جوہر ٹاو¾ن اتوار بازار میں مہنگائی عروج پر صارفین بلبلا اُٹھے

جوہر ٹاو¾ن اتوار بازار میں مہنگائی عروج پر صارفین بلبلا اُٹھے

                                                   

لاہور( افضل افتخار)عوا م کے لئے اتوار بازار درد سر بن گیاصوبائی درالحکومت کے زیر اہتمام جوہر ٹاﺅن اتوار بازار میں مہنگائی نے تما م ریکارڈ توڑ دئیے، مہنگے داموں فروخت کے ساتھ ناقص اشیاءکی فراہمی نے عوام کی جان نکال دی ،گندگی کے ڈھیر اور اوور چارجنگ کے ہاتھوں بھی عوام پریشان، سیکورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ، عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے کوئی پوچھنے والا نہیں ،عوام نے اتوار بازار کے قیام کو مسترد اور مہنگائی بازار قر ار دیدیا،عوام کی وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف سے فوری اس جانب توجہ دینے کی اپیل ، تفصیل کے مطابق علامہ اقبال ٹاﺅن کے زیر اہتمام جوہر ٹاﺅن میں لگنے والے اتوار بازار میں خریداری کرنے والے عوام پھٹ پڑے، درجہ اول کی اشیاءدرجہ دوئم میں فروخت ہورہی ہیں جبکہ ہر دکاندار اپنی مرضی سے قیمتیں مقرر کرکے اشیاءفروخت کرتے رہے اس حوالے سے کئے گئے سروے میں اظہار خیال کرتے ہوئے مبین نے کہا کہ اتوار بازا ر کا مقصدہی ختم ہوگیا ہے ایک تو یہاں پراشیاءکی مہنگے داموں فروخت جاری ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اس کے علاوہ ناقص اشیاءفروخت ہورہی ہیں جن کو کوئی چیک نہیں کررہا ہے متوسط طبقہ کو بہت نقصان اٹھانا پڑرہا ہے مبشر اور لقمان نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف جس طرح دوسرے شعبوں پرتوجہ دے رہے ہیں ان کو چاہئیے کہ وہ عوام کے اس اہم مسئلہ پر بھی اپنی توجہ مبذول کریں اور یہاں پر معیاری اشیاءکی سستے داموں فروخت کو یقینی بنایا جائے کیونکہ اس وقت عوام مہنگائی کے ہاتھوں سخت پریشان ہیں حارث اور طاہر نے کہا کہ یہاں پر گندگی کے ڈھیر بیماریاں پھیلانے میں مصروف ہیں اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے صفائی کا انتظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے جگہ جگہ گندگی کے ڈھیروں کی وجہ سے عوام کو خریداری کرنے میں شدیدمشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ ان مسائل کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے عبید اور عابد اور جنید نے کہا کہ اتوار بازار کی انتظامیہ کسی کی نہیں سنتی ان سے شکایات کی جاتی ہیں لیکن اس پر عمل درآمدنہیں ہوتا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جانب توجہ دی جائے اور اتوار بازاروں کا جو مقصدہے اس کو برقرار رکھا جائے نبیلہ، شاکرہ اور فرح نے کہا کہ ہم ہر اتوار یہاں پر خریداری کرنے کے لئے اس لئے آتے ہیں کہ یہاں پر ہمیں مناسب قیمت پر اشیاءمل جائیں گی لیکن افسوس کی بات ہے کہ یہاں پر عام بازاروں سے مہنگے داموں اشیاءمل رہی ہیں او ر ان کا معیار بھی بہت گرا ہوا ہے آغا سلمان نے کہا کہ یہاں پر آلو بہت مہنگے فروخت ہورہے ہیں ریٹ لسٹ کے مطابق آلو کی قیمت چالیس روپے کلو مقر ر کی گئی ہے لیکن یہاں پر ساٹھ روپے کلو میں آلو فروخت ہورہے ہیں اور جو ناقص کوالٹی کے ہیں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ہما نے کہا کہ اگر ریٹ لسٹ کے مطابق امرود کی قیمت اگر چالیس روپے کلو ہے لیکن یہاں پر وہی امرود اسی روپے کلومیں فروخت ہورہا ہے انتظامیہ کی ملی بھگت سے یہ سب ہورہا ہے جو اس موقع پر خاموش تماشائی بنی ہوئی بیٹھی ہے شمائلہ نے کہا گاجر کی قیمت پچاس، گوبھی ستر ،مٹر 170 روپے کلو ہیں جبکہ انار کی قیمت 150 روپے مقرر کی گئی ہے لیکن اتوار بازار کی ریٹ لسٹ میں ان کی قیمتیں کم ہیں اگران کی شکایت کی جائے تو ان کو فوری طور پر پکڑ تو لیا جاتا ہے لیکن اس کے بعد ان کوچھوڑ دیا جاتا ہے اور پھر وہ اپنی مرضی کی قیمتوں پر چیزیں فروخت کرتے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1