حقائق سے نظریں نہ چُرائیں

حقائق سے نظریں نہ چُرائیں

پاکستان معاشی طور پر کمزور حالات میں بڑی طاقتوں کے حکمرانوں سے یقین و اعتماد اور برابری کی مطلوبہ سطح پر باہمی گفت و شنید اور بحث و تمحیص کرنے کا دعویٰ تاحال کرنے سے قاصر و لاچار ہے۔ یہاں کے دیرینہ مسائل اور مشکلات، غیر ملکی قائدین کے ساتھ سخت اور غیر لچک دار موقف اختیارکرنے کی راہ میں حائل ہیں۔ موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، چار ماہ قبل وجود میں آ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ ان کی کارکردگی، ایک دوسرے سے قدرے اچھی یا خراب ہو سکتی ہے، لیکن اصل معاملہ تو مثبت، بروقت اور سود مند نتائج کاحصول ہے۔ موجودہ حالات میں اسلام دشمن قوتوں سے دوستوں کے برتاﺅ کی طرح اچھی توقعات کی امیدیں لگائے رکھنا، عام فہم و فراست کے حامل، حلقوں اور طبقوں کی نظروں میں، بعید ازقیاس معلوم ہوتا ہے۔

بعض ناقدین آئے روز ایسے بیانات ذرائع ابلاغ میں دے رہے ہیں کہ امریکہ اور بھارت ان مذاکرات کو کامیاب دیکھنے کی راہ میں حائل اور مانع ہیں۔ بھارت گزشتہ چند ہفتوں سے مقبوضہ کشمیر کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر مسلسل اشتعال انگیز گولہ باری اور فائرنگ کی کارروائیاں بھی کر رہا ہے، جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان، سرکاری وفود اور بیک چینل سفارت کاری کے ذریعے، باہمی تعلقات بہتر بنانے کے لئے گفت و شنید کی اطلاعات بھی گاہے بگاہے منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ تنازع جموں و کشمیر تاحال جوں کا توں حل طلب چلا آ رہا ہے، اس معاملے پر بھارت، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ کئی قراردادوں پر عمل درآمد سے کھلے عام گریز و انکار کرتا چلا آ رہا ہے۔

امریکہ بہادر ایک بڑی عالمی طاقت ہے، جو مسلم ممالک کی اچھی معیشت، دفاعی صلاحیت اور سیاسی استحکام پر کڑی نظر رکھ کر، انہیں اکثر اوقات مفلوج یا ناکام کرنے اور نقصانات سے دوچار کرنے کی تدبیر کرتا رہتا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت سے اتفاق نہیں کرتے، وہ گزشتہ چند سال کے دوران، امریکی اتحادی افواج کی عراق، افغانستان، مصر، لیبیا، شام اور ایران کے بارے میں کارکردگی سے بخوبی اندازہ اور حقائق سے آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی سے نہ صرف پاک فوج کے ہزاروں جوان اور افسران شہید ہوئے ہیں، بلکہ عام شہریوں کی کہیں زیادہ تعداد بھی آج تک ان وارداتوں کا ہدف بن رہی ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں اگر بعض لوگ بیرونی قوتوں اور مالیاتی اداروں سے، ملکی مفاد کے حصول کی خاطر معجزانہ توقعات لگائے ہوئے ہیں، وہ اگر ان ٹھوس حقائق سے نظریں نہ چرائیں تو بہتر ہو گا۔   ٭

مزید : کالم