ایل۔پی۔ جی کے نرخ بھی کم

ایل۔پی۔ جی کے نرخ بھی کم

  

پٹرولیم کے نرخوں میں کمی کے بعد ایل۔پی۔ جی کی قیمتوں میں متوقع طور پر 17 روپے فی کلو کمی کر دی گئی ہے اور گیس سلنڈر کے صارفین کو بھی ریلیف دی گئی ہے۔ یہ بھی ایک احسن اقدام ہے لیکن حساب کے مطابق نہیں کہ گزشتہ دو تین ماہ کے دوران ایل۔پی۔ جی کے نرخوں میں بلا جواز تین مرتبہ اضافہ کیا گیا اور قریباً 45 روپے کلو تک قیمت بڑھائی گئی ا ور اب اگر کمی کی گئی تو وہ صرف 17 روپے فی کلو کی گئی ہے جو سراسر نا انصافی ہے ایل پی جی کے نرخ اس پرانی سطح پر لانے کی ضرورت تھی جہاں سے بڑھائے گئے تھے ۔

ایل۔پی۔ جی ان گھریلو صارفین، رکشا والوں اور دو کان داروں کی ضرورت ہے جو قدرتی گیس یا سی۔ این۔ جی سے مستفید نہیں ہو سکتے یوں سیدھے سبھاؤ یہ گیس نچلے اور متوسط طبقے کے کام آتی ہے۔ حتیٰ کہ شمال کے پہاڑی اور پنجاب کے دیہی علاقوں میں بھی باورچی خانہ اس گیس سے چلتا ہے اسی لئے اسے مہنگا کیا جاتا ہے، اور یہ اضافہ سرکار یا سرکاری محکمہ نہیں خود ایل۔پی۔ جی مہیا کرنے والی کمپنیاں کرتی ہیں ڈیلروں سے ان کا تنازعہ بھی رہتا ہے کمپنیاں من مانی کرتی ہیں۔ حکومت کو ایل۔پی ۔ جی سیکٹر کو بھی سرکاری کنٹرول میں لانا چاہئے اور اسے عوام کے لئے ریلیف کا ذریعہ بنانا چاہئے۔ *

مزید :

اداریہ -