کینال روڈ پر لاہور کے 12انڈر پاس انتہائی مہلک بن گئے

کینال روڈ پر لاہور کے 12انڈر پاس انتہائی مہلک بن گئے

  

لاہور(شہبازا کمل جندران/انوسٹی گیشن سیل) کینال روڈ پر لاہور کے 12انڈر پاس انتہائی مہلک بن گئے۔سی اینڈڈبلیو اور ایل ڈی اے کی غفلت کے باعث ان انڈ ر پاسوں کے نیچے سے گزرنے والی کسی بھی بڑی گاڑی کو روکنے یا خبردار کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔جس کے باعث آئے روز بسوں ، مسافر گاڑیوں اور ٹرکوں کا ان انڈر پاسوں میں پھنسنااور لوگوں کی جانیں جانا معمول بن چکا ہے۔ سی اینڈڈبلیو کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ 8انڈرپاسوں پر بیرئیر اور احتیاطی تدابیر لوہا چوروں کا ایک گروپ ً چوری ً کرلیتا ہے۔ جبکہ ایل ڈی اے و ٹیپانے ذمہ داری لینے سے انکار کرتے ہوئے کسی ایک بھی انڈر پاس کی تکمیل ، مرمت یا سپروئین سے انکار کیا ہے۔ہیں۔معلوم ہواہے کہ لاہور کینال پر واقع 12انڈرپاسز میں سے 8انڈر پاس، ڈاکٹر ہسپتال انڈر پاس، جناح ہستپال انڈر پاس، گلزار انڈر پاس مسلم ٹاﺅن، ظہور الہٰی انڈر پاس ایف سی کالج ، مال روڈ انڈ رپاس، ددھرمپورہ انڈر پاس اور نہر عبور کرنے کے لیے پنجاب یونیورسٹی کے اندر بنائے جانے والے دو انڈرپاس محکمہ مواصلات و تعمیرات کی نگرانی میں ہیں ۔ اور سی اینڈڈ بلیو نے ہی مذکورہ انڈرپاس تعمیر بھی کئے ہیں۔جبکہ کیمپس انڈر پاس، اچھرہ انڈر پاس، جیل روڈ انڈر پاس،اور مغلپورہ انڈر پاس سمیت چار انڈر پاس ایل ڈی اے ، ٹیپا کی نگرانی میں ہیں۔ مذکورہ انڈرپاسوں کی اونچائی15فٹ سے کم ہے۔ جس کی وجہ سے بسیں، ٹرک اور دیگر بڑی گاڑیاں ان انڈر پاسوں سے نہیں گزرسکتیں۔لیکن ذرائع سے معلوم ہواہے کہ اکثر اوقات راستوں سے ناواقف انجان ڈرائیور بڑی مسافر گاڑیوں کو لیکر ان انڈر پاسوں سے گزرنے کی کوشش کرتے ہوئے بہت سی قیمتی جانوں کے ضیا ع کا باعث بنتے ہیں۔لیکن جانوں کے اس ضیاع میں سی اینڈڈبلیو اور ایل ڈی اے و ٹیپا کے ذمہ داروں کی غفلت سر فہرست شامل ہوتی ہے۔اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے ایل ڈی اے اور ٹیپا کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ شہر کا کوئی ایک بھی انڈر پاس ان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ یہ کام ضلعی حکومت کا ہے۔ چیف انجنئیر ٹیپا سیف الرحمن کا کہناتھا کہ انڈر پاس یا تو سی اینڈڈبلیو کے کنٹرول میں ہیں۔ یا پھر ضلعی حکومت کے اور ٹیپا کا ان سے کچھ تعلق نہیں ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -