دھماکے میں ایک ہی خاندان کے 9افراد کی میتیں آبائی گاﺅں پہچنے پر کہرام مچ گیا

دھماکے میں ایک ہی خاندان کے 9افراد کی میتیں آبائی گاﺅں پہچنے پر کہرام مچ گیا ...

  

     فیصل آباد،سمندری(بیورو رپورٹ، نامہ نگار)واہگہ بارڈر لاہور پر خودکش دھماکے میں جاں بحق ہونے والے ایک ہی خاندان کے 9 افراد کی میتیں آبائی علاقے سمندری پہنچادی گئیں،ایک ہی خاندان کے نو افراد کی میتیں آبائی علاقے میں پہنچی تو ہر طرف کہرام مچ گیا،لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات واہگہ باڈر دھماکے میں جاں بحق ہونےوالے ایک ہی خاندان کے9افراد کی میتیں فیصل آباد کی تحصیل سمندری پہنچائی گئیں ۔چک نمبر 471 گ ب کے رہائشی محمد ظفر کے خاندان کے 18 افراد رشتہ داروں کے ہاں لاہور گئے ہوئے تھے۔بد قسمت خاندان کی دھماکے میں چار خواتین اور پانچ بچیاں جاں بحق ہوگئیں۔جن میں 25 سالہ عمرانہ،17 سالہ زاہدہ،17 سالہ جویریا، 55 سالہ رمظانہ بی بی ،3سالہ امان فاطمہ،3 سالہ ہادیہ،3سالہ رباب ،4سالہ حور یاسمین اور 5سالہ حلیمہ سعدیہ شامل ہیں ۔میتیں آبائی علاقے پہنچیں تو علاقے میں کہرام مچ گیا اور ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔لوگ ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتے رہے ۔

لا ہور (کرا ئم سےل )واہگہ بارڈر پر دھماکےمیں جاں بحق ہونے والے 48 افراد کی میتیں ورثاءکے حوالے کر دی گئیں ،متعدد افراد کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد میتیں ابائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں، شہید ہونیوالے تین رینجرز اہلکاروں کی نماز جنازہ ہیڈ کوارٹر میں ادا کی گئی۔تفصےلا ت کے مطا بق واہگہ بارڈر پر ہونے والے اندوہناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے2 افراد کی شناخت ہو گئی ہے۔ مرنے والوں میں چھ سالہ سبحان وارث ٹاون شپ لاہور ، پانچ افراد شالیمار لاہور کے رہائشی تھے جن میں ساٹھ سالہ پرویز ، 50 سالہ رفیق ، بتیس سالہ عبدالستار ، دس سالہ مظہر اور اٹھائیس سالہ عمیرہ شامل ہیں۔ 5سالہ زبیشا کا تعلق دیو سماج روڈ ، 40 سالہ یاسمین اور 14 سالہ رمیشا کا تعلق ساندہ سے ،50 سالہ رفیق ، جلوپارک اور 65 سالہ حاجی شبیر اڈہ شبیل کا رہنے والا تھا۔ پچپن سالہ عبدالرزاق کا تعلق کراچی کے علاقے کلفٹن ، اٹھائیس سالہ صادق شادمان ٹاو¿ن کراچی اور چونتیس سالہ عرفان ، لانڈھی کراچی کا رہائشی تھا جبکہ سکندر نامی شہری بھی کراچی کا رہائشی تھا۔ 28 سالہ عمرانہ بی بی ، 65 سالہ رمضان بی بی اور 21 سالہ زبیریا کا تعلق فیصل کے قریبی علاقے سمندری سے تھا۔ ایک شخص کی شناخت عبداللہ اقبال ، سات سالہ بچی کی شناخت نادیہ کے نام سے ہوئی ہے۔ 48 افراد کی میتیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں جن میں لاہور کے ایک ہی خاندان کے پانچ افرا د 12 سالہ مظہر، اس کا والد رفیق، دو ماموں پرویز، عبد الستار اور ممانی عمیرہ جاں بحق ہو گئے عمیرہ ، سمندری سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے نو افراد کی میتیں بھی شامل ہیں۔ لاہور میں القادسیہ مسجد میں نو افراد کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی گئی جس کے بعد ایک خاتون اور بچے سمیت تین افراد کی میتیں پشاور روانہ کر دی گئیں۔ پانچ افراد کی متیں کراچی جبکہ ایک شخص کی میت ابائی علاقے ٹنڈو ادم روانہ کر دی گئی ہے۔ واہگہ بارڈر پر اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے رینجرز اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی جس کے بعد میتیں ان کے ابائی علاقوں میں روانہ کر دی گئیں ، رینجرز کے شہداءکی نماز جنازہ میں گورنر پنجاب اور ڈی جی رینجرز پنجاب نے بھی شرکت کی۔دوسری جانب سانحہ واہگہ بارڈر میں شہید ہونے والے زیادہ تر لوگوں دوسرے شہروں سے تعلق رکھتے تھے۔میو ہسپتال کے ڈیڈ ہاوس میں 50افراد کی نعشیں لائی گئیں جن میں 15خواتین اور 35مرد شامل ہیں۔شہیدوں میں سرور خان،نذیراں بی بی ،قمر جہاں،کیپٹن شمائلہ،محمد نوید،زاہدہ بی بی،ایمان بی بی ،محمد بلال،حکم اللہ،محمد کاشف، کانسٹیبل ارشاد ،خلیال احمد،سبحان وارث،زبیراں بی بی ،منظور احمد،شاہد ندیم ،محمد شہزاد،نصیر احمد،محمد پرویز،حمیرہ بی بی ،حاجی محمد رفیق،محمد سیق ،رباب بی بی،حدیبہ بی بی،محمد دلاور ،محمد عرفان قادری ،محمد ستار،حادیہ بی بی،عزیز الرحمٰن ،رمضانہ بی بی،یاسمین بی بی،اظہتہ اللہ،عمرانہ بی بی،روباشہ بی بی،انیسہ بی بی،خالد خان،محمد وارث،محمد عابد،شہزاد الرحمٰن ،حمزہ رحمٰن ،عبد اللہ اقبال،عبد الرزاق ،حلیمہ سادیہ،جید خان اور دو نامعلوم مرد شامل ہیں۔جبکہ خودکش حملہ آور کی ٹانگیں بھی مردہ خانہ میں جمع کروا دی گئی ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -