سیاست کے موسم میں غیر سیاسی دورہ

سیاست کے موسم میں غیر سیاسی دورہ

  

ایک عرصے سے دھرنوں اور الیکٹرانک میڈیا پر ان کی اندھا دھند کوریج سے اکتائی ہوئی طبیعت کے لئے تقدیر نے ایک ایسا خوبصورت اور دلفریب دورہ مقدر فرما دیا جس کے ڈانڈے کہیں تو کروڑوں سال پہلے کے جانوروں کے محفوظ ڈھانچوں(فاسلز) سے ملتے ہیں تو کہیں سر سبز پہاڑوں، آبی نالوں، زیتون وانگور کے باغات سے اور کہیں دور جدید کے اہل تصوف کے کسی اہم مرکز و مزار سے جا ملتے ہیں۔ کسی مہربان کی فرمائش تھی اور بس، پھر کیا تھا لاہور چھوڑ کر موٹروے پر فراٹے بھرتی ہوئی گاڑی کہیں کوہستان نمک کی سطح مرتفع پر اتر کر ڈھلوانوں اور سبزہ زاروں میں جا پہنچی اور پھر ٹھکانہ تلہ گنگ کی سر زمین قرار پایا۔

 ادھر رخ کرنا ہی تھا کہ نصف صدی قبل کی یادوں نے آ گھیرا۔ ساٹھ کا عشرہ تھا، پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ حیوانیات نے پہلی بار ٹیوٹا جیپ خرید کر ملک کے عظیم پبلینٹا لوجی ڈاکٹر ابوبکر مرحوم کے سپرد کر ڈالی اور گویا پیلینٹالوجسٹ کے طلبہ کی موبائل لیبارٹری اور تفریح گاہ ہاتھ آ گئی۔ آئے دن تلہ گنگ سے خوشاب، سرگودھا روڈ پر چینجی کے مقام پر نوجوان سائنس دانوں سے بھری جیپ کا پڑاﺅ ہوتا۔ سڑک کے دائیں بائیں جانب سرخ رنگ کی باریک تکونی چوٹیوں و پہاڑیوں کی یہ قدرتی وادی اللہ تعالیٰ نے قدیم زندگی کے مشاہدہ کاروں کے لئے جیسے ایک تحفے کے طور پر عطا کی ۔ ڈاکٹر ابوبکر کی قیادت میں یہ قافلہ کئی کئی دن اس پُر اسرار دینا میں فاسلز کی تلاش میں مگن رہتا اور کروڑوں سال قدیم کے کسی جانور کے جسم کی ہڈی یا دانت کا کوئی حصہ ہاتھ آجاتا تو ایسے لگتا کہ بڑی عید کی اصطلاح اسی لمحے کے لئے وجود میں آئی ہے۔

 کبھی ایسا بھی ہوا کہ دریائے اسوان کے پانیوں میں چلتا ہوا یہ قافلہ مرکھال گاﺅں تک پہنچ کر اپنے مشن میں مگن ہو جاتا ۔ راقم کو یہاں سے کروڑوں سال پرانے کسی گینڈے کا صحیح سلامت دانت ملنا اتنی خوشی کا باعث ہوا کہ آج تک اس کی یاد تازہ ہے۔ غرض تلہ گنگ کے گرد و نواح میں داخل ہوتے ہی ایک جانب قبل از تاریخ ادوار کے یہ قصے یاد آئے تو دوسری جانب میزبان گرامی ڈاکٹر فہیم ملک(ای این ٹی سپیشلسٹ)دھرنوں کی بے تحاشا کوریج سے بے زار مسافر کو پہاڑی نالوں کے پانیوں کے ساتھ اپنی گاڑی دوڑاتے ہوئے اس سرسبز و شاداب مقام پر لے آئے، جہاں ڈاکٹر اسراد احمد کے برادر عزیز اظہار چھتوں والے نے بظاہر پہاڑ ہی خرید رکھے ہیں، جہاںایک جانب ان کو پہاڑی پتھر کاٹ کر ریزہ ریزہ کرنے کا موقعہ ملتا ہے تو دوسری جانب سالٹ رینج کے منفرد موسمی ماحول میں انہیں انگوروں اور اور زیتون کے باغات کی فراوانی میسر آتی ہے ۔ اس خوبصورت فطری ماحول میں ان کا ریسٹ ہاﺅس بہت خوبصورت نظارہ پیش کرتا ہے۔ اسی سفر میں ایک پہاڑی پر کسی بابا جی کی درگاہ دیکھنے اور ان کی مسجد میں نماز پڑھنے کا موقع ملا۔ میز بان گرامی نے ایک کمال یہ کر ڈالا کہ ضلع میانوالی کے بہادر اور غیور انسانوں کی بستی چکڑالہ کا دورہ بھی کرا ڈالا۔ قیام پاکستان سے پہلے یہاں سے ایک بہت تگڑا قسم کا مولوی اٹھا ،مگر بہت سا علم اکٹھا کرنے کے بعد آپے سے باہر ہو گیا اور حدیث کا انکار کر کے برصغیر میں منکرین حدیث کا امام مولوی عبداللہ چکڑالوی کہلایا۔

 راقم کے علم میں یہ بات آئی کہ دراصل اپنے وقت کی سامراجی فرنگی قوم کی ملکہ نے اسے اس مشن پر لگایا تھا جواس سامراجی قوم کا ایک جانا پہچانا وطیرہ ہے۔ حسن اتفاق سے ظہر کی نماز دور جدید کے ایک معروف عالم دین، منظر اسلام اور تصوف کی نامور شخصیت مولانا الہ یارخان مرحوم کے مزار سے ملحقہ مرکز کی مسجد میں ادا کرنے کا موقع ملا۔ مرکز کی وسیع و عریض عمارات اہل سلسلہ کی اپنے روحانی پیشوا سے عقیدت و محبت کی مظہر ہیں۔ یہ سب بجا، مگر بظاہر ایک چھوٹی سی خبرنے بہت غمزدہ سا کر دیا۔ خبر یہ تھی کہ چند روز قبل چکڑالہ کے قاضی خاندان کی ایک بیٹی اپنے پہلے بچے کی ڈیلیوری کے حولے سے میانوالی کے سفر پر روانہ ہوئی، مگر راستے میں ہی سفر آخرت پر چلی گئی۔ دل کو یہ سن کر بہت ٹھیس لگی کہ مولانا الہ یار خان کی جنم بھومی( چکڑالہ) کی بیٹیاں اور دیگر مریض آئے روز ایسے سانحات سے دو چار ہوتے ہیںاور قصبے میںبآسانی انہیں ایمبو لینس کی فری سہولت میسر نہیں۔ اگر کسی برائے نام سرکاری ڈسپنسری میں دواﺅں وغیرہ کا کوئی محکمہ ہے تو ہو صرف عملے کی تنخواہوں کے لئے خانہ پری کے سوا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کاش! مولانا الہ یار خان کی روحانی قیادت سے منسوب بڑی بڑی گدیاں اور ان کے جانشین خصوصاً حضرت جی مرحوم کے مزار پر مرکز تعمیر کرنے والے بندگان رب اہل چکڑالہ کو درپیش ان مشکلات کو حل کر کے اپنے روحانی پیشوا اور خود مالک کائنات کی نگاہ میں قربت کا مقام حاصل کر سکیں۔ حضرت جی کے کئی جید خلفاءمیںسے ایک( پروفیسر باغ علی کمال مرحوم) سے تو راقم کو کو لیگ رہنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ کاش کہ وہ موجود ہوتے تو ان کو اس سرزمین کے باسیوں کا حق ادا کرنے کی طرف متوجہ کیا جاتا، جہاں سے مولانا الہ یار خانؒ جیسی ہستی وجود میں آئی۔ اِسی طرح اکرم اعوان صاحب تک ہماری معروضات پہنچ سکیں تو امید ہے کہ وہ اپنے مرشد کی محبت میں ان کی بستی میں ترجیحی طور پر تعلیم اور صحت کے مراکز قائم کرنے کی جانب متوجہ ہوں گے۔ جس طرح کہ عرض کیا کہ سیاست کے موسم میں غیر سیاسی مشاہدات کا ایک اپنا ہی مزہ ہے۔ ان سر زمینوں میں گھومتے ہوئے قریب کی فضاﺅں میں آباد وادی سون سکیسر کے تصورات کا ذہن پر چھا جانا بھی ایک فطری عمل ہے۔

 اپنی مولدانگہ کی یادیں بھی مچلتی رہتی رہیں کہ یہیں سے دور جدید کی دیوقامت ادبی شخصیت احمد ندیم قاسمی اور تصوف کی مایہ ناز اور بے مثل شخصیت سلطان العارفین حضرت سلطان باہوؒ بھی ظہور پذیر ہوئے۔ یہ پورا علاقہ انگہ کے علماءوصوفیاءکی دعوتی و تعلیمی سر گرمی کا مرکز رہا۔ اسی انگہ کی سر زمین کی روحانی و علمی فضاﺅں نے گولڑہ شریف کے پیر مہر علی شاہؒ جیسے عظیم صوفی کی بچپن میں تربیت کی۔ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ انگہ کی علمی و روحانی فطری یونیورسٹی سے اٹھنے والے پیر مہر علی شاہ کو تصوف اور رشد و ہدایت کے میدان میں وہ مقام بلند نصیب ہوا کہ آج راولپنڈی میں ملک کی عظیم زرعی یونیورسٹی، یعنی بارانی یونیورسٹی کو” پیر مہر علی شاہ ایرڈ ایگری کلچر یونیورسٹی “ کا نام دیا گیا ہے۔ مذکورہ بالاسطور پر ذرا پلٹ کر نگاہ دوڑائیں تو سچ مچ کروڑوں سال قبل کے فاسلز سے لے کر زیتون و انگور کے باغات، پیر طریقت مولانا الہ یار خانؒ کی خدمات و روحانی کرامات اور کوہستان نمک کی وادی سون سکیسر کے انسانیت پر ان مٹ نقوش سب باہم تقدیر الٰہی کی مربوط کڑیاں تو ہیں اور لاہور کے میڈیا زدہ ماحول کے ستائے ہوئے کسی مسافر کے لئے کسی میزبان طبیب کی یہ منفرد کاوش اپنے اندر دلچسپی کے بہت سے پہلو لئے ہوئے ہے۔ ذرا توجہ فرمائیں سورئہ رحمن ہمیں کس طرح یاد دلا رہی ہے کہ” تم اپنے رب کی کس کس قدرت، کس کس نعمت اور کس کس کمال کو جھٹلاﺅ گے“۔

مزید :

کالم -