ناقابل ِ تصور ہیں کہ اس دور کے ہی نہیں، تاریخ کے کسی بھی دور کے انسانوں سے ان کے عشر عشیر مظالم کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کالی دیوی کے پجاری ہندو غنڈوں نے اس عرصے میں جموں کے گرد و پیش کی مسلمان آبادیوں پر جو مظالم فی الواقع توڑے، ان کی تفصیلات اس سے بھی کہیں زیادہ لرزہ خیز اور ہوشربا ہیں۔

24 اکتوبر1947ءکو آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کا قیام اور 27 اکتوبر کو مہاراجہ ہری سنگھ کے نام سے جعلی دستاویزالحاق کو بہانہ بنا کر بھارت کا کشمیر پر تسلط:

پروگرام کے مطابق جموں شہر کے نواحی علاقوں کے فرزندانِ توحید کا صفایا کرنے کے بعد اب ان ہندو اور سکھ فسطائیوں کے قتل و غارت کا اگلا نشانہ جموں شہر کے مسلمان تھے، لیکن ابھی وہ ان کی طرف پوری توجہ مبذول نہیں کر سکے تھے کہ اس اثناءمیں ایک ایسا غیر معمولی واقعہ رونما ہو گیا۔ جس نے ڈوگرہ مہا راجہ اور دوسرے ہندو اور سکھ غنڈوں کی خون آشامی کے جنون کو انتہا پر پہنچا دیا۔ یہ تاریخ ساز واقعہ24 اکتوبر1947ءکو وقوع پذیر ہوا ،جب آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کے قیام نے اصولاً اور عملاً ریاست کے ایک بڑے حصے سے مہا راجہ کی ظالمانہ حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ مہا راجہ کو آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے قیام کی خبر ملی، تو وہ حواس باختہ ہو کر دو ہی دن بعد26اکتوبر1947ءکو ریاست کے دارالحکومت سری نگر سے بھاگ کر جموں پہنچا، وہاں پہنچ کر اس نے مسلمانوں کے خلاف اپنی آتش ِ انتقام کو بجھانے کے لئے مسلمانانِ جموں کے وحشیانہ قتل و غارت گری کی اس خون آشام مہم کو، جسے اب تک اس کے نائبین جاری رکھے ہوئے تھے، اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اِسی دوران میں 27اکتوبر1947ءکو بھارت نے مہاراجہ ہری سنگھ کے نام سے ایک جعلی دستاویز الحاق کو بہانہ بنا کر ریاست جموں و کشمیر کا جبری الحاق کر دیا، یوں اب مسلمانان جموں کے وحشیانہ قتل عام میں مہاراجہ ہری سنگھ کو بھارت کی سرپرستی بھی حاصل ہو گئی۔(جاری ہے)  ٭

5اور 6نومبر1947ءکو مسلمانان جموں کے قتل عام کی داستان خونچکاں: جموں شہر میں مسلمانوں کی آبادی کسی ایک جگہ پر اکٹھی نہیں تھی، بلکہ تھوڑے تھوڑے مسلمان شہر کے تقریباً ہر حصے میں آباد تھے، اس لئے مہاراجہ نے اپنے حواریوں کے مشورے سے پروگرام بنایا کہ بجائے اس کے کہ مسلمانوں کو پورے شہر میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل عام کیا جائے، مناسب یہ رہے گا کہ ان سب کو ایک ہی مقام پر جمع کر کے ان کا قصہ یکبارگی پاک کر دیا جائے ، چنانچہ اس منصوبے کے مطابق شہر کے تمام حصوں میں منادی کرا دی گئی کہ شہر بھر کے مسلمان مرد، عورتیں اور بچے پریڈ گرا¶نڈ میں جمع ہو جائیں، جہاں سے انہیں لاریوں میں بھر بھر کر سوچیت گڑھ کے راستے پاکستان بھیجا جائے گا۔ اعلان میں اس امر کی یقین دہانی بھی کی گئی تھی کہ مسلمانوں کو بحفاظت پاکستان پہنچانے کی تمام تر ذمہ داری فوج اور پولیس کی ہو گی، لہٰذا مسلمانوں کے جان و مال کو کسی قسم کا گزند نہیں پہنچنے دیا جائے گا، چنانچہ شہر بھر کے مسلمان اس امید پر کہ انہیں اپنی آرزوﺅں کے مسکن پاکستان بھیجا جا رہا ہے۔ پریڈ گراﺅنڈ میں جمع ہونا شروع ہو گئے۔ پھر جب مہاراجہ اور اس کے حواریوں کو اس امر کا پوری طرح اطمینان ہو گیا کہ شہر کے تمام مسلمان پریڈ گرا¶نڈ میں جمع ہو چکے ہیں ، تو پہلے تو ان کے مکانوں اور دکانوں کو لوٹا گیا، پھر ان کی حفاظت پر مامور فوج اور پولیس نے ان نہتے اور بے بس مسلمانوں سے ان کے پاس موجود ہر شے، حتیٰ کہ جسم کے کپڑے اور خواتین کے زیورات تک لوٹ لئے۔

اس کے بعد5 نومبر 1947ءکی صبح کو انہیں لاریوں اور ٹرکوں میں بھر کر کہا گیا کہ اب انہیں سوچیت گڑھ کے راستے سیالکوٹ لے جایا جا رہا ہے ۔ 70ٹرکوں اور لاریوں کے اس قافلے میں بلا شبہ ہزاروں مسلمان مرد عورتیں اور بچے شامل تھے، جب وہ لوگ جموں سے چند میل کے فاصلے پر ایک پہاڑ کی اوٹ پر پہنچے تو وہاں پروگرام کے مطابق پہلے سے موجود ڈوگرہ فوج اور پولیس کے ہندو¶ں اور سکھ رضاکاروں نے انہیں گھیرے میں لے لیا ، پہلے ان کی جوان عورتوں کو چھین لیا، پھر باقی ماندو نہتے اور بے بس مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا، چنانچہ ہزاروں کے اس قافلے میں سے صرف چند سو افراد زخمی حالت میں گرتے پڑتے سیالکوٹ پہنچنے میں کامیاب ہوے۔ دوسرے روز، یعنی 6نومبر 1947ءکو دوبارہ ہزاروں مسلمان مردوں ، عورتوں اور بچوں کو لاریوں اور ٹرکوں پر سوار کر کے پاکستان لے جانے کے بہانے اسی مقام پر لے جایا گیا، جہاں گزشتہ روز ان کے دوسرے بھائیوں کا قتل عام کیا گیا تھا۔ آج بھی گزشتہ روز کی طرح پہلے ان کی جوان لڑکیوں کو چھین لیا گیا، پھر ان کا قتل عام شروع کر دیا گیا ۔ اس وحشیانہ قتل عام کے نتیجے میں صرف تین آدمی زخمی حالت میں سرحد عبور کر کے سیالکوٹ پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

 (جاری ہے)

مزید : کالم