لاہور میں کربلا

لاہور میں کربلا
لاہور میں کربلا

  

عاشورہ سے دو روز پہلے لاہور میں قیامت صغریٰ نے پوری قوم کو دہرے غم میں مبتلا کر دیا ہے لاہور میں کربلا کا منظر تھا، جہاں ہر طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں اور زخمی تڑپ رہے تھے۔ مَیں واہگہ بارڈر پر ہونے والی پریڈ ایک دو بار دیکھنے گیا ہوں، وہاں اس قدر سکیورٹی ہوتی ہے کہ بظاہر چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی، پھر یہ اتنا بڑا سانحہ کیسے ہو گیا، کہنے کو اب بہت سی تاویلیں گھڑی جا رہی ہیں اور یہ موقف بھی اختیار کیا جا رہا ہے کہ سیکیورٹی کے سخت اقدامات کی وجہ سے بڑا نقصان نہیں ہوا۔ یہ افسران نجانے بڑا نقصان کسے سمجھتے ہیں۔ 60 افراد زندگی کی بازی ہار گئے اور بیسیوں عمر بھر کے لئے معذورہو چکے ہیں، مگر اُن کے نزدیک یہ کوئی بڑا نقصان ہی نہیں کوئی ماننے کو تیار نہیں کہ ہماری سیکیورٹی کی صورتِ حال انتہائی ناقص ہے، بظاہر بہت ہٹو بچو نظر آتی ہے مگر در حقیقت وہ دہشت گردوں کے لئے کاغذی حصار ثابت ہوتی ہے۔ خود کش حملہ آور کے لاہور میں داخل ہونے کی انٹیلی جنس اطلاعات کے باوجود اُس کا حساس علاقے میں بارود سمیت پہنچ جانا ہماری غفلتوں اور نا اہلی سے بھری تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر گیا ہے۔ آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کی زبان سے یہ سن کر رہی سہی اُمید بھی ختم ہو گئی کہ خود کش حملہ آور کو روکنا ممکن نہیں۔ وہ کسی وقت اور کہیں بھی تباہی پھیلا سکتا ہے۔ گویا دوسرے لفظوں میں دہشت گردوں کو یہ پیغام دیدیا گیا ہے کہ وہ خود کش حملہ آور بھیجتے رہیں ہم اُن کے سامنے دیدہ و دل فرش راہ کئے ہوئے ہیں۔

آخر ہمارے سیکیورٹی ادارے کب تک کم نقصان کی طفل تسلی دے کر عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ اس دھماکے میں خدانخواستہ سو افراد بھی جاں بحق ہو جاتے تو یہی کہا جاتا کہ ہمارے سخت انتظامات کی وجہ سے نقصان کم ہوا۔ یعنی ہم صرف نقصان کے کم یا زیادہ ہونے کا پیمانہ لے کر بیٹھے ہیں اطلاعات کے مطابق خود کش حملہ آور کئی دنوں سے اس علاقے میں ٹھہرا ہوا تھا، اُس نے اور اس کے سرپرستوں نے یقیناً کئی روز تک علاقے کی ریکی کی ہو گی پھر 20 کلو بارودی جیکٹ بھی اُس کے ساتھ تھی، کمال ہے کہ یہ سب کچھ کسی کو نظر نہیں آیا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ علاقے میں پولیس اور رینجرز موجود ہوں اور ایک دہشت گرد اس طرح آزادانہ دندناتا پھرے۔ یہ صرف اُس صورت میں ممکن ہے جب سیکیورٹی کے اُمور کو غیر سنجیدہ انداز سے چلایا جاتا ہو، جب واردات سے پہلے اُس کی بو سونگھ لینے کی صلاحیت نہ ہو اور اُس کے رونما ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہو یہ واقعہ کسی بازار، کسی گلی محلے یا کسی مسجد میں ہوا ہوتا تو شاید اس کی سنگینی اس قدر نہ ہوتی، یہ تو ایک ایسے علاقے میں ہوا ہے، جہاں دو ممالک کی سرحدیں ملتی ہیں، پولیس اور رینجرز ہمہ وقت موجود رہتی ہیں، قدم قدم پر چیکنگ ہوتی ہے، ناکے اور تلاشیاں تک لی جاتی ہیں، پھر یہ سب کیسے ہو گیا نہ صاحب نہ اسے خدائی فیصلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، یہ بہت بڑا سیکیورٹی خلاءہے، جسے ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جانا چاہئے اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کے بعد نہ صرف سیکیورٹی کے انتظامات کی نئی حکمت عملی وضع ہونی چاہئے بلکہ غفلت کے مرتکب افسران کو کٹہرے میں بھی کھڑا کیا جانا چاہئے۔

ڈی سی او لاہور کے اس بیان پر مَیں نے سر پیٹ لیا کہ دہشت گرد ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے، ارے تمہارا گیا کیا ہے کہ حوصلے پست ہوں گے، تمہاری تو کرسی بھی موجود ہے اَور کروفر بھی، چند روز کے بعد پھر سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہے گا، اصل قیامت تو اُن پر ٹوٹی ہے، جن کے پیارے آناً فاناً قیامت کی نذر ہو گئے ہیں۔ خاندان کے خاندان مٹ گئے اور اُن کے لئے سب کچھ ختم ہو کر رہ گیا۔ دعا تو اُن کے لئے کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اُن کے حوصلے سلامت رکھے اور اُنہیں یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں دہشت گردی کے واقعہ کو کسی کی ذمہ داری نہیں سمجھا جاتا اور اسے خدا کی رضا سمجھ کر قبول کر لیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس پر بھی احتساب ہونا چاہئے اور اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کی جانی چاہئے کہ کہاں مجرمانہ غفلت ہوئی جس سے فائدہ اُٹھا کر دہشت گرد اتنی بڑی واردات کرنے میں کامیاب رہے۔ وزیر اعظم محمد نوازشریف نے اگرچہ وزارت داخلہ اور حکومتِ پنجاب سے اس سانحہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ وزارتِ داخلہ کی طرف سے اس بات کی انکوائری کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ جب دہشت گردی کے امکانات کی رپورٹ دی گئی تھی تو پھر فول پروف اقدامات کیوں نہیں کئے گئے۔ مگر یہ ساری مشق بھی چند روزہ سرگرمی کے بعد ختم ہو جائے گی اور ہمارے سیکیورٹی ادارے کسی اگلی واردات کے رونما ہونے تک لسی پی کر سو جائیں گے۔

لاہور کا سانحہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دہشت گرد ابھی پوری طرح منظم ہیں اگرچہ آپریشن ضرب عضب نے قبائلی علاقوں میں اُن کی کمر توڑ دی ہے اور ٹھکانے ختم کر دیئے ہیں، تاہم جو نیٹ ورک وہ پاکستان کے شہری علاقوں میں بنا چکے ہیں وہ ابھی تک قائم ہے۔ لاہور کے سانحہ میں وقت اور جگہ کا انتخاب بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔ یہ کوئی معمولی نوعیت کی منصوبہ بندی نہیں بلکہ اس کے پس پردہ ایک منظم حکمتِ عملی کار فرما نظر آتی ہے۔ ایک ایسی جگہ کا انتخاب جس کی بین الاقوامی اہمیت ہے اور جہاں عالمی میڈیا کی نظریں بھی مرکوز رہتی ہیں۔ وہاں دہشت گردی کا منصوبہ بنانا اور اُس کے لئے ایسے وقت کا انتخاب کرنا جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود ہو، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گرد نہ صرف منظم ہیں بلکہ اپنی طاقت کو منوانے کے راستے بھی جانتے ہیں کہا یہ جا رہا ہے کہ لاہور کا سانحہ آپریشن ضرب عضب کا پہلا منظم ردعمل ہے جو دہشت گردوں کی طرف سے آیا ہے۔ ظاہر ہے اگر ردعمل اتنی تاخیر سے آیا ہے تو اس کی وجوہات ہوں گی۔ دہشت گرد اس دوران اپنے نیٹ ورک کو منظم کر رہے ہوں گے یا پھر سخت سیکیورٹی کی وجہ سے اُنہیں اپنے مذموم مقاصد پورا کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہوں گی۔ ایسے میں یہ سوال یقیناً اُبھرتا ہے کہ آخر ہمارے سیکیورٹی اداروں کی گرفت کہاں ڈھیلی ہوئی کہ جس کا فائدہ اُٹھا کر وہ کربلا سے پہلے لاہور میں کربلا برپا کرنے میں کامیاب رہے۔ دوسری صورت میں اگر اُنہوں نے دوبارہ منظم ہونے کے بعد یہ حملہ کیا ہے تو پھر ہمیں مزید ایسے حملوں کے امکان کو رد نہیں کرنا چاہئے۔ کیا ہماری حکومت اور ذمہ دار ادارے اس چیلنج کے لئے تیار ہیں یا پھر وہ لاہور جیسے کسی سانچے تک پھر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔

آپریشن ضرب عضب کے آغاز پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کا صفایا کیا جائے گا چاہے وہ قبائلی علاقوں میں ہوں یا اندرون ملک کسی شہر میں، مگر شمالی و جنوبی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے ساتھ پیش رفت کے باوجود اس پہلو پر ابھی تک کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی کہ اندرونِ ملک دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور نیٹ ورک کو کیسے ختم کیا جائے۔ پہلے تو کہا جاتا تھا کہ خودکش حملہ آور میرن شاہ میں تیار ہوتے ہیں، اب جبکہ وہاں فوج نے تمام ٹھکانے ختم کر دیئے ہیں تو پھر یہ حملہ آور کہاں تیار ہو رہے ہیں۔ لاہور میں خود کش حملہ کرنے والا نوجوان کہاں سے آیا اور کہاں اُسے اس کی تربیت دی گئی۔ اگر یہ مراکز پنجاب میں ہیں تو کہاں ہیں اور پنجاب میں نہیں تو پھر کہاں سے انہیں پنجاب بلکہ لاہور بھیجا جا رہا ہے۔ اس کا کھوج لگانا انتہائی، ضروری ہے کیونکہ لاہور کی اس بڑی دہشت گردی نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ قبائلی علاقوں سے خود کش حملہ آوروں کی سپلائی لائن کاٹ دیئے جانے کے باوجود وہ کہیں نہ کہیں سے جاری ہے۔ اگر اُس کا پتہ نہ لگایا گیا تو پھر مستقبل میں بھی اس قسم کے ہلاکت خیز حملے جاری رہیں گے اور ہم لکیر پیٹتے رہ جائیں گے۔

سانحہ¿ لاہور، اپنے پیچھے درد کی نہ ختم ہونے والی کہانیاں چھوڑ گیا ہے۔ پانچ درجن افراد کے پیارے اب ساری زندگی اُن کی یاد میں آنسو بہاتے گزاریں گے۔ ایسے سانحات معاشرے کو ہلاکر رکھ دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ پاکستان کوایسے سانحات سے بچائے اور ہمارے سیکیورٹی پر مامور اداروں کو وہ صلاحیت اور توفیق عطا کرے جو درندہ صفت دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے۔  ٭

مزید :

کالم -