واہگہ کے شہداءاور ہمارے ادارے

واہگہ کے شہداءاور ہمارے ادارے
واہگہ کے شہداءاور ہمارے ادارے

  

 ہم پہلے ہی مرے ہوئے لوگ ہیں ،پھر بھی ہمیں باربار مارا جاتا ہے ۔۔۔ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے لیکن دہشتگردوں کو کون سمجھا ئے۔ ۔؟انسان۔۔جس کےلئے کائنات سجا ئی گئی ،اس میں رنگ بھرے گئے،پھول کھلائے گئے ، سمند ر ، د ریا ، نہر یں، ندی نالے بہائے گئے ، اونچے نیچے پہاڑ اگائے گئے ،پہاڑوںکی کوکھ سے ٹھنڈے میٹھے چشمے پھوٹے، چھنچھنا تے جھر نے ،آبشاریں اور دل موہتی جھیلیں وجود میں آئیں ۔جی ہاں! ان سب خوبصورتیوں پر صرف ایک انسان بھاری ہے کیونکہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ انسان ۔۔جس کےلئے جنگل سبزائے گئے ،صحرا چمکائے گئے ، دل آویز وادیاں وجود میں آ ئیں ، شہر بسے ،دیہات آباد ہوئے ،کھانے کےلئے سونے جیسا غلہ، تندرست ،خوش ذائقہ سبزیاں،جڑی بوٹیاں،جن میں ہر بیماری کا علاج رکھا گیامگر دھماکے کرنے والوں کو انسان کی قدر کہاں ۔؟؟ انسان ۔۔جس کےلئے چوپائے پیدا کئے ، کسی کا ہم دودھ پیتے ہیں ،کسی پر سواری کرتے ہیں اور کسی کا گوشت کھاتے ہیں ،کسی کی کھال کا لباس پہنتے ہیں او ر کسی کے چمڑے سے جوتے بنواتے ہیں ۔جی ہاں ! یہ سب کچھ صرف اور صرف انسان کےلئے ہے ،وہی انسان جس کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ،مگر خود کش حملہ آوروں کے سامنے انسان کی ”ویلیو“ کیا ۔؟انسان ۔۔ جسے میٹھے گیت سنانے کےلئے سریلی آوازوں والے من بھاتے پرندے پید ا کئے گئے ،ہر ے ہرے طوطے ،نیلی پیلی ، سرخ چڑیاں ،کالی مگر چمکدار کوئلیں ، مسکرا تے تلیئر،غٹ گوں ،غٹ گوں،کرتے کبوتر، ”اللہ ہو، اللہ ہو ‘ ‘ کہتے بٹیر،”سبحان تیری قدرت“ کی حمد پڑھتے تیتر، امن کی صدائیں دیتی فاختائیںاور گلابوں کو چھوتے اٹھکیلیاں کرتے بلبل ،مگر سفاک قاتلوں کو انسان کی قدرومنزلت کا انداز ہ کہا ں۔؟ انسان ۔۔۔ جس کےلئے پھو ل پیدا ہوئے ،خوشبو بکھیرتے ،لہلہاتے ،لہراتے ،دلوں کو مسخر کرتے ،جو محبت کا پیغام ہیں ، خوشی کی علامت ہیں ، روح کی تازگی ہیں لیکن موت کے سوداگروں کو پھولوں سے کیا لینا دینا۔؟خو شیو ں سے کیا واسطہ ،محبت سے کیا کام۔؟ انسان ۔۔جس کےلئے حشرات پیدا ہوئے ،کسی کا کشید کیا شہد خالص شفا ءہے تو کسی کا بنا یا ریشم مخملی لباس ہے مگر ظالم بھیڑیوں کو ریشم اور شفاءسے کیا غرض ۔؟

 جس کےلئے سمندروں میں اٹھی لہریں ہیں ،سفر کےلئے کشتیاں ہیں ،پینے کےلئے آبِ حیات ہے ، مہکتے کھانے ہیں ،جس کیلئے من و سلویٰ اتارا گیا، جس کےلئے انگور ،انار ،سیب ،غلاف والی کھجوریں ،بھس والا اناج ،کیلے کے گچھے اور بے کانٹوں کی بیریاں دنیا میں پیدا کیں اور جنت میں بھی، مگر درندہ صفت اسلحہ برداروں کو رب کی ان خاص رحمتوں کا اندازہ کہاں ۔۔؟ انسان ۔۔ جس کےلئے آ سما ن پر تاروں کی محفل سجائی گئی ،سورج ،چاند بنائے کہ زمین کو روشن رکھتے ہیں ، اپنے اپنے دائرے میں پیر تے ہیں ، سو رج کو اختیار نہیں کہ چاند کو پکڑ لے ،چاند میں طاقت نہیں کہ سورج کو چھو لے مگر خو نخو ا ر بھیڑیوں کو کیا معلوم کہ سورج ،چاند اور ستارے کیا ہیں ؟انہیں کون سمجھا ئے کہ انسانیت کا وقار کیا ہے ۔؟ان کے سامنے سمندر ،پہاڑ ،دریا ،صحرا ،جھیلیں ، رنگ ،خوشبو، پرندوں ، چوپاﺅں ، جنگلوں ،باغوں ،پانیوں ،جھرنوں ، چشموں ،کنوﺅں،آبشاروں ،درختوں ، سبز ے،فصلوں ،پھلوں اور پھولوں کی کوئی حیثیت نہیں ۔

سچ ہے ۔۔۔ سچ ہے ۔۔۔ہم مرے ہوئے لوگ ہیں،جب کسی کا جی چاہتا ہے ہمیں مزید مار دیتا ہے،واہگہ بارڈر پر یہی کیا گیا، غربت ، مہنگائی ، بیروزگاری اور حالات کے جبر کے ہاتھوں کچلے ،مرے کچھ لوگ ،چلتی پھرتی لاشوں کی مانندرینگتے دیوانگی کی حد چھونے ، اپنے پرچم کوسلام کہنے واہگہ بارڈر گئے ، ان میں بہت سارے لاہورئیے تھے ،کچھ کراچی ،سمندری اور دیگر شہروں دیہاتوں سے آئے تھے ،یہ سب بیویوں بچوں سمیت واہگہ بارڈر گئے تھے ،کسی کا شکار بننے ، کسی کے نرغے میں آنے ،پھر ایسا ہی ہوا،پاکستانی پرچم پر فدا ہونے والے شکاریوں کے نشانے پر آگئے ،زندہ لاشیںتیزی سے مردہ لاشوں میں تبدیل ہو گئیں، مرنے والے پاک وطن کے شہید ہیں ،انہیں شہیدوں کے نام سے جانا پہچانا اور پکارا جائے مگر ہم اپنے ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کیا کہیں ،جنہیں ایسے واقعات کی پہلے سے اطلاعات ہوتی ہیں لیکن وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں ،کچھ دن قبل خبر شائع ہو چکی تھی کہ واہگہ بارڈر پر ایسا سانحہ ہو سکتا ہے مگر کان دھرنے والوں نے کان ہی نہ دھرا،اسی لئے سکیورٹی کیلئے کئے گئے معمولی انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے اور شکاریوں نے انسانوں کو دھر لیا،اس پر حد یہ کہ قانون نافذ کرنیوالوں نے پہلے اس سانحہ کو ”سلنڈر دھماکہ“کہہ کر آنکھیں چرائیں اور بعد ازاں کہا گیا کہ ”شکر کریں! دہشتگرد مزید آگے نہ پہنچ سکا،ورنہ بہت زیادہ نقصان ہوتا۔۔“

کوئی پوچھے کہ بھائی! جو نقصان ہوا، وہ کیا کم ہے۔؟اتنی لاشوں کا گرنامعمولی بات ہے۔؟ مگر کون پوچھے۔؟ کیوں پوچھے ۔۔ ۔؟؟؟

پیارے پڑھنے والو!کوئی شک نہیں کہ پچھلے چند سالوں سے پاکستان سمیت دنیا کے بعض خطے د ہشتگر دوں کے نشانے پر ہیں،نام نہاد سپر پاور امریکہ کے اقدامات اور ہم جیسے غریب ممالک کی مجبوریوں نے دہشتگردی کو پنپنے کا موقع د یا ہے،پاکستان کی حالتِ زار یہ ہے کہ سابق حکمرانوں کے گھناﺅنے کرتوت نے جہاں ملکی سرحدوں کو کمزور کیا،مہنگائی کا شد ید طوفان مچایا ،بجلی ،پانی کا بحران پیدا کیا، بیرو زگاری اور

غر بت نے لوگوںکو خودکشیوں ، خود سوزیوں پر مجبور کیا وہاں دہشتگردی کو بھی عروج ملا ، سوات آپریشن کے بعد پاک فوج کی جانب سے آپریشن ضرب عضب بے مثال کارنامہ ہے مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا دہشتگردوں کوروکنا صرف فوج کی ہی ذمہ داری ہے۔؟ پولیس اور دیگر ادارے صرف اس لئے ہیں کہ بیان بازی کرتے رہیں ۔؟ اطلاعات کے باوجود نیرو کی بانسری بجاتے ہوئے ”سب اچھا “کا گیت گائے جائیں اور گاتے گاتے سر نیچے بازو رکھ کر لمبی تان کے سو جائیں۔؟؟وہ دن کب آئے گا جب پولیس بے گناہ انسانوں کو ہراساں کرنے اور ناکوں پر معصوم نوجوانوں کی جیبوں پر ڈاکے ڈالنے کی بجائے ہوشمندی کا مظاہرہ کرے گی،اپنے فرائض دیانتداری سے نبھائے گی،عوام کو وہ تحفظ فراہم کرے گی جس کی وہ تنخواہ وصول کرتی ۔۔۔؟؟  ٭

مزید :

کالم -