خان کا للکارا

خان کا للکارا
خان کا للکارا

  


 عمران خان نے امریکہ کو للکار دیا ہے، پورا پاکستان ان کے پیچھے کھڑے ہونے کو تیار ہے، حتیٰ کہ حکومت اور اپوزیشن بھی!

 امریکہ یہ کہہ کرکہ طالبان سے مذاکرات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے عمران خان کو دھتکار نہیں سکتاکیونکہ اب امریکہ اور ڈرون حملوں کے خلاف ایک ٹھوس عالمی رائے عامہ بن چکی ہے !

جنرل مشرف کے زمانے میں جب عمران خان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو امریکہ کی جنگ قرار دیا تھا تو اس وقت یہ ایک مشکل موقف مانا جاتا تھا ،اپنے ہوں یا پرائے، کوئی بھی اس موقف کو سننے کے لئے تیار نہ تھا لیکن اب تبدیلی آگئی ہے ، لوگ نہ صرف اس موقف کی پذیرائی کرتے ہیں بلکہ اس کو سننا بھی چاہتے ہیں، بحیثیت سیاستدان کے ، یہ عمران خان کی ایک بڑی فتح ہے، وہ وقت دور نہیں جب لوگ کہیں گے کہ’ آگے بڑھ عمران خان، دل تمھارے ساتھ ہے!©‘

عمران خان کھلے بندوں امریکہ کی زیادتیوں اور خلاف ورزیوں پر تنقید کر رہے ہیں اور پاکستان سمیت دنیا ان کی تائید کر رہی ہے، لوگ ان سے توقعات باندھ رہے ہیں کیونکہ عمران خان پہلے دن سے لوگوں کے ہیں لیکن کمال یہ ہے کہ اب لوگ بھی عمران خان کے ہونے لگے ہیں!

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کو للکار کر دراصل عمران خان اپنی سیاست چمکانا چاہتے ہیں، وہ قوم کے مفاد میں نہیں بلکہ ذاتی مفاد میں ایسا کر رہے ہیں، وہ ویسی باتیں کر رہے ہیں جیسی اپوزیشن میں رہ کر کی جاتی ہیںاورحقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں ان سے خود اپنی حکومت نہیں چل پارہی ہے، عمران خان کو سمجھنا چاہئے کہ دنیا میں جہاں بھی جمہوریت میچور ہوتی ہے وہاں پارٹی مفاد کو قومی مفاد سے نیچے رکھا جاتا ہے!

ان حلقوں کی یہ تنقید بجا لیکن یہ اس حقیقت کو فراموش کر رہے ہیں کہ اگر عمران خان عوامی جذبات کی ترجمانی نہ کریں تو صورت حال کس قدر گھمبیر ہو سکتی ہے ، پہلے ہی لوگ پوچھ رہے ہیں کہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہوئے ہیں یا شہیدہوئے ہیں اورملتان میں توایک عوامی مظاہرہ بھی ہوا ہے، ان حالات میں عمران خان کی شکل میں ایک قومی سطح کی شخصیت کا موجود ہونا نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں کیونکہ ان کی اب عوام میں ایک موثر فالوئنگ بھی موجود ہے!

اس میں شک نہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک موثر اپوزیشن کا کردار ادا کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے، جناب آصف زرداری ’قدم بڑھاﺅ نواز شریف ، ہم تمھارے ساتھ ہیں‘ کا نعرہ بلند کر رہے ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کی بی ٹیم بن چکی ہے اور موجود سیٹ اپ میں وہی کچھ کر رہی ہے جو پچھلے سیٹ اپ میں نون لیگ حکومت سازی کے ابتدائی مہینوں میں پیپلز پارٹی کے ساتھ کر رہی تھی، اس وقت اگر جناب آصف زرداری مفاہمت کی پالیسی کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی دانشمندی کا ثمر قرار دے کر اس کی مالا جپتے تھے تو جناب نواز شریف بھی میثاق جمہوریت اٹھائے جمہوریت کو تقویت کے بہانے پی پی حکومت کے ہاتھ مضبوط کر رہے تھے!

لیکن اب تبدیلی آگئی ہے، پیپلز پارٹی سندھ تک محدود ہو چکی ہے ، قومی اسمبلی میں عددی اکثریت ہونے کے باوجود اس میں وہ دم خم نہیں جس کا مظاہرہ عمران خان اپوزیشن لیڈر نہ ہونے کے باوجود کر رہے ہیں، عمران خان نے 11مئی کے انتخابات میں دھاندلی کے ایشو کو جس انداز میں اٹھایا اس سے ان کے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ ہوا ، سپریم کورٹ نے انہیں توہین عدالت کے باب میں طلب کیا تو برملا کہا کہ عمران بڑے قد کاٹھ کے لیڈر ہیں ، ان کے کہے کی اہمیت ہوتی ہے !

ابھی انتخابات میں دھاندلی کا قضیہ جاری تھا کہ طالبان سے مذاکرات کے لئے اے پی سی سے قبل وزیر اعظم، آرمی چیف اور عمران خان میں خصوصی ملاقات نے عمران خان کی سیاسی پوزیشن کو مزید مستحکم کیااور اب حالیہ ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کے نشانہ بننے کے بعد عمران خان کی جانب سے نیٹو کے خلاف قراردادیں لانے اور نیٹو سپلائی کو خیبر پختونخوا میں روکنے کے اعلان نے انہیں ایک مرتبہ پھر قوم کا ہیرو بنا دیا ہے، ایسا لگنے لگا ہے کہ پاکستان کی سڑکوں پر اصلی اور حقیقی اپوزیش کا کردار عمران خان اور ان کی پاکستان تحریک انصاف ادا کرے گی اور اگر پیپلز پارٹی نے پارلیمنٹ کے اندر حکومت کو ٹف ٹائم نہ دیا تو جلد سڑکوں پر پیدا ہونے والا عوام کا پریشر پارلیمنٹ کے اندر بیٹھے ہوﺅں کو بھی محسوس ہونے لگے گااور یوں پیپلز پارٹی کے گرد جمع سیاسی جماعتوں کو عمران خان کی حمایت میں بات کرنے میں آسانی پیدا ہوجائے گی!

اس میں شک نہیں ہے کہ پیپلزپارٹی کے لئے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ کل تک وہ جن ڈرون حملوں کی حمایت کرتی رہی ہے آج انہی کے خلاف عوام کو سڑکوں پر نہیں لا سکتی ہے، اسی لئے جناب آصف زرداری نے ساری بیان بازی کو مبارکبادیں دینے یا پھر تعزیتی بیانات دینے تک محدود کر رکھا ہے، ان حالات میں عمران خان کے سیاسی کردار کی شکل و صورت نمایاں ہونا شروع ہو گئی ہے ، حالات اس نتیجے کی طرف بڑھنا شروع ہو گئے ہیں جس کا برملا اظہار عمران خان مشرف دور سے کرتے آرہے ہیں، یہ لمحہ عمران خان کی سیاست کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے اور ان کی چند موثر Movesپاکستان کے لئے Game Changerثابت ہو سکتی ہیںکیونکہ اگر حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسمبلیوں میں قراردادیں لانے کی مخالفت کی تو لامحالہ عوام میں عمران خان کی پذیرائی میں اضافہ ہوگااور حکومت اور امریکہ کو نہ صرف بیک فٹ پر کھیلنا پڑے گا بلکہ عمران خان کے باﺅنسروں کا سامنا کرنے کے لئے ہیلمٹ بھی پہننا پڑیں گے کیونکہ وہ جب چاہیں لاکھوں کا مجمع لگا سکتے ہیں، خاص طور پر جب سید منور حسن اور ڈاکٹر طاہرا لقادری بھی ان کے پیچھے ہیں !    ٭

مزید : کالم