مصباح الحق اور کرکٹ ٹیم کو مبارکباد

مصباح الحق اور کرکٹ ٹیم کو مبارکباد

  

گگلی کنگ عبدالقادر کرکٹ کا ایک بڑا نام ہیں اور وہ عام طور پر بات بھی کھلے انداز میں کرتے ہیں وہ چیف سلیکٹر بھی رہے ہیں۔ پاکستان کے شہرت یافتہ بلے باز یونس خا ن نے دو ٹیسٹ میچوں میں مسلسل تین مرتبہ سنچریاں بنا ڈالیں تو ان کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے گئے ایسے میں عبدالقادر نے جو تبصرہ کیا اس میں یونس خان کی بہت تعریف کی اور ساتھ ساتھ یہ بھی تجویز کیا کہ اسے انعام دینا ہے تو پھر اسے 2015ء کے ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کے عالمی کپ کے لئے کپتان بنا دیا جائے، عبدالقادر کا یہ جذباتی ردعمل بھی ہو سکتا ہے اور حسابی، کتابی بھی کہ وہ مصباح الحق کو پسند نہ کرتے ہوں گے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے خود پر ہونے والی ہر تنقید کا جواب آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگ میں دے دیا۔ انہوں نے پہلی اننگ میں تو اپنی رفتار کے مطابق سنچری سکور کی لیکن دوسری اننگ میں ایسی دھواں دار بیٹنگ کی کہ سب نقادوں کے منہ بند کر دیئے۔ اب تو عبدالقادر بھی شرما رہے ہوں گے۔ مصباح نے ٹکٹ تک کے خطاب کو دھو ڈالا اور پہلے تیز ترین 50 رنز اور پھر اسی رفتار سے تیز ترین سنچری بنانے کا عالمی ریکارڈ بنا ڈالا اور ثابت کر دیا کہ وہ ٹک ٹک نہیں بوم بوم بھی بن سکتا ہے۔ یوں مصباح نے عالمی کپ 2015ء تک اپنی کپتانی بھی پکی کر لی ہے اور کئی سازشیوں کے منہ لٹکا دیئے ہیں، اب تو نجم سیٹھی بھی کہتے ہیں کہ مصباح کو 2015ء کے عالمی کپ تک کپتان رکھنے کی بنیاد اور تجویز ان کی تھی ۔

کپتان مصباح الحق اور ان کی ٹیم کو آسٹریلیا جیسی پروفیشنل اور ’’بگ تھری‘‘ کی ایک اہم ترین ٹیم کے خلاف بہترین پرفارمنس پر مبارک باد دیتے ہوئے اس امر کی نشان دہی پھر ضروری ہے کہ یہاں کرکٹ بورڈ کا عہدہ منافع بخش اور منفعت والا بن چکا ہے کہ ہر سینئر کھلاڑی اگر اس کے پیچھے نہیں بھاگتا تو اس کے لئے دعائیں ضرور مانگتا ہے۔ ایک وجہ یہ اور دوسری وجہ علاقائی اور لسانی تعصب کی ہے کہ کرکٹ ٹیم کی سلیکشن اور پریکٹس میں دھڑے بندی اور سازش ہوتی ہے۔ اس کا خاتمہ ضروری ہے اور کرکٹ ٹیم بنانے اور چننے کے حوالے سے اہلیت ہی معیار ہونا چاہئے۔ شاباش مصباح الحق، پاکستان میں بہت ٹیلنٹ ہے۔

مزید :

اداریہ -