ماضی کی تلخیاں بھلانا ہوں گی

ماضی کی تلخیاں بھلانا ہوں گی

  

تاریخ گواہ ہے جنگیں صرف تباہی پھیلانے اور خون کی ندیاں بہانے کا باعث بنی ہیں۔کسی بھی ملک کو اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر جاری فائرنگ سے نا جانے کتنے ہی لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔یہ صورت حال امن کی علامت تو نہیں۔کیا یہ روش امن چاہنے والے ملکوں کی ہے؟ ملالہ یوسف زئی ، بھارتی کیلاش ستھیار تھی کے ساتھ مل کر دونوں ممالک میں پُر سکون فضا قائم کرنا چاہتی ہیں۔اس مقصد کے لئے انہوں نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کو دس دسمبر کو ملنے والے نوبل انعام کی تقریب میں شرکت کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے عوام الناس صرف امن چاہتے ہیں اور اپنے خطے کو اس جنگی صورت حال سے محفوظ کرکے آپس کی رنجشوں، نفرتوں، مخالفتوں کو مٹا کر بھلائی کے اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے دونوں ممالک کو ہی آگے بڑھ کر پہل کرنا ہوگی۔ان تلخیوں کی وجہ سے نہ تو آج تک کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکا اور نہ ہی آپس میں مل کر ایسے معاہدے کئے جا سکے، جس سے دونوں ممالک کو مشترکہ فائدہ ہوتا۔ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے نہ کہ ان غلطیوں کو مستقبل میں دہرانا چاہیے۔اس مقصد کے لئے امن کی تنظیموں، خصوصاً اقوام متحدہ کو اپنا کرادر ادا کرنا ہوگا جو کہ ابھی تک ناکام ہے۔

محمد ضیاءآفتاب، نیو گارڈن ٹاﺅن لاہور  

مزید :

اداریہ -