واہگہ بارڈر پر خود کش حملہ ۔۔۔ جامع اور ہمہ جہت تفتیش کی ضرورت

واہگہ بارڈر پر خود کش حملہ ۔۔۔ جامع اور ہمہ جہت تفتیش کی ضرورت

  

واہگہ بارڈر کے سیکیورٹی بیرئیر کے قریب خود کش بمبار کے حملے میں تین رینجرز اہلکاروں سمیت 60افراد شہید اور 175کے لگ بھگ زخمی ہو گئے، واہگہ بارڈر پر قومی پرچم اتارنے کی تقریب کے اختتام کے بعد خود کش حملہ آور نے تقریب والی جگہ کے اندر جانے کی کوشش کی تاہم سخت سیکیورٹی کے باعث وہ اندر داخل نہ ہو سکا اور باہر ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا، دھماکہ اتنا شدید تھا کہ زمین لرز گئی اور اس کی آواز دور دور تک سنی گئی، بھارتی جانب بھی لوگوں نے دھماکہ ہوتے سنا اور دیکھا بھارتی جانب بھی لوگ پرچم اتارنے کی تقریب میں شرکت کے لئے آتے ہیں ۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ خود کش حملے کی وارننگ جاری کر دی تھی، اس کے باوجود اقدامات نہ کئے جانے کی تحقیقات کریں گے وارننگ کے باوجود خودکش حملہ آور کو روکنے کے لئے اقدامات نہ کرنا سوالیہ نشان ہے اورسکیورٹی کایہ خلاکیونکرپیدا ہوا اس کی پوری تحقیقات کی جائیگی۔

وسط جون سے شمالی وزیرستان میں شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشتگردوں کی یہ سب سے بڑی کارروائی ہے جو انہوں نے اب کی بار کسی سیکیورٹی تنصیبات ،کسی پر رونق علاقے یا کسی مارکیٹ وغیرہ میں نہیں کی بلکہ اس کے لئے سرحد پر ایک ایسے مقام کا انتخاب کیا گیا جہاں ہر روز مغرب سے پہلے قومی پرچم اتارنے کی روح پرور تقریب منعقد ہوتی ہے او راس میں دور و نزدیک سے بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں، بعض اوقات خاندان کے افراد عورتیں اور بچے بھی ہوتے ہیں اس افسوسناک واقعے میں سمندری (ضلع فیصل آباد) کے ایک ہی خاندان کے نو، ڈی جی خان کے پانچ اور لاہور کے ایک خاندان کے پانچ افراد کی شہادت سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس تقریب میں کس ذوق و شوق سے آتے ہیں، دوسرے شہروں کے لوگ جب بھی لاہور آتے ہیں وہ اس تقریب میں شرکت کا پروگرام بھی رکھتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جس تنظیم نے بھی اس دہشتگردی کی منصوبہ بندی کی اسے ان تمام پہلوؤں کا علم تھا، ان لوگوں کا یہ بھی خیال ہو گا کہ عمومی طور پر یہ تصور بھی مشکل ہوتاہے کہ اس طرح کے کسی علاقے کو بھی دہشتگرد ٹارگٹ کر سکتے ہیں، ماضی میں دہشتگردوں نے سیکیورٹی تنصیبات اور تربیتی اداروں کو ٹارگٹ کیا ہے پولیس کے تربیتی اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے لیکن سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے ایک حساس مقام پر پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں شہری اس کا نشانہ بنے ہیں،جس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ کوئی دور دراز علاقہ بھی ان دہشتگردوں کی دستبرد سے محفوظ نہیں شمالی وزیرستان میں تو دہشتگردوں کو تتر بتر کر دیا گیا ہے ان کے ٹھکانوں اور تربیتی مراکز کو تہس نہس کر دیا گیا ہے ان کے اسلحے کے ذخائر بھی پکڑے گئے ہیں ۔ اس لئے لگتا یہ ہے کہ یہ ان دہشتگردوں کی کارروائی ہو سکتی ہے جنہوں نے اپنے نیٹ ورک کو ملک میں جگہ جگہ پھیلا رکھا ہے اور وہ اب بھی کہیں نہ کہیں ایسے واقعات کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔

سیکیورٹی سے متعلقہ اداروں نے اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور وہ مختلف پہلوؤں کو پیش نظر رکھ کر اس کی جامع تفتیش کر رہے ہوں گے جن تنظیموں نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے وہ ان کے دعوے کا جائزہ بھی لیں گے کیونکہ بعض تنظیموں کا یہ چلن ہے کہ وہ تفتیش کا رخ موڑنے کے لئے بھی بے سروپا دعوے کر دیتی ہیں، یا پھرایسے دعووں سے ان کا مقصد یہ تاثر دینا ہوتا ہے کہ وہ ہر طرح کی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں بہرحال تفتیش کرتے ہوئے یہ پہلو خاص طور پر پیش نظر رکھنا ہو گا کہ دہشتگردوں نے دہشتگردی کے لئے یہ مقام کیوں چنا؟ جو روایتی طور پر ٹارگٹ نہیں ہو سکتا اس لحاظ سے یہ واردات کئی پہلوؤں سے منفرد اور غیر روایتی سی ہے یہ جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ وزارت داخلہ کی وارننگ کو کیوں سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، کیا وارننگ مبہم تھی یا غیر واضح ؟ اگر ایسا تھا بھی تو کم از کم دو چار دن کے لئے ایسی تقریب میں لوگوں کی شرکت رو کی جا سکتی تھی، پرچم تو بہرحال طریقہ کار کے مطابق ہر شام اتارا ہی جاتا ہے لیکن کسی وارننگ کے پیش نظرشرکاء کو تو روکا جا سکتا تھا اور یہ آسان ترین راستہ تھا ۔عام خیال یہی ہے کہ یہ واردات آپریشن ضرب عضب کا ردعمل ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ ردعمل خاصی تاخیر سے ہوا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشتگردوں نے سمنگلی(کوئٹہ) اور کراچی ائیرپورٹ سمیت چند مقامات پر ردعمل دینے کی کوشش کی لیکن اس میں وہ اس لحاظ سے بری طرح ناکام رہے کہ ایک تو ان کا ٹارگٹ پر پہنچنا ممکن نہ ہوا اور سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں پر کھیل کر ان کی یہ کوشش ناکام بنائی ،دوسرے تمام دہشتگرد مارے بھی گئے، اس سے یہ تاثر عام ہوا کہ دہشتگردوں کا نیٹ ورک بکھر گیا ہے اور وہ کوئی بڑی کارروائی کرنے کے قابل نہیں رہے۔ لیکن واہگہ کے واقعہ سے لگتا ہے کہ ابھی ان میں دم خم ہے اور وہ ابھی اپنے مذموم عزائم سے باز نہیں آئے اور وہ جہاں کہیں سکیورٹی امور میں رخنہ محسوس کرتے ہیں اسے ٹارگٹ کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دیتے ہیں توقع کرنی چاہئے کہ ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر جامع تفتیش کی جائیگی اور پھر کسی نتیجے پر پہنچ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کی جائیگی۔

اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں شمالی وزیر ستان میں دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور وہاں بہت کم علاقہ ایسا بچاہے جہاں ان کا وجود باقی ہے لیکن عین ممکن ہے کہ جو لوگ کسی نہ کسی وجہ سے وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہوں وہی ایسی وارداتوں میں ملوث ہوں اگرچہ یہ واقعہ جانی نقصان کے حوالے سے انتہائی افسوسناک اورالمناک ہے اور اس نے اہل وطن خصوصاً اہل لاہور کو دکھی کیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دہشتگردوں سے مغلوب ہو گئے ہیں یا ان کی پھیلائی ہوئی دہشت نے ہمارے اعصاب کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔

اس کا اندازہ پیر کے روز ہونے والی پرچم اتارنے کی تقریب سے ہو سکتا ہے جہاں چوبیس گھنٹے پہلے دہشت کا راج تھا وہاں اگلے ہی دن لوگ اسی جوش و جذبے اور اسی زندہ دلی کے ساتھ موجود تھے اور دلوں کو گرمانے والے نعرے لگا رہے تھے اور ان کے چہروں سے نہیں لگتا تھا کہ وہ گزشتہ روز کے واقعے سے خوفزدہ ہوگئے ہیں۔ دشمن کو یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ وہ پاکستانیوں کے عزائم کو ناکام نہیں بنا سکتا اور دکھ اور سوگ کی فضا میں بھی وہ اپنے حوصلے بلند رکھتے اور جذبے توانا رکھتے ہیں۔ یہ پیغام سرحد پار بھی پوری توانائی اور قوت کے ساتھ پہنچا دیا گیا ہے۔

مزید :

اداریہ -