حکومت کی علان کردہ گندم کی قیمت تیرہ سو روپے فی من مسترد کرتے ہیں

حکومت کی علان کردہ گندم کی قیمت تیرہ سو روپے فی من مسترد کرتے ہیں

  

لاہور(آن لائن) کسان بورڈ پاکستان کے سیکرٹری جنرل ملک محمد رمضان روہاڑی نے حکومت کی اعلان کردہ قیمت تیرہ سو روپے فی من کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت گندم کی کم از کم قیمت پندرہ سو روپے فی من مقرر کی جائے کیونکہ بجلی ،کھاد ،کیڑے مار ادویات اور دیگر زرعی مداخل کی قیمتوں میں تیس فی صد اضافہ ہوچکا ہے اس لیے یہ قیمت اونٹ

کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہا کہ زرعی مداخل کھاد ، بیج ، ڈیزل اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے اجناس کی پیداواری لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اور کاشتکاری گھاٹے کا سودا بن چکا ہے ، ہمارا مطالبہ ہے کہ گندم کی کم از کم قیمت پندرہ سو روپیہ فی من اور بجلی کا مناسب فلیٹ ریٹ مقرر کیا جائے اگر گندم کی قیمت نہ بڑھائی گئی تو کاشتہ رقبے میں کمی واقع ہو کرآٹے کا بحران پیدا ہو گا اور ملک میں قحط سالی کی صورت حال پیدا ہو جائے گی ۔ بجلی کی ہوش ربا قیمتوں نے پوری قوم اور خصوصاً کسانو ںکو کرنٹ لگا دیا ہے ۔ہم نے بار بار گندم اور گنے کی قیمتوں کو بڑھانے کامطالبہ کیا مگر تاجر حکمرانوں نے اپنے چہیتے شوگر مل مالکان اور فلور مل مالکان کو نوازنے کیلیے قیمتوں میں اضافہ کرنے سے انکار کردیااور ہمارے جائز مطالبات کو بھی نہیں مانا ۔بے حس حکمرانوں کے رویے نے ملک بھر کے کروڑوں کسانوں کو احتجاج پر مجبور کردیا ہے۔اس سال سیلاب کی وجہ سے گندم کے کاشتہ رقبے پر ابھی تک پانی کھڑا ہے ،سیلابوں کی وجہ سے کاشتکاروں کا گندم کا بیج خراب ہوچکا ہےاور کسانوں کے پاس گندم کاشت کرنے کیلیے پیسے نہیں ہیں۔،شوگر ملوں کے سیزن لیٹ کرنے کی وجہ سے بھی گندم کے کاشتہ رقبہ میں پچیس فی صد کمی ہوگی ،بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور پانی کی کمی کی وجہ سے بھی گندم کے کاشتہ رقبہ میں کمی ہو جائے گی اس لیے اگر گندم کی قیمت بھی نہ بڑھائی گئی تو آئندہ سال حکومت کا گندم کا ٹارگٹ پورا نہ ہوسکے گااور ملک میں آٹے کے بحران سے قحط سالی ننگا ناچ ناچے گی۔۔انہوں نے گندم کی کم از کم قیمت پندرہ سو روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔

مزید :

کامرس -