تھر پارکر کے دولت مند کہاں ہیں ؟ (1)

تھر پارکر کے دولت مند کہاں ہیں ؟ (1)
تھر پارکر کے دولت مند کہاں ہیں ؟ (1)

  

انہوں نے فلم چلانا شروع کی۔ مختلف نظارے جو غربت کی عکاسی کر رہے تھے دکھائے جارہے تھے۔ پانی کی عدم موجودگی، خوراک کی شدید کمی، جسم پر پھٹے اور بوسیدہ کپڑے۔معصوم بچے ننگے پاﺅں، ایسی جھونپڑیاں جن میں کوئی رہنا پسند نہ کرے۔ وہ فلم چلارہے تھے اور تبصرہ بھی کر رہے تھے۔ ان کے تبصرے ایسے تھے ،جن میں یہ مقصد پو شیدہ تھا کہ کسی طرح ان انسانوں کے حالات بھی بہتر ہو جائیں ۔ ان کی زندگیوں میں بھی رنگ آجائے۔ امنگ آجائے۔ حافظ محمد سعید کی جماعت الدعو ہ کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے سربراہ حافط عبد الرﺅف تھے ۔ اس غیر سرکاری تنظیم نے سندھ کے ریگستانی علاقے تھر پارکر میں خدمت خلق کا وہ کام شروع کیا ہوا ہے جو حکومت کو کر گزرنا چاہئے تھا۔ انسانوں کو پینے کے لئے پانی کی فراہمی کے لئے کنویں تعمیر کرنا اہم ترین کام ہے جو یہ سر انجام دے رہے ہیں۔ بائیس ہزار کلو میٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے تھرپارکر کی آبادی تیرہ لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ اس آبادی کی اکثریت انسانوں کے لئے اہم ترین ضرورت پانی سے محروم ہے۔ جہاں جہاں بھی لوگ بستے ہیں وہاں پینے اور روز مرہ کے استعمال کے لئے پانی موجود نہیں ہے اور اگر موجود بھی ہے تو اسے شہروں اور دیہاتوں میں رہائش رکھنے والوں کا استعمال کرنے کو دل بھی نہیں چاہے گا۔ کون ایسا پانی پیئے گا جہاں کسی جوہڑ پر کتا پانی پی رہا ہو، جہاں جانور پانی پی رہا ہو اور انسان بھی پانی بھر رہا ہو۔ جہاں آنکھوں کے سامنے مینڈک پانی میں پھدک رہے ہوں اور وہ پانی انسان پی بھی رہا ہے۔

جب فلم ختم ہو گئی تو انہوں نے اپنا مدعا اس صورت بیاں کیا کہ ذرائع ابلاغ کو چاہئے کہ ریگستان کے اندرونی حالات بھی لوگوں کو دکھائیں۔ زیادہ آبادی والے ریگستانی شہروں میں تو کسی حد تک وہ سہولتیں نظر آتی ہیں جو پاکستان کے بڑے اور چھوٹے شہروں میں بھی موجود ہوں، لیکن ریگستان کے دور افتادہ علاقوں میں رہائش رکھنے والوں کے حالات کا نقشہ بھی لوگوں کو دکھانا چاہئے جہاں ان کا کہنا تھا لوگ تو ہیں ،لیکن جن حالات میں زندہ ہیں وہ ہم وطنوں سے کئی سوالات کرتے ہیں۔ جب انہوں نے اپنا مدعا بیان کر لیا تو میں نے کہا کہ اس فلم کے آخری حصے میں ان شخصیات کی تصاویر کا اضافہ کیا جائے جو اس علاقے کے رہنے والے تھے اور آج ان کے پاس دولت کی ریل پیل ہے۔ ان افراد کی تصاویر کو بھی فلم کا حصہ بنایا جائے جو انتخابات کے موقع پر علاقے پر یلغار کرتے ہیں، ان افراد کو بھی فلم کی زینت بنایا جائے جو اس علاقے میں ترقی، تعلیم، آگاہی کے نام پر غیر سرکاری تنظیمیں چلاتے رہے ہیں یا چلارہے ہیں۔ ایسی غیر سرکاری تنظیموں کے نام بھی شائع کریں جو ضرورت مندوں کو چھوٹے قرضے فراہم کرنے کے نام پر مہاجن بنی ہوئی ہیں۔ مَیں نے انہیں کہا کہ آپ کی یہ فلم بھی ان ہی لوگوں کی طرح ہے جو تھرپارکر کی غربت کو فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ غیر سرکاری تنظیمیں، جس طرح انگریزی زبان کے اخبارات میں اپنی سرگرمیاں شائع کرانے پر بوجوہ سرگرم ہوتی ہیں، اسی طرح آپ بھی حکومت پر دباﺅ ڈالنے کی بجائے وہ کام کرنے پر بضد ہیں جو حکومت کو کرنے چاہیں۔ ایدھی اور چھیپا کی مدد کو حکومت کبھی نہیں آئی۔ تھرپارکر میں بلا معاوضہ خون کی فراہمی کا گراں قدر کام کرنے والے وشنو تھری عرف ماما وشنو کی مدد کو محکمہ صحت کبھی آگے نہیں آیا۔ ماما وشنو اگر نہ ہوں تو لوگ صرف اس وجہ سے مر جائیں گے کہ انہیں وقت پر خون کون فراہم کرے گا۔ حکومت نے ایسا وطیرہ بنا لیا ہے کہ جس بھی شعبے میں غیر سرکاری تنظیمیں یا ماما وشنو جیسے اکا دکا لوگ کام شروع کر تے ہیں تو حکومت دو قدم آگے آنے کی بجائے دو قدم پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ افسران سکھ کا سانس لیتے ہیں کہ وہ لوگوں کے احتجاج اور مطالبوں سے محفوظ رہیں گے۔ حکومتوں کے کام کرنے کے لئے حکومت، ان کے وزراءاور افسران پر دباﺅ ڈالنا چاہئے نا کہ جس کا بوجھ ہو وہ ہی اٹھائے۔

تھرپارکر اپنے قدرتی وسائل کے لحاظ سے مالا مال ہے۔ لوگوں کی صلاحیتوں کے لحاظ سے بھی غریب نہیں ہے۔ اسی تھرپارکر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد میڈیکل کے شعبے میں ملک بھر میں اور غیر ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سینکڑوں ایسے افراد ہیں جو اس سرزمین پر پیدا ہوئے اور تجارت اور کاروبار کرتے کرتے اربوں اور کروڑوں پتی بن گئے۔ ایسے سینکڑوں افسران موجود ہیں جنہیں تھرپارکر سے تعلق کی بنا پر کوٹہ سسٹم کے تحت ملازمتیں ملیں، جس کے باعث ان کی زندگی میں خوشحالی آگئی۔ سینکڑوں میں سے درجنوں ایسے افراد کو تو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جو غیر سرکاری تنظیمیں قائم کر کے غیر ملکی وسائل حاصل کر کے اپنی زندگیوں میں تو مادی انقلاب لے آئے، لیکن تھر پارکر کے عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی نہیں لاسکے۔ آج سے پچاس سال قبل تھر پارکر کے شودر ( شیڈول کاسٹ ) طبقے کے لوگوں نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ وہ بھی کسی دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر ایک نوالہ کھا سکیں گے۔ شودر تو آپس میں بھی ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا تو دور کی بات ہے، چائے نہیں پی سکتے ہیں۔ میگواڑ ہوں ، بھیل ہوں یا کوہلی، یہ وہ طبقے ہیں جو خود آپس میں بھی ایک دوسرے کو نیچا یا اونچا تصور کرتے ہیں، لیکن تعلیم اور وسائل کی وجہ سے ان میں بھی کئی لوگ معاشرے میں بہتر زندگی گزارنے والوں کے شانہ بشانہ ہو گئے ہیں۔

خدمت خلق بلا شبہ انسانی معاشرے میں اہم ترین مقام رکھتی ہے۔ ہر انسان کو دوسرے انسان کی دعا، دوا اور دولت سے مدد کرنا چاہئے۔ مسلمان ہوں یا غیر مسلمان، سب ہی کو ان کا دین او ر دھرم یہ سبق دیتے ہیں، لیکن کیا کیا جائے کہ قسمت جن لوگوں پر دروازے کھول دیتی ہے یا لکشمی ان کے دروازے پر سلامی بھرتی ہے وہ اپنے ساتھ والوں کاساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ بہتر زندگی کے سفر میں جب آگے نکل جاتے ہیں تو پلٹ کر بھی نہیں دیکھتے کہ جو سفر میں پیچھے رہ گئے ہیں ، ان کو بھی ساتھ لے لیں۔ خدمت خلق کے اسی جذبے کے تحت غیر سرکاری تنظیمیں تھر پارکر میں نا مساعد حالات کے باوجود چلی آتی ہیں۔ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم الخدمت ہو ۔جماعت الدعوة کی فلاح انسانیت فاﺅ نڈیشن ہو یا کوئی اور تنظیم، بر سر پیکار ہیں۔ دین کا پس منظر رکھنے والے اکثر لوگوں کو یہ اضافی سہولت حاصل ہے کہ ان کا رہن سہن کر و فر سے پاک ہوتا ہے۔ مساجد کو ہی قیام کا مقام بنا لیتے ہیں۔ وگرنہ غیر سرکاری تنظیموں کے لوگ تو جب کام کرنے آتے ہیں تو انہیں سفر کے لئے ایسی ائر کنڈیشن گاڑیاں درکار ہوتی ہیں جو ریت میں چل سکیں۔ رہائش کے لئے تمام ضروریات سے آراستہ مکان درکار ہوتے ہیں جہاں وہ سہولتوں کے ساتھ وقت گزار سکیں۔ ہر کوئی تو نعمت اللہ خان، حافظ عبدالرﺅف ، محمد خالد سیف یا ڈاکٹر فہمیدہ نہیں ہوتے جو بیاباں میں انسانوں کی خدمت کا جذبہ رکھتا ہو۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو تھرپارکر میں غربت تو شائد ختم نہ ہوتی البتہ لوگ بنیادی انسانی ضروریات سے محروم نہیں رہتے۔

تھرپارکر میں سڑکوں کا جال جب نہیں بنا تھا تو جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا اسد اللہ بھٹو اور عبدالوحید قریشی سے حیدرآباد میں ایک ملاقات ہو گئی تھی۔ مولانا اسد تھر پارکر کے دورے سے لوٹے تھے۔ ان دنوں بھی سخت ترین قحط آیا ہوا تھا۔ میں بھی تھرپارکر میں اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے بعد ان سے کچھ عرصے قبل واپس آیا تھا۔اس دور میں تو ریت میں ڈامر ملا کر سڑک صرف مٹھی تک ہی تعمیر ہو ئی تھی۔ بلا کا قحط تھا۔ لوگوں کے غول در غول اپنے مویشیوں کے ہمراہ نہری علاقوں کی طرف زندہ رہنے کی امید لئے آ رہے تھے۔ انسانوں کے لئے گندم نہیں تھی ، پانی نہیں تھا تو جانوروں کے لئے چارہ اور بھوسا کہاں سے آتا ۔ ریگستان میں ضلع کا ہیڈ کوارٹر مٹھی نہری علاقے سے صرف پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ پورا تھر پارکر تو سینکڑوں کلو میٹر دور ہے۔ مجھے اس بات پر قلق اور غصہ تھا کہ جس علاقے سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر جو لوگ دولت مند ہیں اگر انہیں ہی اپنے علاقے اور لوگوں کی فکر نہیں تو ہمیں یہ فکر کیوں کھائے جاتی ہے۔ کہاوت مشہور ہے کہ خیرات کی ابتداءاپنے گھر سے کی جاتی ہے ۔ اپنے گھر میں تو لوگ سہولتوں کی کمی کی وجہ سے کس مپرسی کی سماجی حالت کا شکار ہیں اور ہم چلے ہیں دوسروں کے علاقوں میں مدد کرنے۔ آخر ایسا کیوں ہے۔

میں نے اپنے اس خیال کااظہار مولانا اسد اللہ سے کر دیا کہ جن علاقوں سے آپ لوگ چندے جمع کرتے ہیں ان علاقوں کے ضرورت مند لوگوں کا حق پہلے بنتا ہے۔ انہوں نے مطمئن کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کے جانے کے بعد میرے دوست ادریس بختیار نے جواب دیا کہ جہاں بھی بن پڑے انسانوں کی خدمت کرنا چاہئے ۔ میں نے حافظ عبدالرﺅف سے کہا کہ کراچی ، حیدرآباد ، لاہور یا لاڑکانہ میں بھی بچے اسی طرح پھٹے پرانے کپڑوں میں گھومتے ہیں۔ لوگ جوہڑسے گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ ادریس صاحب کی بات درست تو ہے ،لیکن ان لوگوں کو کیوں احساس نہیں دلانا چاہئے جو اس علاقے کے لوگ ہیں ۔ دولت میں کھیل رہے ہیں ۔ غلام محمد میمن عرف لاٹ صاحب، ان کے بیٹے گل محمد، رنچھور دھیرانی ، پیسو مل عکرانی، رانا ہمیر سنگھ ، ڈاکٹر عبدالحفیظ ہالے پوٹہ ، مخدوم امین فہیم کے بھائی سعید الزماں، امین فہیم کے بیٹے مخدوم نعمت اللہ ، پیر پگارو کے مرید مرحوم عبدالقدوس راجڑ اور سینکڑوں دیگر جو انتخابات میں حصہ لینے کے لئے شہری علاقوں سے تھر پارکر میں پہنچ جاتے ہیں یا پہنچ جایا کرتے تھے ، بعض تو امریکہ اور برطانیہ سے بھی آجاتے ہیں، بھاری بھاری رقمیں دیکر امیدوار بننے کے لئے ٹکٹ خرید لیتے ہیں۔ کچھ کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ (جاری ہے)

دوسری قسط

 سندھ کے دو بڑے پیر صاحبان پیر پگارو، مخدوم امین فہیم اور اب شاہ محمود قریشی یا رکن قومی اسمبلی پیر نور محمد جیلانی اس علاقے پر صرف اسی وقت کیوں توجہ دیتے ہیں جب ان کے نامزد امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینا ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے ووٹروں کو کیوں بھول جاتے ہیں۔ ان کا مسکن کراچی یا اسلام آباد کیوں ٹہر جاتا ہے۔ وسائل اور دولت ان کے لئے اس طرح اہم بن جاتی ہے جو صرف ان کی ذات کے لئے ہوتی ہے۔ دیگر دولت مند افراد میں دلاور ملکانی، حاجی سراج سومرو، صوبائی وزیر دوست محمد راہموں اور درجنوں دیگر شامل ہیں۔ ان ڈاکٹروں کو کیا کہا جائے جو تھر پارکر کے ڈومی سائل کی بنیاد پر ان سے زیادہ اہلیت والے لوگوں پر ترجیح حاصل کر کے پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں داخلے حاصل کر سکے اور قوم کے پیسے سے ڈاکٹر بن گئے، بڑے شہروں میں کام کر رہے ہیں، پیسہ بنا رہے ہیں، لیکن اپنے سالوں میں سے ایسے ایک یا دو ہفتے کیوں نہیں نکالتے کہ اپنے ہی ان غربت زدہ علاقوں کے لوگوں کی بھی خبر گیری کر سکیں جہاں ان کے آباءاجداد پیدا ہوئے، جہاں انہوں نے خود اپنا بچپن گزارا۔ ان غیر سرکاری تنظیموں نے مختلف منصوبوں کے نام پر حاصل کئے گئے فنڈ کیوں جائز طور ان مقاصد کے لئے خرچ نہیں کئے جن کے لئے انہوں نے غیر سرکاری تنظیم قائم کی اور فنڈ حاصل کئے۔ پاکستان میں ہر قسم کی کرپشن میں مالی کرپشن سر فہرست قرار دی جاتی ہے۔ دوسری نسل کی زندگی اپنی گزشتہ نسل کی زندگی سے یکسر مختلف اور نہایت بہتر ہو گئی ہے ،لیکن یہ فرق صرف افراد تک محدود ہے۔ اس فرق سے ان افراد کو پورا خاندان بھی مستفید نہیں ہو سکا ہے۔ ایسے لوگوں کو کون بتائے کہ ایسی زندگی کیا جو اپنوں کے کام بھی نہ آسکے ۔

زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہر حکومت کی بنیادی اور اہم تریں ذمہ داری قرار دی جاتی ہے۔ یہ مشرف کی فوجی حکومت تھی جس نے نوکوٹ کے نہری علاقے سے ریگسانی علاقے مٹھی تک پہلی بار پائپ لائن کے ذریئے پانی پہچانے کا انتظام کیا۔ خود جنرل مشرف نے چھور کی فوجی چھاﺅنی کے اس وقت کے سربراہ برگیئڈئر حسنین کو پابند کیا کہ وہ خود پانی پہنچانے کے کام کی نگرانی کریں۔ انہوں نے اربا ب غلام رحیم کی درخواست پر تھرپارکر کے تمام تحصیل ہیڈ کوارٹروں کو سڑکوں سے جوڑنے کا کام مکمل کرایا۔ اس کام کی ابتداءمحمد خان جونیجو نے وزیر اعظم کی حیثیت سے کی تھی۔ ا س سے قبل تو فوج دفاعی نقطہ نظر سے اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتی تھی کہ ریگستان میں سڑکیں تعمیر کی جائیں ۔ یہ حکمت عملی شائد اس لئے تھی کہ بھارت کسی جنگ میں اس سڑکوں سے اپنے ٹینک نہ گزار دے، لیکن 1971ءکی جنگ کے دوران بھارت کے ٹینک لوہے کی بنی ہوئی پلیٹوں کے سہارے ریگستان میں داخل ہو گئے تھے۔ اب تو پینے کے پانی کی پائپ لائن نوکوٹ سے مٹھی پہنچی، اسلام کوٹ پہنی اور ننگر پارکر پہنچے والی ہے۔ چوں کہ علاقہ اتنا وسیع ہے کہ کوئی بھی حکومت گاﺅں گاﺅں کو سڑکوں سے نہیں ملا سکتی، پینے کے لئے پانی نہیں پہنچا سکتی اور بجلی نہیں پہنچا سکتی ہے اس لئے کام مراحل میں ہو رہا ہے۔ تعلیم کے لئے اسکول اور علاج کے لئے مختصر اسپتال تو گاﺅں گاﺅں تعمیر ہو سکے ہیں، لیکن معاملہ طرز حکمرانی کا ہے۔ جہاں اسکول تعمیر ہو گئے ہیں وہاں اساتذہ مقرر ہونے کے باوجود نہیں پہنچتے ہیں، جہاں چھوٹے اسپتال موجود ہیں، ڈاکٹر بھرتی کئے گئے ہیں وہ اپنے فرائض انجام دینے نہیں پہنچتے ۔ حکومت ہے کہ اپنے ہی اراکین اسمبلی اور بااثر افراد کے سامنے بے بسی کی تصویر بنی رہتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ فوجی اور جمہوری حکومتوں کے ادوار میں یہ رویہ ایک جیسا ہی پایا جاتا ہے۔ ہمارے ریگستان کے پڑوس میں بھارت کا ریگستان موجود ہے جہاں ہماری سرحد تک نہری پانی موجود ہے۔ ہرے بھرے کھیت موجود ہیں اورہماری طرف ریت اڑتی ہے۔ بھارت نے برسوں قبل نہر تعمیر کر ڈالی اور ہم ہیں کہ ابھی پائپ لائن سے بھی پانی نہیں پہنچا سکے ہیں ۔

زندگی میں تبدیلی لانے کے لئے جنوں کی ضرورت ہوتی ہے، جزبہ درکار ہوتا ہے۔ استقامت کا دخل ہوتا ہے۔ اب وہ لوگ ہی تھر پارکر میں نہیں رہے جن کانام ارباب امیر حسن تھا، جن کانام مسکین جہان خان کھوسو تھا،جن کا نام شکیل پٹھان تھا ، سلام عزیز تھا، آفتاب چوہدری تھا اور ان جیسے انگلیوں پر گنے جانے والے دیگر کئی لوگوں کے نام۔ 31 اکتوبر کو حیدرآباد میں اپنے وقت کے مشہور کمیونسٹ رہنماءجام ساقی کی 70 ویں برسی کا دھوم دھام سے اہتمام ان کے داماد صحافی اقبال ملاح نے کیا تھا۔ ملک بھر کی گرد چھانٹنے والے جام ساقی کی طبیعت طویل عرصے سے ناساز ہے، لیکن وہ اپنی اس سالگرہ میں بن سنور کر آئے تھے۔ خوشی ان کے چہرے ہر عیاں تھی۔ بوسکی کی پگڑی ان کے سر پر تھی۔ اپنے گھر تک محدود یہ شخص جس نے تھر پارکر کے دور افتادہ علاقے میں واقع اپنے والد مسٹر سچل کو گھر بار چھوڑکر سندھ کے تمام علاقوں کی خاک اس لئے چھانی تھی کہ عام لوگوں کی زندگی میں تبدیلی آجائے۔ اس ملک کے عام لوگ بھی ملک وسائل کے حصہ دار بن سکیں۔ طلباءسیاست سے آغاز کر کے ہاریوں کو منظم کرنے کی کوشش اورعام لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لئے ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانے اور پاکستان کے مختلف جیلوں میں وقت گزارنے اور بدنام زمانہ لاہور کے شاہی قلعہ میں قید تنہائی کاٹنے والے جام ساقی کے چہرے پر موجود رمق بتا رہی تھی کہ وہ ابھی بھی نامید نہیں ہیں۔ البتہ لالہ رحمان سموں کا یہ سوال کہ اب نظریات کی سیاست کرنے والے کہاں کھو گئے ہیں۔ ان کا اشارہ بائیں بازو کی سیاست کرنے والے ان عناصر کی طرف تھا جن کی تربیت کا دخل خود لالہ رحمان کی زندگی میں بھی ہے۔ انہیں اپنے ہی لوگوں سے گلہ تھا کہ جب جماعت اسلامی موجود ہے، جب دیگر سیاسی جماعتیں موجود ہیں تو بائیں بازو کی سیاست کرنے والے کہاں غائب ہو گئے ہیں۔ لالہ رحمان نے یہ سوال کا جواب سامعین کے لئے چھوڑ دیا تھا ۔ جواب آسان ہے کہ امریکہ اور روس کی سرد جنگ کے بعد امریکہ اور مغرب نے جس انداز میں غیر سرکاری تنظیموں کی سرپرستی اور پشت پناہی کی وہ تنظیمیں بائیں بازو کے لوگوں کی اکثریت ہی تو چلا رہی ہے۔ اب جام ساقی والا وہ جنوں تو لوگوں میں نظر نہیں آتا کہ ایک تعلیمی ادارے سے دوسرے اور ایک گاﺅں سے دوسرے گاﺅں جاکر لوگوں سے براہ راست ملاقاتیں کی جا ئیں ۔ ان کے دھک درد کا حصہ بنا جائے اور انہیں اس بات پر قائل کیا جائے کہ اپنی تقدیر اور اپنے حالات تبدیل کرنے کے لئے انہیں خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ ان کی تقدیر تبدیل کرنے کے لئے کوئی مسیحا بھی اسی وقت آئے گا جب لوگ اپنی تقدیر تبدیل کرنے کا فیصلہ خود کر لیں گے۔ جنونیوں کی جماعت بنانا ہو گی تو ہی تقدیر تبدیل ہوگی۔ پھر یہ بات بھی کہ جن لوگوں نے لالہ رحمان جیسے لوگوں کی تربیت کی، ان کے بعد لالہ رحمان نے بھی تو قرضہ نہیں چکایا ۔ کیا لالہ رحمان نے کسی کی تربیت کی۔ کیا لالہ رحمان نے جام ساقی کی طرح کسی تعلیمی ادارے طالب علموں یا گاﺅں میں جا کر عام لوگوں کے ساتھ اپنے وقت میں سے دو گھڑی گزاری۔ جب ایسا کیا ہی نہیں گیا تو بائیں بازو کی سیاست کرنے والوں کا غائب ہوجانا تو کسی اچھنبے کی بات نہیں ٹہری ۔ غربت ختم کرنا ہمارے بس میں نہیں ہے، لیکن انسانوں کو علاقوں، نسل، زبان کے امتیاز کے بغیر یکساں مواقع، ضروریات اور سہولتوں کی فراہمی کے لئے آواز اٹھانا، سرگرم رہنا، جدو جہد کرنا ، رائے عامہ کو ہموار کرنا ، وکالت کرنا، حکومت پر ہر قانونی طریقے سے دباﺅ ڈالنا تو ہمارے بس میں ہے اور جو ہمارے بس میں ہے ہمیں کر گزرنا چاہئے ۔ ختم شد

مزید :

کالم -