روایتی ایندھن کا استعمال جاری رہا تو دنیا نہیں بچے گی، اقوام متحدہ

روایتی ایندھن کا استعمال جاری رہا تو دنیا نہیں بچے گی، اقوام متحدہ

  

کوپن ہیگن (آن لائن) اقوام متحدہ نے کہا کہ دنیا کو خطرناک موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانا ہے تو فوسل ایندھن کے اندھا دھند استعمال کو جلد ہی روکنا ہوگا۔یہ بات اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ایک پینل انٹر گورنمنٹل پینل فار کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی)نے خبردار کرتے ہوئے کہی جس کا کہنا ہے کہ اگر دنیا کو بچانا ہے تو 2100 تک فوسل ایندھن کے استعمال کو مکمل طور پر ختم کرنا ہو گا۔(آئی پی سی سی) نے کہا ہے کہ سال 2050 تک دنیا کی زیادہ تر بجلی کی پیداوار کو لازمی طور پر کم کاربن خارج کرنے والے ذرائع سے بنانا ہو گا اور ایسا کیا جا سکتا ہے۔اس پینل نے اپنی واضح اور برملا رپورٹ میں لکھا ہے کہ اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو دنیا کو ’ایک سرایت کرنے والے شدید ترین اور ناقابلِ واپسی‘ تباہی کا سامنا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق برموقع کارروائی نہ کرنے سے ہونے والا نقصان ضروری اقدامات کیے جانے پر ہونے والے اخراجات سے ’کہیں زیادہ‘ ہوگا۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ ’سائنس نے اپنی بات سامنے رکھ دی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ اب لیڈروں کو کارروائی کرنی چاہیے۔ ہمارے پاس بہت زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔‘سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ماحولیات میں تبدیلی کے اثرات پہلے سے ہی ظاہر ہو رہے ہیں اور اس پر اقدامات نہ کرنے کے بہت برے اثرات ہوں گے ،سائنسدانوں اور سرکاری حکام کے درمیان شدید بحث کے ایک ہفتے بعدکوپن ہیگن میں اس رپورٹ کے کچھ مرتب شدہ اقتباسات شائع کیے گئے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ’جیسا کہ آپ اپنے بچے کو بخار ہونے پر کرتے ہیں، سب سے پہلے ہمیں درجہ حرارت میں کمی کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے فوری طور پر اور بڑے پیمانے پر کارروائی کیے جانے کی ضرورت ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’ایک مفروضہ ہے کہ ماحولیات کو بہتر کرنے کے اقدامات پر زیادہ اخراجات اٹھیں گے مگر کوئی قدم نے اٹھانے کی قیمت کہیں زیادہ ہے۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایک بیان میں کہا کہ ’رپورٹ میں دیے گئے واضح انتباہ کو نظر انداز یا اس پر تنازعہ کرنے والے ہمارے بچوں اور ان کے بچوں کے مستقبل کو شدید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘

رپورٹ کے اہم نکات کچھ اسطر ح ہیں ۔ عالمی ماحولیاتی حدت پہلے سے بہت بڑھ کر ہے اور اس پر انسان کے اثرات واضح ہیں، 1983 سے 2012 کے درمیان کا عرصہ گذشتہ 1400 سال میں سب سے گرم ترین 30 سال کا عرصہ تھا۔ اس حدت کے اثرات دنیا میں ظاہر ہو رہے ہیں جن میں آرکٹک کی برف کا پگھلنا، سمندروں کی تیزابیت اور دنیا میں فضلوں کی پیداوار میں کمی ہے۔ کاربن میں کمی کے حوالے اس اقدامات نہ کیے جانے پر درجہ حرارت 5 سیلسئس تک صنعتی انقلاب کے پہلے کے دور سے زیادہ جا پہنچے گا، گلوبل وارمگ یا عالمی ماحول میں بڑھتی حدت کو 2 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے کو جو فیصلہ 2009 میں کیا گیا تھا اس پر عمل کے لیے اخراج فوراً کم کرنا ہوگا۔ بجلی کی پیداوار کو تیزی سے کوئلے کی بجائے نئے اور دیگر کم کاربن والے ذرائع میں تبدیل کرنا ہوگا جس میں جوہری توانائی بھی شامل ہے۔ توانائی کے شعبے میں قابل تجدید ذرائع کے موجود حصے کو 30 فیصد سے بڑھا کر 2050 تک 80 فیصد تک ہو جانا چاہیے۔ فوسل ایندھن سے توانائی کی پیداوار کو 2100 تک مکمل طور پر بند کرنا ہوگا۔گذشتہ 13 ماہ کے دوران شائع (آئی پی سی سی) کی تین رپورٹوں میں ماحولیاتی تبدیلی کی وجوہات، اثرات اور ممکنہ حل کا خاکہ دیا گیا ہے۔ان رپورٹوں میں ان تینوں کو ایک ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ تاکہ 2015 کے آخر تک موسمیاتی تبدیلی پر ایک نئے عالمی معاہدے کی کوششوں میں مصروف سیاستدانوں کو معلومات فراہم کی جا سکیں۔

مزید :

عالمی منظر -