ربا دئیں پناہ اوہناں تھیں....!

ربا دئیں پناہ اوہناں تھیں....!
ربا دئیں پناہ اوہناں تھیں....!

  


ہمارے ہاں معیار کے بحران نے معنی کا جو بحران پیدا کیا ہے، اس نے ہر قدم پر مسائل پیدا کر کے کھوٹے کھرے کی تمیز ختم کر دی ہے ۔ علم و تحقیق کا میدان خاص طور پر ان مسائل کی زد میں ہے ۔ اعلیٰ تعلیم دانش و تحقیق کا ذریعہ بننے کی بجائے ڈگریوں اور پروموشن کے حصول کا وسیلہ بن کر رہ گئی ہے ، حالانکہ اعلیٰ تعلیم کے ذریعے علمی و تحقیقی مہارتوں کے حامل محققین اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کا فرض منصبی رہا ہے کہ وہ تدریس کے ساتھ ساتھ تحقیق و تدوین کو بھی اوڑھنا بچھونا بنائیں۔ علم و ادب کی تطہیر شدہ صورت کو خلقت کے سامنے پیش کرنا ہمارے اساتذہ اور محققین کی روایت رہی ہے، مگر نو آبادیاتی نظام تعلیم و تحقیق نے اس کا رخ بدل دیا اور تعلیم و تحقیق صرف روزگار کا وسیلہ بن کر رہ گئی ۔ہمارے اساتذہ اور محققین کے موضوعات بھی بدل گئے۔ اب تو یہ حال ہے کہ روحِ عصر سے ہم آہنگ علم اور عالم ہمارے بیچ گم ہو کر رہ گئے ہیں، جس قوم کے علوم گُم اور عالم کم ہونے لگیں ،جہاں ڈگریاں زیادہ اور اصحاب دانش و تحقیق کم ہو نے لگیں، اس قوم کی یادداشت خراب ہو ہی جاتی ہے۔ ہم آج ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہیں ۔ علم و عقل کی رزم گاہ میں جہل آثار فلسفوں ،معلومات کے انبوہ اور علم کی قلت کی وجہ سے موٹی موٹی کتابوں کے بے فیض ناموں سے ایک تعفن پھیلتا جا رہا ہے ۔ ایسی فضا میں علم و تحقیق کے جوہڑ میں اگر کوئی کنول کا پھول نظر آجائے تو نظر و قلب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔

اطمینان و جستجو کی امتزاجی کیفیت گذشتہ روز مجھ پر بھی طاری رہی۔ مَیں گزشتہ شام روزن ریسرچ سنٹر گجرات گیا تو برادرم افضل راز فخر و انبساط اور بے قراری کا مجسمہ بنے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ انہوں نے بڑے تپاک سے خیر مقدم کیا اور مبارکباد دی کہ گجرات کے درویش منش ادب دوست چودھری محمد اسماعیل چیچی کی سالہا سال پر مبنی تحقیق، تجزیے، شعر دوستی اور میاں محمد بخشؒسے عشق کی کرامت”سفر العشق سیف الملوک کا تصحیح شدہ نسخہ “شائع ہو گیا ہے۔میری خوش بختی کہ انہوں نے ایک کتاب مجھے بھی عنایت کی ۔ افضل راز ورلڈ پنجابی فورم کے چیئر مین اور پنجابی زبان کے فروغ کے علمبردار بھی ہیں اور باقاعدگی سے سہ ماہی”کانگاں“ نکال رہے ہیں ۔ مَیں نے عرض کی کہ راز صاحب سیف الملوک کے نسخے تو بازار میں عام مل جاتے ہیں، پھر چیچی صاحب نے یہ نسخہ کیوں ترتیب دیا ؟ افضل راز نے مشورہ دیا کہ اس تصحیح شدہ نسخے کی ضرورت کیوں تھی اور کیا یہ نسخہ واقعتاً اس ضرورت کو پورا کرتا ہے اس کے لئے چودھری محمد اسمٰعیل چیچی کی تحقیق و تدوین پر مبنی ”سفر العشق سیف الملوک تصحیح شدہ نسخہ“ جسے ڈاکٹر محمد رفیع الدین ریسرچ سنٹر، گورنمنٹ کالج میر پور، آزاد کشمیر نے اکتوبر 2013 میں شائع کیا ، اس کا مطالعہ بالخصوص صفحہ 15 سے 30 سولہ صفحات پر مبنی مقدمہ سیف الملوک پڑھنا اور غور کرنا ضروری ہے ۔ مَیں نے اسے بغور پڑھا اور جانا کہ شاعری اصولی طور پر علم سے وابستہ ہے، یعنی حقیقت اور حسن حقیقت کا طرز اظہار ہے ۔

سیف الملوک کے خالق میاں محمد بخشؒ فن شعر اور شعور تنقید سے آشنا شاعر تھے۔ انہوں نے سیف الملوک 1863ءمیں مکمل کی اور اس کی اشاعت کے لئے لاہور کا سفر بھی کیا ، وہاں مولوی عبداﷲ کے ہاں ٹھہرے اور طباعت کے لئے مسودے کا پروف بھی خود ہی لگایا، جس کا ذکر انہوں نے خود سیف الملوک کے آخری اشعار میں کیا ہے۔ اس طرح پہلا نسخہ لاہور سے شائع ہوا۔ اس مقبول عام کلام کی مانگ ہی تھی کہ 1898ءتک یہ بار بار شائع ہوتی رہی۔ اس زمانے میں لیتھو پریس کی وجہ سے پرنٹنگ میں غلطیا ں رہ جاتی تھیں، پھر بار بار اشاعت کی وجہ سے غلطیاں بڑھنے لگیں۔ 1898ءمیں مولوی غلام نبی مالک یونیورسل پریس جہلم نے اغلاط کی درستگی کا اعلان کرتے ہوئے نیا نسخہ شائع کیا ۔ انہوں نے بڑے خلوص سے یہ کام کیا، مگر صرف کتابت کی اغلاط درست کرنے کی بجائے کئی اشعار کے متن میں بھی از خود تبدیلی یا درستگی کر دی، اس سے بہت سے اشعار کا متن اور پھر معانی ہی بدل گئے ۔ بعد میں مرتب ہونے والی سیف الملوک میں بھی دانستہ یا نادانستہ تبدیلیاں ہوتی رہیں اور بقول چودھری اسمٰعیل چیچی چالیس فیصد تصرف ہو گیا ۔

 کافی عرصے سے ذوق شعر رکھنے والے جب بھی سیف الملوک پڑھتے تو کئی مقامات پر رک جاتے کہ شعر کی بُنت، الفاظ کا انتخاب اور معنی و مفہوم میاں محمد بخشؒ کی سخن شناسی، فکر و اسلوب سے مطابقت نہیں رکھتا، تاہم ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کے 1963ئ، اقبال صلاح الدین کے 1984، سید سبط الحسن ضیغم کے 1993ءاور شریف صابر کے 2002ءکے نسخے بھی سیف الملوک کے چاہنے والوں کی تشنگی ختم نہ کر سکے ،کیونکہ ایسے پائے کے محققین کی تحقیق و تدوین کے باوجود رائج الوقت نسخوں میں اغلاط کی کثرت رہی اور کسی سنجیدہ علمی کام کے لئے یہ نسخے غیر معتبر سمجھے جانے لگے ۔ ہماری جامعات اور ان سے وابستہ پنجابی زبان و ادب کے محققین، نقادوں اور اساتذہ کے لئے یہ کوئی اہم کام نہیں تھا، اسی لئے انہوں نے اس طرف کوئی توجہ نہ دی اور جب بغیر تحقیق کے کوئی بات رقم ہو تو نہ صرف یہ کہ وہ غلطی آنے والی نسلیں دہراتی ہیں، بلکہ ایک غلطی سے لا تعداد مزید غلطیاں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ سیف الملوک میں در آنے والی ایسی ہی لا تعداد غلطیوں کی درستگی کے لئے کسی متن کے مطالعے کے ماہر ، لسانی و شعری رموزسے آشنا نقاد کی ضرورت تھی، جیسا کہ فلپ گوڈیلا نے کہا تھا ” کہ اینٹیں بنانے والے اپنی جگہ، لیکن تاریخ کی عمارت ایک ماہر تعمیر کا تقاضا کرتی ہے“ ۔

....لیکن تربیت یافتہ اور سند تحقیق کے حاملین نے اس طرف کوئی توجہ ہی نہ دی تو پھر میاں محمد بخشؒ کی عقیدت نے چودھری محمد اسماعیل چیچی جیسے عاشق سیف الملوک کے قلب و ذہن میں خیال اور جرÉت و ہمت پیدا کی کہ وہ ایسے بڑے کام کا بیڑہ اٹھائیں۔ سیف الملوک کثرت تفکر سے چیچی صاحب کے لہو کا حصہ بن چکی تھی، چنانچہ انہوں نے اپنے دوستوں رانا منصور امین ، محمدافضل راز، پروفیسر وسیم بیگ مرزا اور پروفیسر خالد ہمایوں کے اصرار ، حوصلے اورتعاون کی بنا پر اپنے علمی و ادبی ایمان کی بنیاد پر یہ کام تین سال پہلے شروع کیا ۔ ہمارے ہاں زبان کے ماہرین عموماً روایت زبان سے ناواقف ہوتے ہیں۔ سیف الملوک میں پنجابی کے علاوہ پہاڑی، گوجری و دیگر زبانوں کے الفاظ بھی کثرت سے استعمال ہوئے ہیں ۔ چودھری اسماعیل چیچی کے والدین پہاڑی علاقے سے ہجرت کر کے آئے تھے، اس لئے انہیں سیف الملوک کے اشعار و زبان کے فہم میں آسانی رہی ۔پھر انہوں نے عقیدت کو تحقیق کی سان پر چڑھایا۔ 1870ءسے 2009ءتک شائع ہونے والے اٹھارہ مختلف نسخے حاصل کئے ۔ان کا تکنیکی، تقابلی اور لسانی مطالعہ کیا ۔ مروجہ سیف الملوک کے مرتبین کی بد ذوقی کی مثال دیکھئے۔ میاں صاحب کا ایک شعر ہے :

ہک اوہناں دا لال پیارا سُتا وچ قبر دے

لال دوجا ہے کھاندا پھردا دھکے ہر اک در دے

یعنی میرے والدین کا ایک لال بیٹا (میاں بہاول بخش) تو رب کو پیارا ہو گیا اور دوسرا (محمد بخش) در در کے دھکے کھا رہا ہے ، مگر یہ شعر اس طرح رائج ہے کہ اس کا دوسرا مصرعہ مرتبین نے یوں درج کیا ہے :

دوجا کنبدا لکدا پھردا جیونکر پانول کتا

’پانول ‘کتا‘ خارش زدہ کتے کوکہتے ہیں ۔ میاں صاحب کے اسلوب شعر سے آگاہ لوگ جانتے ہیں کہ ان کا اپنے لئے اس کراہت آمیز تشبیہہ کااستعمال ممکن نہیں، اس طرح کی بے شمار غلطیاںمحمد اسمٰعیل چیچی نے نہ صرف درست کی ہیں،بلکہ تصحیح شدہ نسخے میں رائج سیف الملوک سے تین اشعاربھی زیادہ ہیں، جبکہ ایک شعر 2015 کتاب ہذا میں شامل نہیں ہے ۔ کئی اشعار کے حوالے سے سوال بھی اٹھائے گئے ہیں۔ سب سے دلچسپ امر صفحہ 31 سے 58 تک 109 اصلی اور جعلی اشعار کا تقابلی جائزہ ہے، جس میں مختلف اشعار کا علمی و تحقیقی انداز میں مطالعہ کیا گیا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ نسخہ تحقیقی نقطہءنظر سے نہایت معتبر ہے، کیونکہ چودھری محمد اسماعیل چیچی نے بڑی جانفشانی سے تمام مروجہ نسخوں کے تقابلی و تجزیاتی مطالعے کا نچوڑ شامل کیا ہے ۔ اس نسخے کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ آنے والے دنوں میں میا ں محمد بخشؒ کے کلام سیف الملوک پر کسی نئی تحقیق کا ذریعہ ثابت ہو گا۔

لسانی محققین کے لئے صرف متن کی سادہ لسانی ساخت ہی اہم نہیں ہوتی، انہیں متن کے نظریاتی، فلسفیانہ، تہذیبی اور تاریخی تناظر کو بھی دیکھنا ہوتا ہے ۔ نئی تنقید متن کے گہرے مطالعے سے عبارت ہے، جس میں ایک طرف لسانی محاسن کو مد نظر رکھا جاتا ہے تو دوسری طرف نفسیاتی، سماجی اور جمالیاتی رویوں سے استفادہ کرتے ہوئے تخلیق میں چھپے معانی تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ زبان کی صوتی، حرفی اور نحوی خوبیوں کے ساتھ ساتھ الفاظ کے درمیان عمل پذیر ہونے والے تال میل پر بھی زور دیا جاتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے چودھری اسماعیل چیچی نے تقابلی جائزے میں لیوس سٹراس کے ”مشابہت“ اور”قربت“ کے اصولوں کو پیش نظر رکھ کر شعری زبان کے سٹرکچر کی وضاحت کی ہے۔ لیوس سٹراس زبانوں کے معیناتی نظام کی تفہیم کے لئے کوشاں رہا ....چودھری اسماعیل چیچی کی ریاضت و کاوش قابل تحسین او رمبارکباد کی مستحق ہے ۔ انہوں نے اپنے روحانی مرشد کی روح کے چین کے لئے انہیںان کے شعری دشمنوں سے نجات دلائی ہے ۔ وہ ہر وقت سیف الملوک کے ساتھ جیتے ہیں۔ سیف الملوک ان کا اوڑھنا بچھونا ہے، انہیں دیکھ کر مشہور مغربی نقاد جیوفری (Geofury )کی بات یاد آتی ہے کہ ”نقاد ایک ادبی متن کی قرا¿ت کرتے کرتے اس کا خالق بن جاتا ہے “ :

ربّادئیں پناہ اوہناں تھیں جو ایسے کم کردے

سِیم سُچی دا سِتم بناون عَم دا نیں غم کردے

مزید : کالم